آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

متحدہ لندن کی سیاست میں حصہ لینے کی آزادی پر بات کرنا آج شجر ممنوعہ بنا ہوا ہے۔ میں وضاحت کرتا چلوں کہ راقم بانی متحدہ کا مداح نہیں ہے اور ان کی سیاست کی متعدد جہتوں سے شعوری طور پر اختلاف رکھتا ہے مگر کیا ہمارا اختلاف رکھنا ان کے حامیوں سے ان کی پسندیدگی کا حق سلب کر لیتا ہے اور کیا یہ حق کوئی طاقت کے زور پر سلب کر سکتا ہے۔ جواب نفی میں ہو گا۔ بانی ایم کیو ایم پر پابندی ان کی ایک انتہائی ناپسندیدہ تقریر کے سبب ہوئی لیکن کیا ماضی میں اس سے زیادہ ناپسندیدہ اقدامات کرنے والوں سے راہ رسم نہیں بڑھایا گیا؟ کیا سیاست کی اجازت ان کو پاکستان میں حاصل نہیں تھی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو گا۔ جی ایم سید مرحوم پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک متنازع ترین کردار تھے۔ 1973؁ کے بعد سے وہ اعلانیہ طور پر مکمل علیحدگی پسند ہو چکے تھے۔ جب جنرل ضیاء کے دور میں تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کے دوران ریاستی تشدد عروج پر تھا، تو جی ایم سید اس تحریک سے لاتعلق تھے کیونکہ اس تحریک کے سبب سے پیپلزپارٹی اپنی جڑیں مزید گہری کرتی جا رہی تھی۔ لیکن اس تشدد سے جنم لینے والی نفرت کو جی ایم سید اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے اقدامات کر رہے تھے۔ انہی میں سے ایک اقدام اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی کو خط لکھنا تھا کہ وہ سندھ کے

معاملات میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اس خط کے بعد اندراگاندھی نے بھارتی پارلیمنٹ میں سندھ کے حالات پر خطاب کیا اور اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا۔ جی ایم سید نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں سے بھی رابطہ کیا۔ ایک علیحدگی پسند رہنما نے الفاظ کا چنائو کیا کیا ہو گا، محتاج بیان نہیں۔ اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء کے لئے وفاق پر یقین رکھنے والی پیپلزپارٹی سب سے بڑا خطرہ تھی۔ اس لئے وہ ہر جگہ ہاتھ پیر مارتے تھے۔ جی ایم سید سے عیادت کے بہانے ملے، لائبریری دیکھنے کا شوق چرایا یہ وہ دلائل ہیں جو ضیاء جی ایم سید ملاقاتوں کے حلال ہونے کے واسطے دیئے جاتے ہیں۔ کون سی عیادت، کیسی لائبریری، ایسی ملاقاتوں کی حقیقت کیا ہوتی ہے، سورج کی طرح روشن ہے۔ مختصراً جی ایم سید اپنے نظریات کا پرچار بھی کرتے رہے، تنظیم بھی چلاتے رہے اور جنرل ضیاء سے روابط بھی رہے۔ حالانکہ کھلے علیحدگی پسند تھے۔جب گزشتہ سے پیوستہ برس میں تحریک انصاف نے اسلام آباد لاک ڈائون کی کال دی تو حکومت نے حالات کو قابو میں رکھنے کی غرض سے انتظامی نوعیت کے اقدامات کئے۔ وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کو بھی روکا گیا۔ احتجاج کو روکنے کی غرض سے یہ معمول کے اقدامات تھے مگر موصوف نے تقریر جھاڑ دی کہ ہمیں کاٹا جا رہا ہے۔ کہیں ہم کوئی اور ہی نعرہ نہ لگا دیں۔ نہ ان کی جماعت نے ان کو عہدے سے معزول کیا نہ ہی میڈیا پیچھے پڑا۔ بانی ایم کیو ایم کے حوالے سے دوسرا نکتہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں اثر کھو چکے ہیں۔ اس کا تجزیہ کرنے کے لئے لازمی امر ہے کہ وہ جن وجوہات کی بنا پر لیڈر بنے تھے ان کو پرکھا جائے۔ اس وقت مجھے ان وجوہات کے درست یا غلط کی بحث میں نہیں پڑنا بلکہ ان کو لیڈر ماننے والوں کے جذبات کو بیان کرنا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اس وقت کراچی کی صورتحال کیا تھی؟ ذہنی رجحان کیا تھا؟ یہ تصور بہت مضبوط تھا کہ ہمیں ہماری تعلیم کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں اس طرح سے مواقع میسر نہیں جیسا ہمارا حق ہے۔ کراچی کتنا قومی معیشت میں فائدہ شامل کرتا ہے اس کے اعتبار سے کراچی کو نہیں ملتا۔ کیا آج یہ تصور منہدم ہو چکا ہے؟ نہیں یہ تصور آج بھی جاری و ساری ہے۔ دوسرا یہ تصور تو موجود ہے مگر رائے عامہ بانی ایم کیو ایم سے متنفر ہو چکی ہے کہ وہ ان حقوق کے لئے مناسب رہنما نہیں۔ شہری سندھ کے کچھ عرصہ قبل کے بلدیاتی نتائج اس کی نفی کرتے ہیں۔ قومی و صوبائی انتخابات میں بھی ان کا سکہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ قومی حلقے کے انتخاب میں تو دوسرے امیدوار کو انگلی پکڑ کر لایا گیا مگر نتیجہ وہی کا وہی رہا۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ان سے بڑا لیڈر وہاں پیدا ہوگیا ہے۔ اس پر بحث بھی فضول ہے۔ بات واضح ہے کہ بانی متحدہ مائنس نہیں ہوئے اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ان کا ستارہ ڈوب چکا ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ان کو کھلے بندوں اپنے حامیوں کی حمایت کی اجازت دی جائے۔ وہ22 اگست کی اپنی تقریر کے بعد قولاً اور تحریراً معافی مانگ چکے ہیں۔ وہ تمام دلائل جو جی ایم سید سمیت دیگر افراد کے سیاست میں متحرک رہنے کے لئے دیئے جاتے ہیں ویسے ہی بانی ایم کیو ایم کے لئے بھی تسلیم کر لئے جائیں تاکہ ان کے ووٹروں کو بھی احساس ہو کہ ان کا لیڈر اس گفتگو پر کتنا پشیمان ہے اور یہ پشیمانی کا احساس وفاق کو مزید مضبوط کرے گا۔ اگر شہری سندھ پر کوئی مصنوعی قیادت مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج عبرت ناک ہو سکتے ہیں۔ کاش فیصلہ ساز عبرت پکڑے۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں