آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایرانی فلموں کا میلہ!!

گزشتہ دنوں کراچی ایرانی فلم فیسٹیول کا اہتمام ایرانیاں کلچر سینٹر نے کیا، جس میں ایران کی منتخب اور مقبول فلموں کو اردو میں ڈب کرکے پیش کیا گیا۔ فلم فیسٹیول کا افتتاح اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر جاوید نے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کلچرل ونگ ڈاکٹر محمد رضا بھی موجود تھے ۔ 

جاوید شیخ جو فلمی دنیا پر گہری نظررکھتے ہیں، نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان ایران کی دوستی قدیم اور مضبوط رشتوں پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک اسلامی اور ثقافتی رشتوں میں ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔ ایرانی فلموں نے انقلاب ایران کے بعد بہت ترقی کی ہے، بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر کے فلمی میلوں میں ایرانی فلمیں اپنا مقامی رکھتی ہیں اور ایوارڈ بھی حاصل کرتی ہیں، جو ایرانی فلموں کے لیے باعث فخر ہے۔

جاوید شیخ نے ایران کلچر سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فلموں کو اردو میں ڈب کرکے اچھا قدم اٹھایا، سب ٹائٹل کی فلمیں وہ تاثر نہیں قائم کرتیں، جب کہ ڈبنگ کردہ فلم زیادہ بہتر انداز میں پسند کی جاتی ہیں۔ میں نے بعض ایرانی فلمیں دیکھی ہیں،ان میں اداکاری مضبوط کہانی اسکرین پلے اور پوسٹ پروڈکشن کا کام بین الاقوامی سطح کے مقابلے کا ہوتا ہے۔ میری بھی عرصہ داز سے خواہش ہے کہ میں پاک ایرانی کو پروڈکشن کے تحت فلم بنائوں ، جس میں پاکستانی ایرانی اداکاروں کو کاسٹ کیا جائے گا۔ فلم کی کہانی اور لوکیشن بھی ایران اور پاکستان میں تلاش کرکے فلم بند کی جائے۔

ایران کلچر سینٹر اس میں اپنا رول ادا کرے اور ہمارے جذبات ایرانی فلم سازوں ہدایت کاروں تک پہنچائے جائیں۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے البتہ پڑھے لکھے افراد فلمی صنعت جوائن کرلیں گے۔ پاکستانی فلمیں بھی بین الاقوامی سطح کی بن سکتی، جس طرح آج کل نئی نسل کے ہدایت کار بنا رہے ہیں، ایرانی فلموں کے پروڈکشن ہائوسز بہت مضبوط ہیں، وہاں گانوں کے بغیر بھی فلمیں کام یاب ہوتی ہیں۔

انقلاب ایران کے بعد سے فلموں کا کلچر تبدیل ہوگیا اور فلم میڈیم کا مثبت استعمال کیا گیا، فلمی صنعت کو نیا راستہ دکھایا گیا۔ میں اکثر کلفٹن برج سے گزرتے ہوئے ایرانیاں کلچر سینٹر کا بورڈ پڑھا کرتا تھا۔ آج میری خوش نصیبی ہے کہ میں پہلی بار آیا ہوں اور فلمی میلے کا افتتاح کرکے فخر محسوس کررہا ہوں۔

میری ایرانی کلچر سینٹر سے گزارش ہے کہ وہ ایرانی فلم سازوں اداکاروں کو پاکستان مدعو کریں اور پاکستانی فلمی صنعت کی چیدہ چیدہ شخصیات سے ملاقات کا اہتمام کریں تاکہ پاک ایرانی مشترکہ فلم سازی کا آغاز ہوسکے۔ میری فلم ’’وجود‘‘ پوسٹ پروڈکشن میں ہے، عیدالفطر پر نمائش کی جائے گی۔ ڈائریکٹر جنرل کلچر محمد باقری نے جاوید شیخ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فلم ساز بھی پاکستان کے ساتھ مل کر فلم بنانے کے خواہاں ہیں۔

گزشتہ سال بھی ایرانی فلم ساز، سینما مالکان کا وفد کراچی آیا تھا اور پاکستانی فلمی سرکردہ شخصیات سید نور، ستیش آنند، میاں امجد رشید، ندیم مانڈوی والا، ذوالفقار رمزی ودیگر سے ملاقات کی تھی۔ ہم نے ان ملاقات کی تفصیلی رپورٹ ایران کلچر ونگ ارسال کردی تھی۔ 

پاکستانی وفد نے ایرانی فلموں کو اردو میں ڈب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، یہ فیسٹیول اسی سلسلے کی کڑی ہے، آج آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ، جس کا وہ اپنی رپورٹ میں ذکر کریں گے، انقلاب ایران سے قبل جرائم اور کرائم پر مبنی فلمیں بنائی جاتی تھیں، جب کہ آج ایرانی ثقافت کو مد نظر رکھا جاتا ہے، ایران میں بچوں کے لیے بھی بہترین فلمیں بنائی جاتی ہیں، جسے پاکستانی بچے بھی پسند کریں گے، انقلاب ایران کی 39ویں سالگرہ کے موقع ایران کلچر سینٹر نے بہت سے ثقافتی پروگرام ترتیب دیے ہیں،۔ فلم فیسٹیول بھی اس کا حصہ ہے، ایرانی فلمیں بین الاقوامی سطح پر فلمی میلوں میں ایوارڈ وصول کرچکی ہیں۔

ایرانی سینما انسانیت کے موضوع پر فلمیں بنارہا ہے، جو معاشرتی مسائل کی بھرپور عکاس ہیں ۔ گزشتہ سال 4رکنی فلمی وفد کراچی آیا تھا ۔ اپنے 4 روزہ قیام کے دوران ایرانی وفد نے لاہور اور کراچی میں فلمی سرکردہ شخصیات سے ملاقات کی تھی، ان اجلاس میں بھی ایران پاکستان مشترکہ فلم سازی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا تھا، فلمی وفد نے پاکستانی فلم سازوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پاکستانی وفد کو فلم میلے میں مدعو کریں گے، تاکہ باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ ملے۔

پاکستانی وفد نے ایرانی وفد کو کہا تھا کہ وہ ایران کی 7فلمیں اردو میں ڈب کرکے ہمیں ارسال کریں، جسے پاکستانی فلم ساز تقسیم کار ان فلموں کو دیکھ کر مارکیٹنگ کا جائزہ لے سکیں، مگر ایرانی فلمی وفد کا وعدہ ایفا نہ ہوسکا، ایرانی وفد کو بتایا گیا تھا، جب تک آپ کے اداکار پاکستانی فلم بین چہرہ شناسی نہ کریں گے، اس وقت تک فلمی مقبول نہیں ہوں گی، جس طرح آج ترکی کے اداکار پاکستان میں بھی مقبول ہیں۔ 

اسی طرح ایرانی فلموں کے ساتھ ایرانی ڈرامے سیریل کی براڈ کاسٹنگ کا بھی اہتمام کیا جاسکتا ہے، کراچی اور لاہور میں ہونے والے اجلاس میں ایرانی فلمی وفد کے ساتھ کھل کر تمام امور پر گفتگو ہوئی تھی، ایرانی فلم سازوں نے ان تمام تجاویز کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے، اب جاوید شیخ نے بھی ڈی جی کلچر سے کہا ہے کہ وہ ایرانی اور پاکستانی فلمی وفود کے مابین ملاقات کا بندوبست کریں تاکہ مشترکہ فلم سازی کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں