• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن ایکٹ 2017 کے بارے میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا متن

گزشتہ سے پیوستہ

37۔انتخابی عمل میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات کے انعقاد اور اس سے متعلقہ معاملات اور ضمنیات سے متعلق وقتاً فوقتا ًقوانین بنائے جاتے ہیں ۔قوانین کے آٹھ سیٹ ہیں جو کہ انتخابی عمل کے متعدد عوامل سے تعلق رکھتے ہیں جن میں الیکٹوریل رولز کی تیاری ، حلقوں کی حد بندی، انتخابات کے انعقاد سے متعلق معاملات، انتخابی نشان کا تعین اور سیاسی جماعتوں کے قیام سے متعلق ہیں۔ان قوانین میں سے آخری قانون سیاسی جماعتوں سے متعلق ہے، جسے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر،2002(2002کاچیف ایگزیکٹیو آرڈر نمبر18)کہا جاتا ہے۔ان تمام قوانین کو مستحکم اور یکساں کرنے کی خاطر تاکہ انتخابی عمل کے متعدد عوامل کی نگرانی کی جاسکے اور انتخابی عمل ممکن بنایا جاسکے، ایک نیا قانون 02-10-2017کو نافذ کیا گیا ، جسے الیکشن ایکٹ،2017کا نام دیا گیا۔یہ ایکٹ دیگر چیزوں کے ساتھ سیکشن2(xxviii)میں سیاسی جماعت کی تعریف کرتا ہے۔یہ شق ، آسانی کے لیے دوبارہ بنائی گئی ۔

سیاسی جماعت سے مراد شہریوں کی ایسوسی ایشن یا اس طرح کی ایسوسی ایشنز کے گروپ کو یکجا کرنا تاکہ سیاسی رائے عامہ کا پرچار یا اسے اثرا نداز کرنا اور کسی بھی عوامی عہدے یا قانون ساز ادارے، جس میں اسمبلی، سینیٹ اور لوکل گورنمنٹ شامل ہیں کی رکنیت کے لیے انتخابات میں حصہ لینا ۔

38۔درج بالا سیاسی جماعت کی تعریف وہی ہے جو کہ پرویژن آف آرڈر ،2002کے تحت تھی۔تعریف کے تناظر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ سیاسی جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد سیاسی رائے عامہ کا پرچار یا نفوذ ہے، تاکہ عوامی عہدے یا قانون ساز ادارے کی رکنیت کے انتخابات میں حصہ لیا جاسکے۔لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی جماعت کی رکنیت حاصل کرنے کا مقصدانتخابات میں حصہ لے کر درج بالا مقاصد کا حصول ہے ، تاکہ اسمبلیوں میں جاکر حکمرا ن جماعت کا قیام یا اس کا حصہ بننا ہوتا ہے۔

39۔سیاسی جماعت کے قیام کے حق کو آئین میں بنیادی حق تسلیم کیاگیا ہےاور یہ بنیادی حق مزید تفصیل کے ساتھ اس بات کی عکاسی کرتا ہے جو کہ الیکشن ایکٹ،2017کے سیکشن 203کے تحت ہے۔الیکشن ایکٹ،2017کا چیپٹر IIسیاسی جماعتوں اور اس کے قیام کے متعدد قانونی اور عملی قیام،رکنیت، اعمال، داخلی انتخابات، سرٹیفکیشن، فنڈنگ، نشان الاٹ کرنے سے متعلق ہے ۔الیکشن ایکٹ ،2017کا سیکشن 208سیاسی جماعت کے اندر انتخاب سے متعلق ہے اور اس کے مطابق، سیاسی جماعت کا ، رکن سیاسی جماعت کے آئین کا پابند ہوتا ہے، جسے سیاسی جماعت کے کسی بھی عہدے کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کا برابری کی سطح پر موقع دیا جاتا ہے ۔اس کے مطابق، سیاسی جماعت کاآئین ہونا چاہیئے اور سیاسی جماعت کے تمام ارکان جو وفاق، صوبائی اور لوکل سطح پر الیکٹورل کالج قائم کریں تاکہ پارٹی کی جنرل کونسل کا انتخاب متعلقہ سطح پر ہوسکے۔الیکشن ایکٹ،2017کے سیکشن 209سیاسی جماعت کے سرٹیفکیشن سے متعلق درج ذیل شرائط کے ساتھ ہے۔

209، سیاسی جماعت کی جانب سے سرٹیفکیشن۔(1)سیاسی جماعت انٹرا پارٹی الیکشنز کے مکمل ہونے کے سات روز کے اندر سرٹیفکیٹ جمع کرائے گی ، جس پر پارٹی سربراہ کی جانب سے مجاز آفس عہدیدار کے دستخط ہوں گے ۔یہ سرٹیفکیٹ کمیشن کو جمع کرایا جائے گا جس کا تعین انتخابات کے انعقاد سے ہوگا جو کہ سیاسی جماعت کے آئین کے تحت ہوگا اور یہ عمل عوامی عہدیداروں کو وفاقی، صوبائی اور لوکل سطح پر ، جہاں اطلاق ہوگا ، انتخاب سے متعلق ہوگا۔

(2)ذیلی سیکشن 1کے تحت سرٹیفکیٹ میں درج ذیل معلومات ہونا چاہئے۔

(a)آخری انٹرا پارٹی الیکشن کی تاریخ

(b)وفاقی، صوبائی اور لوکل سطح پر منتخب عوامی عہدیداروں کے نام ، عہدے اور پتہ

(c)انتخابی نتائج، اور

(d)سیاسی جماعت کے نوٹفکیشن کی نقل جس میں انتخابی نتائج کا اعلان کیا گیا ہو۔

(3)کمیشن ، سیاسی جماعت کے سرٹیفکیٹ کی رسید موصول ہونے کے سات روز کے اندر ذیلی سیکشن 1کے تحت سرٹیفکیٹ کو ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔

40۔لفظ’’پارٹی سربراہ‘‘ کی تعریف آئین کے آرٹیکل 63A میں کی گئی ہے، جس کا مطلب کسی بھی شخص کو جسے کسی بھی نام سے پکارا جائے ، جو کہ پارٹی قرار دے گی۔پارٹی سربراہ کئی اہم ذمہ داریاں نبھاتا ہے، جو میں بہت سے امور شامل ہیں تاہم صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے، اس میں سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا قیام، سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کی تعیناتی ، پارٹی کے سینٹرل پارلیمانی بورڈ کی سربراہی،پارلیمانی جماعت کے لیڈر ہونے کی حیثیت سے اور دیگر اہم ذمہ داریاں شامل ہیں۔یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی جماعت کا صدر ہی دراصل پورے ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔وہ تمام فیصلوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہےاور اس عہدے کو تفویز کردہ تما م اختیارات کا استعمال کرتا ہے تاکہ ادارہ کے تمام امور آئین اور آئین کے تحت بنائے گئے قوانین کے تحت انجام پائیں ۔

الیکشن ایکٹ،2017کے سیکشن 209کے تحت سرٹیفکیشن جسےکمیشن کو جمع کرانا ہوگا ، جو کہ انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق ہوگا جس پر اس عوامی عہدیدار کے دستخط ہوں گے جسے پارٹی سربراہ نے مجاز بنایا ہوگا۔الیکشن ایکٹ،2017کے سیکشن 210کے تحت فنڈز کے ذرائع سے متعلق معلومات جو کہچارٹرڈ اکائونٹنٹ کی رپورٹ کی صورت میں ہوگی ، کمیشن کے پاس جمع کرانا ہوگی ، جو پارٹی سربراہ کی جانب سے متعین کردہ عوامی عہدیدار کو جمع کرانا ہوگی۔الیکشن ایکٹ،2017کے سیکشن 216کے تحت عام انتخابات کے حوالے سے اپنی مرضی کے نشان کے حصول کے لیے درخواست پر پارٹی سربراہ دستخط کرے گا، جسے جو بھی عہدہ دیا گیا ہوگا۔

41۔پارٹی سربراہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ، جب بھی ارکان پارلیمنٹ کو نااہل کرنے کے لیے طریقہ کار کے حوالے سے معاونت کی ضرورت ہوگی ، جو کہ کسی خرابی کی بنیاد پر ہوگی تو پارٹی سربراہ کوپارٹی میں اپنے طاقتور عہدے کے باعث فیصلہ کن کردار دیا گیا ہوگا ، جس کا مقصد اس کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین آئین اور پارٹی پالیسی کے مطابق عمل پیرا ہوں جو کہ پارٹی سربراہ کی ایما پر یا اس کے ذریعے بنائی گئی ہوں۔جس خرابی کا عدالت نے ادراک کیا وہ ان پر(پارلیمنٹیرین)جواعتماد ووٹروں نے کیا ہے ، اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور نمائندوں کو گمراہ کیا گیا ہے۔جس کا پس منظر یہ ہے کہ پوری کائنات کا مالک صرف اللہ عزوجل ہےاور جو اختیارات پاکستان کی عوام استعمال کرتی ہے وہ اس کی مقرر کردہ حدود کے تحت ایک مقدس امانت ہے۔

42۔ مندرجہ بالا امور کوذہن میں رکھتے ہوئے آئین کے(اٹھارہویں ترمیم)ایکٹ2010ء کو سہولت کیلئے درج ذیل میں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔آرٹیکل 63۔ الف (1) اگر کسی ایوان میںکسی تنہا سیاسی جماعت پر مشتمل پارلیمانی پارٹی کوئی رکن۔۔۔۔(الف )اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے مستعفی ہو جائے یا کسی دوسری پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو جائے؛ یا(ب) اس پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جس سے اس کا تعلق ہو، جاری کردہ حسب ذیل سے متعلق کسی ہدایت کے برعکس ایوان میں ووٹ دے یا ووٹ دینے سے اجتناب کرے۔۔۔(اول)وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب ؛یا(دوم )اعتما د یا عدم اعتماد کے ووٹ ؛ یا(سوم)کسی مالی بل یا دستور ی (ترمیمی)بل؛تو پارٹی کا سربراہ تحریری طور پر اعلان کر سکے گا کہ وہ اس سیاسی جماعت سے منحرف ہوگیا ہے،اور پارٹی کا سربراہ اعلان کی ایک نقل ریٹرننگ افسر اور چیف الیکشن کمشنر کو بھیج سکے گااور اسی طرح اس کی ایک نقل متعلقہ رکن کو بھیجے گا:مگر شرط یہ ہے کہ اعلان کرنے سے پہلے ، پارٹی کاسربراہ مذکورہ رکن کو اس بارے میں اظہار وجوہ کا موقع فراہم کرے گا کہ کیوں نہ اس کے خلاف مذکورہ اعلان کر دیا جائے۔تشریح: ’’پارٹی کا سربراہ‘‘سے کوئی شخص ، خواہ کسی بھی نام سے پکارا جائے، پارٹی کی طرف سے جیسا کہ مظہرہ ہومرادہے۔(2)کسی ایوان کا کوئی رکن کسی پارلیمانی پارٹی کا رکن ہوگا اگر وہ ، ایسی سیاسی جماعت کے جو ایوان میں پارلیمانی پارٹی تشکیل کرتی ہو، امیدوار یانامزدکے طور پرمنتخب ہوکریا، کسی سیاسی جماعت کے امیدوار یا نامزد کی حیثیت کے علاوہ بصورتِ دیگرمنتخب ہوکر،مذکورہ انتخاب کے بعد تحریری اعلان کے ذریعے مذکورہ پارلیمانی پارٹی کا رکن بن گیا ہو۔(3)شق (1)کے تحت اعلان کی وصولی پر،ایوان کا افسر صدارت کنندہ دو دن کے اندر وہ اعلان چیف الیکشن کمشنر کو بھیج دے گا،اور اگر وہ ایسا کرنےمیں ناکام ہو جائےتو یہ متصور کیا جائے کہ اس نے ارسال کر دیاہے،جو اعلان کو الیکشن کمیشن کے سامنے اس کے بارے میں چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے اس کی وصولی کے تیس دن کے اندر اعلان کی توثیق کرتےہوئے یا اس کے برعکس اس کے فیصلے کے لئے رکھے گا۔(4)جبکہ الیکشن کمیشن اعلان کی توثیق کردے،تو شق (1) میں محولہ رکن ایوان کا رکن نہیں رہے گااور اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔(5)الیکشن کمیشن کے فیصلے سے متاثرہ کوئی فریق،تیس دن کے اندر،عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کر سکے گاجو اپیل داخل کرنے کی تاریخ سے نوے دنوں کے اندر اس معاملہ کا فیصلہ کرے گی۔(6)اس آرٹیکل میں شامل کسی امر کاکسی ایوان کے چیئرمین یاسپیکر پر اطلاق نہیں ہوگا۔(7)اس آرٹیکل کی اغراض کیلئے ۔۔۔۔۔(الف)’’ایوان ‘‘سے وفاق کے تعلق سے قومی اسمبلی یا سینٹ اور صوبہ کے تعلق سے صوبائی اسمبلی مراد ہے،جیسی بھی صورت ہو؛(ب)’’افسر صدارت کنندہ‘‘سے قومی اسمبلی کا سپیکر،سینٹ کا چیئرمین یا صوبائی اسمبلی کا سپیکر مرادہے،جیسی بھی صورت ہو۔

43۔ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی شقوں کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کا ایک رکن اگر پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوتاہے یا کسی اور پارلیمانی پارٹی میں شامل ہوتا ہے یا پارلیمانی پارٹی کی کسی ہدایت سے انحراف کرتے ہوئے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب‘ اعتماد یا عدم اعتماد‘ منی بل یا کسی آئینی (ترمیم) بل میں ووٹ دیتا یا غیر حاضر رہتا ہے تو پارٹی سربراہ تحریری طور پر اس کے منحرف ہونے کا اعلامیہ جاری کر سکتا ہے اس صورت میں پارٹی سربراہ اس اعلامیے کی کاپی سپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینٹ آف پاکستان یا صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر کو اس رکن کی حیثیت کے مطابق بھیجے گا جبکہ چیف الیکشن کمشنر کو بھی کاپی بھیجی جائے گی۔ یہ ڈیکلریشن وصول ہونے اور کمیشن سے اس کی توثیق کی صورت میں یہ ممبر ایوان کی رکنیت سے فارغ ہو جائے گا اور نشست خالی ہو جائے گی۔اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ پارٹی سربراہ کی طرف سے اعلان جاری ہونے سے پارلیمانی پارٹی کے ایک رکن کی نا اہلی کا عمل شروع ہو سکتا ہے اور یہ اعلامیہ روک کر وہ اس رکن کو اس نتیجے سے بچا سکتا ہے۔ اس طرح یہ صوابدید اور اختیار پارٹی سربراہ کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ اس کے بارے میں کیس چلا سکتا ہے اور اسے بری بھی کر سکتا ہے۔

44۔ آرٹیکل 63 اے کو الگ کر کے نہیں پڑھا جا سکتا، اسے آئین کی دیگر شقوں اور آئین کی اس ’’عمومی سکیم‘‘ کو مدنظر رکھ کر پڑھنا اور اس کی تشریح کرنا ہو گی جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اسے نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کوئی اکیلی قابل پیروی نہیں بلکہ اسے آرٹیکل 63 سمیت دیگر آرٹیکلز کے ساتھ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھنا ہو گا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے جسے ہر دور کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا اور اخذ کیا گیا ہے۔ اس رحجان کو اس عدالت نے صوبہ سندھ بذریعہ چیف سیکرٹری بنام ایم کیو ایم بذریعہ ڈپٹی کنوینر (پی ایل ڈی 2014 ایس سی 531) آرٹیکل 162کے تحت صدر پاکستان کے ریفرنس (پی ایل ڈی 1957 ایس سی 219) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی بذریعہ ڈی جی وغیرہ بنام ایم ایس عمرانہ ٹوانہ وغیرہ(2015 ایس سی ایم آر 1739) میں اختیار کیا۔

45۔ آرٹیکل 63 اے‘ الیکشن ایکٹ 2017ء اور مستغیث نمبر 3 پاکستان مسلم لیگ(ن) کے آئین کو ملا کر پڑھنے سے یہ ناگزیر نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ صدر /پارٹی سربراہ کا پارٹی کے اندر‘ انتخابی عمل اور پارلیمانی پارٹی کے ذریعے پارلیمان میں مرکزی اور فیصلہ کن کردار اور حیثیت ہے وہ اسے براہ راست کنٹرول کرتا اور اس کی نگرانی و دیکھ بھال کرتا ہے۔وہ دھرے کی کیل (لنچپن) اور مرکز ہے جس کے گرد پارٹی کا سارا ڈھانچہ گھومتا ہے جس کے ذریعے تمام عناصر کو اختیار ملتا ہے اور ارکان اور پارٹی کی سرگرمیاں چلتی ہیں‘اسےبراہ راست اختیار‘ اثر اور کنٹرول حاصل ہوتاہے کہ پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کس طرح کام کرتی ہے۔ اس کی اہمیت کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ تمام تر مواد ، اقدامات اور فیصلوں کے لئے اس کی منظوری ضروری ہوتی ہے اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ پارٹی کی ٹکٹوں کے اجرا سمیت تمام اہم پہلوئوں اور فیصلوں میں اسے ہی حتمی حیثیت حاصل ہوتی ہے‘ اس کے حوالے کے لئے سردار شیر بہادر خان بنام الیکشن کمیشن آف پاکستان (پی ایل ڈی 2018 ایس سی 97) کو دیکھا جا سکتا ہے۔پارٹی سربراہ کے اختیارات کے بارے میں خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 (2013XXXVIII) کی ملتی جلتی شقوں کی تشریح کرتے ہوئے ہم میں سے ایک (میاں ثاقب نثار ، چیف جسٹس) نے قرار دیا:۔’’اگر ایک پارٹی کا رکن کسی کونسل کے ناظم اور نائب ناظم کے انتخاب میں اپنی سیاسی جماعت کی ہدایات کے برخلاف ووٹ دیتا یا غیر حاضر رہتا ہے تو پارٹی سربراہ اسے سیاسی جماعت سے انحراف کرنے پر تحریری اعلان جاری کر سکتا ہے اور پارٹی سربراہ اس کی کاپی متعلقہ کونسل کے پریذائیڈنگ افسر اور چیف الیکشن کمشنر کو بھیج سکتا ہے۔تاہم اس سے قبل پارٹی سربراہ اس رکن کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھیجے گا کہ کیوں نہ اس کے خلاف اس کے انحراف کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا جائے۔تاہم تعریف کی شق کے مطابق ’’پارٹی سربراہ‘‘ سے مراد کوئی بھی شخص ہے چاہے اسے جس نام سے پکارا جائے۔ شوکاز نوٹس جاری کرنے، اس کے جواب کا جائزہ لینے اور اس کے منحرف ہونے کا اعلان کرنے کا اختیار پارٹی سربراہ کو حاصل ہے تاہم یہ اختیار پارٹی سربراہ کا نامزد نمائندہ بھی استعمال کر سکتاہے‘ سیاسی پارٹی ، پارٹی سربراہ کے بارے میں یہ شق ناصرف ناظم یا نائب ناظم کو ووٹ دینے یا غیر حاضر رہنے کے بارے میں ہے بلکہ اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ اور سالانہ بجٹ کی منظوری کے بارے میں بھی ہے‘‘

46۔ مستغیث نمبر4 کے فاضل وکیل کی یہ دلیل کہ آئین کے آرٹیکل 17 اور ایکٹ کے سیکشن 203 کو ملا کر پڑھنا ہو گا مگر آئین کے دیگر آرٹیکلز سے الگ رکھنا ہو گا، منطقی دلیل نہیں اور یہ آئین کی ’’عمومی سکیم‘‘ اور ساری آئینی تاریخ کے دوران اس عدالت کے بنائے گئے ہم آہنگ تشریح کے اصول کے بھی خلاف ہے۔ ایک شخص جو خود رکن پارلیمنٹ بننے کی اہلیت نہیں رکھتا آرٹیکل 63 اے کے تحت اسے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمانی ارکان کو نا اہل قرار دینے کا (خدائے مطلق کا) اختیار بھی نہیں دیا جا سکتا جو وہ ذات ’’مقدس اعتماد‘‘ کے طور پر دیتی ہے‘ ایسی تشریح مہمل وبے سروپا ہو گی۔یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کے ایسے شخص کو پارٹی سربراہ بنا کر پارٹی کے عوامی عہدہ رکھنے والے ان ارکان کی قسمت اور تقدیر کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے (جو آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کے تقاضے پورے کرتے ہیں) اور اس کے لئے ان آرٹیکلز کے تقاضے پورے کرنا ضروری نہ ہو۔اس قسم کی تشریخ نا صرف آئین کی اس سکیم، فوکس اور مصدر کے خلاف ہو گی جس پر اوپر بحث کی گئی ہے بلکہ اس سے آئین میں ان شقوں کو شامل کرنے کا مقصد ہی ختم ہو کر رہ جائے گا۔ اس ضمن میں حوالے کے لئے محمد نواز شریف بنام وفاق پاکستان(پی ایل ڈی 1993، ایس سی 473) کو ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔

47۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ آرڈر 2002کے سیکشن 5 اور ایکٹ 2017کے سیکشن 203 کےمفہوم میں تبدیلی ، وسعت اور تشریح اثر انداز نہیں ہوگی۔ مسلمہ ضابطہ قانون کے مطابق آئین کےآرٹیکل 62اور 63 کو کسی ذیلی شق کے ذریعے مسترد یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا ۔عبدالعزیز لبھا بنام صوبہ مغربی پاکستا ن اور ڈاکٹر مبشر حسن بنام وفاق کو بھی حوالہ بنایا جا سکتا ہے۔

48۔ اسی طرح قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی رکنیت سے اہلی و نااہلی سے متعلق شقیں اس شخص پر بھی لاگو ہوں گی جو کسی پارٹی کا سربراہ چنا گیا ہو،(a) پارٹی سربراہ اپنے اختیارات کے تحت تادیبی کارروائی کر سکتا ہے ، سبکدوشی کر سکتا ہے، اور یہ اختیارات آئین کے آرٹیکل 63A میں اسے تفویض کیے گئے ہیں ۔(b) سیکشن 209، 210 اور 216 اور الیکشن ایکٹ 2017ء سے ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی سربراہ اپنی جماعت کے اندر فیصلہ کن اختیارات کا مالک ہوتا ہے، وہ اپنے اختیارات کو استعما ل کرتے ہوئے حکومت سازی، وزیراعظم ، وزرائے مملکت ، مشیران ، وزرائے اعلیٰ ، صوبائی وزراء، صوبائی مشیران ، گورنرز،صدرکی تعیناتی سمیت سینیٹ و قومی اسمبلی میں پارٹی ارکان کے ووٹ کے طریقہ کار کا تعین کر سکتا ہے۔(c) یہ مضحکہ خیز اور غیر معقول ہو گا کہ اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ پارٹی سربراہ جماعت کے اندر تمام تر اختیارات کا ملک ہوتا ہے وہ ارکان کو کوئی عہدہ یا ذمہ داری دیتے ہوئے تو آرٹیکل 62 اور 63 کو مدنظر رکھے لیکن خود مذکورہ آرٹیکلز پر پورا نہ اترے۔ اس طرح کی تشریح اوپر بیان کردہ سکیم کے برخلاف ہوگی بلکہ ان شقوں کی آئین میں موجودگی کی وجہ بھی ختم کردے گی۔(d) آرڈر 2002ء کے سیکشن 5 کی شرط پارٹی سربراہ پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو لاگو کرتی ہے ، حالیہ بنائے گئے قانون سے ان کو ختم کردیناان کے مفہوم میں الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 203 کی تشریح کے حوالے سے تبدیلی نہیں کرےگا۔

49۔ مدعا علیہ نمبر 3 کے وکیل نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ آرٹیکل 17 کی شقیں علیحدہ پڑھی جائیں اور مذکورہ آرٹیکل کے تحت ایک شہری کا حق جو کہ ان (وکیل ) کے مطابق ایک پارٹی سربراہ کا حق ہے اس پر پابندیاں لگانے سے کمی نہیں ہوتی۔ ہم وکیل کی طرف سے آرٹیکل 17 سے متعلق دلائل کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں ، مذکورہ آرٹیکل ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے لیے مناسب پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

50۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اخلاقیات نظریہ پاکستان کا لازمی حصہ اورقرارداد مقاصد کی روح کے مطابق ہے۔ اس عدالت کا فیصلے میں بھی آئین کے بہت سے آرٹیکلز کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ عدالت پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ اخلاقیات نظریہ پاکستان کا لازمی حصہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اخلاقیات کے ایک مخصوص فریم ورک میں رہنا چاہیے جیسا کہ قرآن و سنت سے واضح ہے، کوئی مہذب معاشرہ اخلاقیات کے اس معیار سے انکار نہیں کرسکتا ، اس لیے ہمارے آئین میں جمہوری تصور کو انفرادی اور اجتماعی اخلاقیات کے حوالے سے اسلام کے مطابق سمجھا جانا چاہیے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اخلاقیات معاشرے کی روحانی اقدار کے لیے بنیاد جبکہ جمہوری طور پر آزادی ، مساوات ، تحمل اور معاشرتی انصاف مہیا کرتی ہے۔ اجتماعی طور پر سیاسی جماعتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ عوامی اخلاقیات اور سچائی کی محافظ بنیں ، سیاسی جماعتوں کو کھلا چھوڑ دینے کا مطلب ہے کہ اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں ، ایسی صورتحال بالآخر مملکت میں قانون کی پاسداری کے حوالے سے تباہ کن ہو گی ۔ اس لیے سیاسی جماعتوں پر اخلاقی معیار کو پورا کرنے کی کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،

51۔ مذکورہ بالا اصول طے کرتے وقت عدالت نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 17(2) حق اور پابندی کے اظہار پر مشتمل ہے، جو کہ آئینی طور پر تفویض کردہ ہے، اسی طرح اس کے بارے میں بالکل آزادی بھی نہیں ہے ۔

52۔ اگرچہ دوسری طرف آئین کی جنرل سکیم کی روشنی میں دستور کے آرٹیکل 17 کو پڑھا جائے،جس میں آئین کی بہت سے شقیں مجسم ہیں، لیکن یہ آئین کے آرٹیکل62 اور63تک محدود نہ ہو۔مزید برآں اورجو کچھ اوپر کہا گیا ہے اس کے تعصب کے بغیراس عدالت نے مکرر یہ کہا ہے کہ ماتحت قانون سازی آئینی شقوں کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ الفاظ ، مطالب، سکوپ، فلاسفی کو مکمل تاثیر دینے اور آئین کی سپرٹ کی کلی اہمیت کے لیے اس کےمطلب اور تشریح میں ہم آہنگی ہو۔یہ دلیل کہ پارٹی کا سربراہ جس آئینی اور لیگل فریم ورک میں کا م کرتا ہے وہ اس کی حد ، منشائے قانون اور سکوپ سے باہر ہے، اگر اسے قبول کر لیا جائے اس کا وہ غیر منطقی نتیجہ اور غیر معقول وجوہ سامنے آئیں گی آئین بنانے والوں نے کبھی اس کی ذہنی تصویر بنائی ہو گی نہ ارادہ کیا ہو گا ۔ دوسری باتوں کے علاوہ آرٹیکل63اےکوپارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے کام کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے آئین میں شامل کیا گیا ہے، یہ منوانا کہ آرٹیکل 63اے کا دستور کے آرٹیکل17سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں جو سیاسی جماعت بنانے اور اس میں شامل ہونے کی بنیاد فراہم کرتا ہے نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ دلیل سے بھی عاری ہے۔دونوں آرٹیکلز ایک ہی وسیع ایشو سے نمٹتے ہیں انہیں ایک ساتھ پڑھنا ، سمجھنا اور اس کی تشریح کرنی چاہئے۔

53۔ ایک شخص جو کنگ بننے کے لیے نااہل قرار دیا گیا ، اسے فری ہینڈ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کنگ میکر کے طور کام کرے، جو اہلیت سے محروم ہے اور انتخابی عمل سے بھی نہیں گزرا، وہ پپٹ ماسٹر کے طور کام کرے،ڈوریں ہلائے، بالواسطہ سیاسی طاقت استعمال کرے، یہ آئین کا مذاق اڑانے کے برابر ہے۔ قانون سازی کا عمل، قانون ،حکومت اور وہ اقدارجنہیں ہم عزیز رکھتے اور ان کے لیے محتاط انداز میں کام کرتے ہیں، اس کا دفاع کرتے ہیں اور یہ آئین میں بھی شامل ہے۔یہ انصاف اور قانون کاعظیم اصول ہے کہ جو کام براہ راست نہیں ہو سکتا وہ بالواسطہ بھی نہیں ہو سکتا۔(میاں نوازشریف مقابل صدر پاکستان کا ریفرنس دیا جا سکتا ہے)( پی ایل ڈی1993ایس سی473) صفحہ687

54۔آخر میں ،زورکے ساتھ یہ دلیل دی گئی کہ الیکشن ایکٹ2017کی شق 203اور232کو موجودہ شکل میں اس لیے شامل کیا گیا تا کہ ایک مخصوص فرد یا سیاستدانوں کے ایک گروہ کو فائدہ پہنچا یا جائے جو آئین کے آرٹیکل 62اور63کے تحت سرکاری عہدہ کے لیے نا اہل ہو چکے یانا اہل ہوں گے۔اس پر غور اور جو مواد ہمارے سامنے رکھا گیا تھا اس کے معائنے کے بعد یہ دلیل درست دکھائی دیتی ہے۔ہمیں یہ واضح تاثر ملا کہ آئین کے آرٹیکل62اور63کی روشنی میں نا اہل ہونے والوں کو اس کے نتائج سے بچانے ،تحفظ دینے ، ڈھال بننے اور حمایت کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ اگر ایکٹ 2017کی شق 203اور232 کی مندرجہ بالا زیر بحث دستوری شقوں کو آزادانہ طور پر پڑھا جائے ، اس سے سیاسی جماعتوں کو ریموٹ سے کنٹرول کیا جانے لگے لگا، مقننہ کو بالواسطہ طور پر ایسے افراد ڈکٹیٹ اور کنٹرول کریں گے آئین نے واضح اور غیر مبہم انداز میں جن کو سیاسی عمل سے بازاورمجلس قانون ساز سےالگ رکھا ہے، ہم نے پہلے ہی یہ فیصلہ دیا ہے کہ ذیلی قانون سازی آئین پر برتر نہیں اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی جھانسا دیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں مبرہن اور ناقص دستاویز کے ذریعے چند افراد کے حق میں مخصوص قانون سازی کی کوشش کی گئی تا کہ قانون کی عملداری اور آئینی فضا میں کام کرنے والی عدالتوں کےلیے تنازعہ پیدا کیاجائے، اس سوال کا عدالت نے مبشر حسن مقابل فیڈریشن آف پاکستان کے مقدمے میں بھی جائزہ لیا تھا ( پی ایل ڈی ایس سی265صفحہ نمبر353)اس کیس میں دو افراد کے مابین ذاتی مقاصد کے لیے ایک سمجھوتہ طے پایا تھا جس کے نتیجے میں ایک آرڈیننس نافذ کیا گیا ، جس کا مقصد چند افراد کی کلاس کو فائد پہنچا نا تھا۔اس آرڈیننس کو عدالت نے منسوخ کر دیا ، اس لیے کہ یہ آئین سے تجاوز تھا۔اس ضمن میں جماعت اسلامی مقابل فیڈریشن آف پاکستان، عبد العزیز مقابل پروونس آف ویسٹ پاکستان، پروونس آف ایسٹ پاکستان مقابل سراج الحق پٹواری، انعام الرحمان مقابل فیڈریشن آف پاکستان،صابر شاہ مقابل شاد محمد خان،ملٹی لائن ایسوسی ایٹس مقابل ارد کائو شیر جی، طارق نواز مقابل حکومت پاکستان ، آصف اسلام مقابل محمد آصف، فیڈریشن آف پاکستان مقابل محمد صادق، الٰہی کاٹن ملز لمیٹڈمقابل فیڈریشن آف پاکستان، اسلامک ری پبلک آف پاکستان مقابل عبد الولی خان،راجہ محمد افضل مقابل چوہدری محمد الطاف حسین، بے نظیر بھٹو مقابل فیڈریشن آف پاکستان، میاں نواز شریف مقابل فیڈریشن آف پاکستان، بے نظیر بھٹو مقابل صدر پاکستان، پاکستان لائرز فورم مقابل فیڈریشن آف پاکستان ، محمد شہباز شریف مقابل فیڈریشن آف پاکستان، وطن پارٹی مقابل فیڈریشن آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے مقدمہ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔تا ہم آئین کے آرٹیکلز62,63اور63اے کی تشریح کے تناظر میں ایکٹ2017کی شق 203کوہم نے منسوخ کرنے سے گریز کیا، جو اسےجنرل سکیم،مرکزی خیال اور آئین کی فقہی تخلیق سے ہم آہنگ کرتی ہے۔

