آپ آف لائن ہیں
اتوار 4؍رمضان المبارک 1439ھ 20؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Britain Separation From European Union Is Also Harmful For Pakistan

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد یورپی یونین میں پاکستان کی جی ایس پی پلس کی حیثیت خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔

برطانوی ہفت روزہ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد پاکستان یورپی یونین میں اپنا ترجیحی درجہ بچانے والے ملک سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

x
Advertisement

پولیٹیکو یورپ میں چھپنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین سالوں کے دوران پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 38 فیصد بڑھ کر چھ ارب بیس کروڑ یورو ہو گئی ہے جس سے یورپی یونین پاکستان سے تجارت کرنے والی سب سے بڑی منڈی بن گیا ہے۔

پاکستان کو یورپی یونین نے 2014 میں جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرینس پلس یعنی جی ایس پی پلس کا درجہ دیا تھا جس کے تحت پاکستانی مصنوعات خاص طور پر ٹیکسٹائل کو ترجیحی بنیادوں پر یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل تھی۔

پولیٹیکو لکھتا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور بریگزیٹ کے بعد پاکستان کے لیے دوبارہ یہ درجہ حاصل کرنا بہت مشکل ہو گا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ واجد خان کا کہنا ہے کہ جرمنی اور فرانس نے پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس دینے کی مخالفت کی تھی اور یورپی یونین کے ممالک کو پاکستان میں انسانی حقوق کے حالات پر تشویش ہے، یورپی یونین میں پاکستانی سفارتکاروں کو موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔

جی ایس پی پلس کی تجدید ہر دو سال بعد ہوتی ہے، پاکستان کی اس سال تجدید ہو چکی ہے، اب تجدید 2020 میں ہو گی۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں