• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

دنیا کا کوئی بھی شعبہ ہوپاکستانی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔انگنت بااثر اور حوصلہ مند پاکستانی خواتین بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں۔آیئے ان میں سے کچھ خواتین کے بارے میں آپ سے تبادلہ خیال کریں :

بلقیس ایدھی

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

پاکستان کی حکومت سے تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی بلقیس ایدھی کئی دہائیوں سے پہلےاپنے شوہر عبدالستار ایدھی کے ہمراہ اور اب خود لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری لانے میں مصروف ہیں۔ بلقیس ایدھی نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے پسماندہ، دکھی اور بے سہارا لوگوں کی خدمت میں صرف کردی اور آج بھی وہ اسی لگن اور تن من سے غریبوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں جیسے پہلے دن تھیں۔

ثمنیہ بیگ

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

یہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے کے ٹو، جسے دنیا کا کٹھن ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے ،اسے سر کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ثمینہ دنیا کے سات بر اعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انہوں نے عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔

شرمین عبید چنائے

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

شرمین عبید ایک فلم ساز ہیں۔ وہ معاشرتی مسائل پر کئی فلمیں بنا چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی دستاویزی فلموں کے ذریعے پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے اور عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے جیسے موضوعات کو اجاگر کیا۔ دو دستاویزی فلموں پر وہ آسکر ایوارڈبھی حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت آج پاکستانی معاشرے میں ان مسائل کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور ملک میں ان کے حل کے لیے بحث اور قانون سازی کے عمل کا آغاز ہوا ہے۔

ملالہ یوسف زئی

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

تعلیم کے حصول کی علمبردار ملالہ یوسف زئی اپنی جرات اور بہادری کے باعث مشہور ہوئیں۔ دہشت گردانہ حملے میں بال بال بچنے کے بعد ملالہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے انتہائی سر گرم ہیں۔ ملالہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔

منیبہ مزاری

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

وہیل چیئر تک محدود یہ نوجوان خاتون ایک مصورہ، مقررہ اور گلوکارہ ہیں۔ وہ بچوں اور معذور افراد کے حقوق سے متعلق سماجی منصوبوں پر کام بھی کرتی ہیں۔ ٹانگوں سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے کامیابیوں کو اپنا مقدر بنایا اور لوگوں کو یہ بتا دیا کہ کوئی بھی معذوری آپ کو ناکارہ نہیں بنا سکتی جب تک آپ خود نہ چاہیں ۔

زینت عرفان

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

لاہور سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ طالبہ زینت نے لاہور سے آزاد کشمیر تک 6 روز میں بائیک پر اکیلے سفر کرکے سب کو حیران کردیا۔ اس سفر کا اعلان انہوں نے2015میںاپنے فیس بک پیج پر کیا تھا اور ثابت کردیا کہ ایسا کچھ نہیں جو ایک لڑکی نہیں کر سکتی۔اپنی والدہ کی حوصلہ افزائی پر زینت نے 2013 میں بائیک چلانا سیکھی ۔ زینت کے والد کا خواب تھا کہ وہ موٹر بائیک پر دنیا کی سیر کریں۔۔ انہیں امید ہے کہ وہ ایک دن ایسا ضرور کریں گی۔

نسیم حمید

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

سن2010ء کو نسیم حمید کو ساؤتھ ایشین گیمز میں جنوبی ایشیاء کی تیز ترین خاتون کا اعزاز حاصل ہوا .22 سالہ ایتھلیٹ نے سو میٹر کا فاصلہ صرف 11اعشاریہ81 سیکنڈز میں طے کرکے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ہونے والے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔غربت کے باوجود نسیم نےاپنا خواب پورا کر کے دکھایا۔نسیم کو پاکستان ریلویز سے کنٹریکٹ ملا اور پھر اس ابھرتی ہوئی اسٹار کو سیف گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا اور جنوبی ایشیاء کی تیز ترین خاتون کی حیثیت سے ان کا نام ریکارڈ کا حصہ بن گیا۔

نرگس ماولوالا

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

بین الاقوامی خبروں میں جگہ بنانے والی کئی خواتین میں سے ایک فلکی طبیعیات دان نرگس ماولوالا بھی ہیں۔ میساچوسٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں شعبہ طبیعیات کی سربراہ ماولوالا سائنسدانوں کی اُس ٹیم کی ایک رکن تھیں جنھوں نے خلاء میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی سے متعلق آئن اسٹائن کے نظریئے کو درست ثابت کیا۔ڈاکٹر ماولوالا امریکا کے سائنس دانوں کے ہمراہ کام کر رہی ہیں۔ امریکا جانے سے قبل انہوں نے کراچی میں موجود’ کانونٹ جیسز اینڈ میری ‘سے تعلیم حاصل کی۔

عائشہ فاروق

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

اٹھائیس سالہ عائشہ فاروق پاکستان اور جنوبی ایشیا کی پہلی فائٹر پائلٹ ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والی عائشہ پاکستان ایئر فورس کے لیے چینی کمبیٹ F-7PG طیاروں پر پرواز کرتی ہیں۔تین سال کی عمر میں والد کو کھو دینے کے بعد، عائشہ نے اپنی والدہ کو ہمیشہ ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھا اور پرواز کے لیے ان کی چاہت میں اضافہ اپنے انکل اور کزن کو دیکھ کر ہوا جو پاکستان ایئرفورس میں تھے۔عائشہ نے سخت عملی اور جسمانی ٹریننگ حاصل کرکے دکھادیا کہ خواتین کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ عائشہ کا نوجوان لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ’ کسی رول ماڈل کو دیکھنے کے بجائے خود ایک رول ماڈل بن جانا چاہیے‘۔پاکستان ایئر فورس میں گزشتہ دہائی سے تقریباً 19 خواتین پائلٹ ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں جن میں پانچ فائٹر پائلٹ ہیں لیکن اب تک وہ کمبیٹ پرواز کرنے کی ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔

شازیہ پروین

پاکستانی خواتین ،زمین سے افق تک ہر شعبے میں مردوں کے ہمقدم

جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ شازیہ پروین پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے فائر بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اگرچہ ادھر ادھر سےکئی بار شازیہ کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑامگر وہ اس پر توجہ نہیں دیتی تھیں کیونکہ ان کے اہل خانہ نے ان کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھےاسی لیے انہوں نے ہار نہ مانی ۔

تازہ ترین