-55عدالت کے مشاہدے میں آیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017کی دفعہ240جی کی بنیاد پر پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002کو منسوخ کیا گیا ہے ،اس تنسیخ کے اثرات 2اکتوبر 2017 کوجب یہ قانون لاگو ہوا تھا،سے مرتب ہوتے ہیں ،باالفاظ دیگر مذکورہ تاریخ تک پولیٹیکل پارٹیز آرڈر اپنی دفعہ 5کے ساتھ لاء آف لینڈ تھا ، مسول علیہ میاں نواز شریف کو ایماندار نہ ہونے کی بناء پرآرٹیکل 62(1)f کے تحت28جولائی 2017 کوعوامی عہدہ کے لئے نااہل قرار دینے کی حقیقت سے کسی نے انکار نہیں کیا ہے،نااہل قرار دیئے جانے کی تاریخ کو جو قانون لاگو تھا ،وہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002تھا ،جس کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے ریکارڈ سے مسول علیہ میاں نواز شریف کا بطور صدر، پاکستان مسلم لیگ ن ہٹایا تھا ۔

-56یہ واضح ہے کہ مسول علیہ میاں نواز شریف 28جولائی 2017 کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی دفعہ 5کے تحت پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت کے لئے نااہل ہو چکے تھے جبکہ 3ستمبر 2017کو الیکشن ایکٹ 2017لاگو ہونے کے بعد مسول علیہ میاں نواز شریف کی بطور صدر پاکستان مسلم لیگ ن تقرری واضح طور پر غیر قانونی تھی کیونکہ اس سے قبل وہ عوامی عہدہ کے لئے نااہل ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی سربراہ بننے کے لئے بھی نااہل ہو چکے تھے۔

57 )آئین کا آرٹیکل 264جسے جنرل کلازز ایکٹ کی دفعہ 6 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا اس ساری صورتحال کا احاطہ کرتاہے ،کہیں پر بھی ایکٹ یا( مرکزی ایکٹ )یا ریگولیشن کی جہاں سے آغاز ہوتا ہے ،کسی نافذ شدہ قانون کو منسوخ کرتی ہے،جب کوئی مختلف نیت سامنے آتی ہے ،منسوخ نہیں کرتی ہے ،aکسی چیز کی بحالی جوکہ موجود نہ ہو یا وجود نہ رکھتی ہو،اس وقت جب منسوخی وقوع پزیر ہوئی ہو۔bپچھلے آپریشن پر اثر انداز ہوتی ہے ،یا کسی نافذ قانون کو منسوخ کیا جائے یا کوئی اور چیز کی جائے۔cکسی حق ،مراعات ،ذمہ داری ،پر اثر انداز ہوتی ہے ،dکسی جرمانہ ،سزا ،کسی جرم پر ،eکسی بھی تفتیش،قانونی کارروائی ، یا کسی حق کی داد رسی ،مراعات ،ذمہ داری ،جر مانہ ، ضبطگی کی سزا پر اثرانداز ہوتی ہے ،اوراس تفتش ،قانونی کارروائی یا داد رسی قائم کی گئی ہو ،جاری ہو یا انفورس کی گئی ہو اور ایسا کوئی جرمانہ ،ضبطگی یا سزا جوکہ نافذ کی گئی ہو جبکہ اگر منسوخی ایکٹ یا ریگولیشن ابھی منظور نہ ہو ا ہو۔

-58 یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ کوئی عمل ہو جانے یا کوئی ایکشن لینے یا کرنے کا مقصدہو یا کیا جا چکا ہویا منسوخ شدہ ایکٹ کی تقلید میں ہو ،نئے ایکٹ کی شرائط کے خلاف نہیں ہوگا ،یہ تصور کیا جائے گا کہ، ہو چکاہے ،یا نئے ایکٹ کے تحت لیا جاچکا ہے اور جب تک کہ قانون ساز نے ماضی سے نئے قانون کو نافذ کرنا ہے ، عدالتیں اسے ماضی سے تصور نہیں کریں گی ۔

-59یہ کہ یہ مسول علیہ نمبر 3 پاکستان مسلم لیگ ن کا کیس ہی نہیں ہے، نہ ہی اس حوالے سے کوئی دلائل پیش کئے گئے ہیں کہ الیکشن ایکٹ 2017کے نفاذ کے لئے کوئی مختلف نیت تھی یا کوئی اور شرط تھی کہ الیکشن آرڈر 2002کی تنسیخ اور الیکشن ایکٹ 2017کے نفاذ سے مسول علیہ نمبر 4میاں نواز شریف کی نااہلیت ختم ہوجائے گی ، ایسی کسی شر ط کی غیر موجودگی میںالیکشن آرڈر 2002کی تنسیخ میاں نواز شریف کی آرٹیکل 62اور63 پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002کی دفعہ 5کے تحت ہونے والی عوامی عہدہ کے لیے نااہلیت ،ذمہ داری ،جرمانہ ،سزا پر اثر انداز نہیں ہو تی ہے۔

-60درج بالا وہ وجوہات ہیں ،جن کے سبب ہم نے اپنے مختصر حکم میں آئینی درخواستیں منظور کی تھیں وہی حکم نیچے دوبارہ پیش کیا جارہاہے ،آئین کا دیباچہ کہتا ہے کہ پوری کائنات میں اقتدار اعلیٰ کی مالک و مختار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ،اور اس کی جانب سے انسانوں کو دیا گیا اختیار دراصل ایک امانت ہے ،جس میں ریاست اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ان اختیارات کو استعمال کرے گی ، جس میں جمہویت کا اصول ، آزادی ، مساوات ، برداشت ، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی انصاف کو مکمل طور پر دیکھا جاسکتا ہو، جس میں بنیادی حقوق بشمول قانون کی نظر میں سب کی برابری ،سماجی معاشی اور سیاسی انصاف ، سوچنے اور اظہار کی آزادی، قانون کے اندر رہ کر عقیدے اور نظریات ،عبادات ،اور انجمن بنانے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے،2آئین کا آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے لیکن اس میں بھی اقتدار اعلیٰ اور استحکام پاکستان ،امن عامہ اور اخلاقیات کی قانونی شرائط موجود ہیں۔ 3منتخب پارلیمنٹ ؛، عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ ایک جانب جبکہ دوسری جانب قانون کی حکمرانی اورجمہوریت کی بنیادیں ہیں،آئین کے آرٹیکل 62,63اور63اے کے تحت، پارلیمنٹ کے بزنس کو ان لوگوںکے ہاتھوں چلانے کا فریم ورک مہیا کرتے ہیں،جوکہ راست باز ، دیانتدار اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں، آئین نے یہ شرائط پارلیمنٹ کی رکنیت کی اہلیت اور نااہلیت سے متعلق آرٹیکل 62اور 63میں بیان کردی ہیں۔4پارلیمنٹ کے انتخابات اور کارروائی میںحصہ لینے سے متعلق تمام قوانین کو ان شرائط کے ساتھ پڑھا جائے گا ،جن حقوق کی ضمانت آرٹیکل 17نے دی ہے ۔ 5آرٹیکل 63اے کے تحت جس سیاسی جماعت کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہوتی ہے اس کے اراکین کی جانب

سے کیے جانے والے تمام معاملات اور چیزیں پارٹی سربراہ ہی کے گرد گھومتی ہیں، اس لئے اس کا آئین کے آرٹیکل 62(1)Fکے تحت عوامی عہدہ کے لئے اہل ہونا ضروری ہے ، پارٹی سربراہ کا پارلیمنٹ کے اانتخابی عمل سمیت دیگر متعد پارلیمانی معاملات سے براہ راست تعلق اور پارلیمنٹ کے امور میں بڑا مرکزی کردار ہوتا ہے ،اس کردار کی ادائیگی کے لئے پارٹی سربراہ کو آرٹیکل 62,63 کے تحت اہلیت کا حامل ہونا،اور ناہلیت سے آزاد ہونا چاہئے ۔ 6الیکشن ایکٹ 2017ایک پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو، کے سربراہ کو مختلف قسم کے افعال کو سرانجام دینے کے لئے اختیارات دیتا ہے ، جن کا براہ راست تعلق پارلیمنٹ کے انتخابی عمل اور پالیمنٹ میں ہونے والے سیاسی عمل کیساتھ ہوتا ہے ۔ 7یہ کہ تفصیلی جواز بعد میں قلمبند کئے جائیں گے ،یہ آئینی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، اور قرار دیا جاتا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017کی دفعہ 203اور232کی شرائط کو آئین کے آرٹیکل 62,63اور63اے کے ساتھ ملا کر پڑھا ،سمجھا اور واضح کیا جائے گا ۔ 8نتیجتاً یہ قرار دیا جاتاہے کہ کوئی شخص جوکہ 62کے تحت اہل نہیں ہے یا 63کے تحت نااہل ہے،وہ کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا ہے ، چاہے اسے کوئی بھی نام دیا جائے اور اسے آرٹیکل 63میں دیئے گئے اختیارات اور بطور پارٹی سربراہ یاکسی اورحیثیت میں کوئی اور اختیارات ،کسی بھی قانون ،قاعدے ،ریگولیشن ، سٹیٹیوٹ ،انسٹرو منٹ ،یا سیاسی جماعت کی کسی دستاویز کے ذریعے دیئے گئے اختیارات کے استعمال سے روکا جاتا ہے ، یہ پابندی نااہلیت کے روز سے ہی لاگو ہوگی اور اس وقت تک برقرار رہے گی جس تک اس شخص کی ا ئین کے آرٹیکل 62,63 کے تحت نااہلیت قائم رہتی ہے ، اس ڈیکلریشن کے نتیجے میں مسول علیہ میاں نواز شریف کی جانب27جولائی 2017کو عوامی عہدہ کے لئے نااہلیت کے بعدسے بطور صدر ،پاکستان مسلم لیگ ن اٹھائے گئے تمام تر اقدامات

،احکامات ،ہدایات اور جاری کی گئی تمام تر دستاویزات کو غیر قانونی اور بلا اختیار تصور کیا جاتا ہے اور قانون کی نظر میں انہیں ایسے تصور کیا جاتا ہے کہ جیسے کہ وہ کی ہی نہیں گئیں تھیں ،اس لئے ا لیکشن کمیشن کو مسول علیہ میاں نواز شریف کا نام بطور صدر ،پاکستان مسلم لیگ ن اپنے متعلقہ ریکارڈ سے ہٹانے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ CMA Appeal No 244 of 2017 in Constitution petition No Nil of 2017

-61ہم نے مرکزی درخواستیں حتمی طور پرجن شرائط پر منظور کی ہیں ،یہ سی ایم اپیل منظور کی جاتی ہے ،اپیل کنندہ کی جانب سے اس حوالے دائر کی گئی آئینی درخواستConstitution petition No Nil of 2017 کو بھی نمبر لگا کر انہی شرائط پر منظور کیا جاتا ہے ۔

اول چیف جسٹس دوئم جج سوئم جج، اسلام آباد 21فروری 2018 رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ

تازہ ترین