• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خواجۂ ہندؒ کی زندگی پر ایک نظر

٭…آپ کانام معین الدین حسن تھا،جب کہ خواجۂ ہند، غریب نواز، سلطان السالکین، عطائے رسول کریمؐ ، قطب المشائخ کے القاب سے شہرت پائی۔

٭…14رجب المرجب بروز پیر ایران کے شہر سیستان کے قصبہ سنجر میں(بہ اختلافِ روایت)530 ھ کو ولادت ہوئی۔

٭…حسنی حسینی سادات سے ہیں، سلسلہ نسب بارہ واسطوں سے شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔

٭…والد کا نام غیاث الدین تھا،جب کہ والدہ کا اسم مبارک ام الورع ماہ نور بی بی تھا۔

٭…آپ کا حلیہ شریف کچھ یوں تھا، رنگ سرخ وسفید، دراز قد، جسم مضبوط وقوی، شانے چوڑے ، پیشانی کشادہ، آنکھیں خوب صورت اور ریش ِمبارک(داڑھی)قدرے گھنی تھی۔

٭…۵۵۲ ھ میںقصبہ ہارون میں شیخ خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔

٭…آپ کے خلفا ئےکرام میں قطب الدین بختیار کاکی،خواجہ حمید الدین ناگوری،حکیم ضیاء الدین بلخی ،سید حسین مشہدی،شیخ نظام الدین ناگوری رحمہم اللہ علیہم زیادہ مشہور ہیں۔

٭…دو شادیاں کیں، پہلی زوجہ محترمہ عصمت اللہ بی بی تھیں جوکہ حاکمِ اجمیر کی صاحبزادی تھیں، جب کہ دوسری زوجہ کانام امۃ اللہ بی بی تھا۔ تین صاحبزادے اور ایک صاحبزدی تھیں۔ 1…خواجہ فخر الدین2…خواجہ حسام الدین3…خواجہ ضیاء الدین۔ایک دختر ِ نیک اخترجن کا نام حافظہ جمال بی بی تھا جو خواتین کو تبلیغ دین پر مامور تھیں۔

٭…روضۂ خیرالانام علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام سے اذنِ تبلیغ پاکر سرزمین ہند میں پرچم اسلام بلند کیا اور کفرستان کو دار الاسلام سے بدل دیا، آپ کے فیوض وبرکات سے روایت کے مطابق 90لاکھ غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام سے ہوئے۔

٭…آپ کی تصانیف میں انیس الارواح ،کشف الاسرار،گنج الاسرار۔رسالہ تصوف (منظوم)، رسالہ آفاق وانفس،حدیث المعارف،رسالہ موجودیہ شامل ہیں،جب کہ شعری مجموعہ دیوانِ معین آپ کے علمی ذوق کا پتا دیتا ہے۔

٭…۶رجب المرجب ۶۲۷ھ بروز پیر جامِ وصال پی کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔جب کہ جبینِ مبارک پر بخط قدرت یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ ’’ھٰذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ‘‘ یعنی وہ خدا کا حبیب ہے جس نے محبت الٰہی میں انتقال کیا۔

٭…جنازے میں لوگوں کا اژدھام تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی، بڑے صاحبزادے خواجہ فخر الدین نے نمازِ جنازہ ادا کی۔

خواجۂ ہند ؒکے فرامینِ علم وحکمت

٭…صدقہ دینا ہزار رکعت نماز (نفل)پڑھنے سے افضل ہے۔٭…ضرورت مندوں کی مدد کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔٭…افضل ترین زہد (ترکِ دنیا)موت کو یاد کرنا ہے۔٭…تین لوگ جنت کی بو تک نہ پائیں گے۔

1…جھوٹ بولنے والا درویش۔
2…بخیل(کنجوس)۔

3…خیانت کرنے والا تاجر۔٭…حقیقت میں متوکل وہ ہے جو اپنے رنج ومحنت کو مخلوق سے وابستہ نہ کرے۔٭…راہِ سلوک کی پانچ عبادتیںیہ ہیں۔1…والدین کی خدمت۔2…تلاوتِ کلام مجید۔3…علماء ومشائخ کی تعظیم 4…زیارتِ خانہ کعبہ اور اس کی تعظیم۔5…پیرِ (کامل)کی خدمت۔٭…راہِ سلوک (طریقت)میں گناہ کبیرہ ہیں۔1…قبرستان میں قہقہہ لگانا۔2…قبرستان میں کھانا پینا۔3…لوگوں کو تکلیف دینا۔٭…بدبختی کی نشانی یہ ہے کہ بندہ گناہوں سے آلودہ رہے اور اس بات کا امیدوار رہے کہ میں دربارِخداوندی میں نگاہِ لطف سے دیکھا جائوں گا۔٭…جس نے جو نعمت پائی، سخاوت کی وجہ سے پائی اور گزشتہ لوگوں نے جو عزت وکرامت حاصل کی، باطن (دل)کی صفائی سے حاصل کی۔٭…جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہے، اپنے گھرکو ویران کرتا ہے (اور )اس کے گھر سے خیروبرکت اٹھ جاتی ہے۔

افضل ترین عبادت

خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ نےفرمایا:روزِ محشر باری تعالیٰ فرشتوں کو دوزخ دہکانے کا حکم دے گا ، جب وہ دوزخ کو دہکانا شروع کریں گے تو دوزخ ایک ایسی سانس لے گی جس سے تمام محشر غبار آلود ہوجائے گا اور لوگوں کا دم گھٹنے لگے گا، لہٰذا جو شخص اس سخت روز کی مصیبت سے محفوظ رہنا چاہے،اسے چاہیے کہ ایسی عبادت کرے جو تمام عبادتوں سے افضل ہے، حاضرین نے جب دریافت کیا کہ وہ کون سی عبادت ہے؟ تو فرمایا کہ مظلوموں اور عاجزوں کی فریاد رسی کرنا، کمزوروں اور لاچاروں کی حاجت روائی کرنا، (اور )بھوکوں کو کھانا کھلانا۔

سادگی اور درویشی

خواجہ معین الدین اجمیریؒ کے فقیرانہ لباس میں دہرا بخیہ ہوتا تھا۔ اگر وہ پھٹ جاتا تو جس رنگ کا بھی کپڑا مل جاتا اسی کا پیوند لگالیا کرتے تھے ،چناںچہ آپ کے لباس میں ایک ہی وقت میں تیس چالیس مختلف رنگ کے پیوند لگے دیکھے گئے ،کھانا بہت کم تناول فرماتے۔ ریاضت ومجاہدہ کے ابتدائی زمانے میں لگاتار روزے رکھتے اور صرف ایک چھٹانک آٹے کی ٹکیہ سے روزہ افطار کرتے۔ برابر صائم الدھر رہتے۔

بخشش و مغفرت کا وسیلہ

خواجہ غریب نواز ؒ نےفرمایا: (کسی نے)سلطان محمود غزنوی کو وفات کے بعد خواب میں دیکھ کر حالت دریافت کی تو محمود غزنوی نے کہا۔ ایک رات میں کسی قصبہ میں مہمان تھا۔ میں جس مکان میں مقیم تھا، وہاں طاق میں قرآن کریم کا ایک ورق رکھا ہوا تھا، میں نے دل میں خیال کیا کہ یہاں قرآن کا ورق رکھا ہواہے(یہاں)سونا مناسب نہیں۔ 

پھر دل میں خیال پیدا ہوا کہ ورقِ مصحف کو کہیں اور رکھوادوں اور خود یہاں محو ِآرام ہوجائوں، پھر سوچا کہ یہ بڑی بے ادبی ہوگی کہ(محض )اپنے آرام کی خاطر ورقِ مقدس کو دوسری جگہ منتقل کردوں۔چناںچہ میں نے اس ورقِ مقدس کو دوسری جگہ منتقل نہ کیا، بلکہ ساری رات جاگتا رہا۔ اس ادب کے سبب باری تعالیٰ نے مجھے بخش دیا۔ (تذکرہ الاولیائے ہند وپاک، جدید)

ایمان اور نفاق کی پہچان

خواجہ غریب نواز ؒ نے فرمایا:اگر خدانخواستہ ذکرِ خدا سن کر یا قرآن کریم پڑھ کر دل نرم نہ ہو اور اعتقاد وایمان زیادہ نہ ہو، بلکہ(اس کے برعکس)وہ لہو ولعب (کھیل کود)میں مشغول رہے تو اہل سلوک(طریقت)کے یہاں یہ بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے، جو اس کے مطابق ہے وہ مومن ہے اور جو اس سے ہٹے ہوئے ہیں ،وہ منافق ہیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین