کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو روشن کرنے میں میرپوریوں کا بہت بڑا کردار ہے شاید وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ میرے دادا شیخ محمد اسماعیل کی قبر منگلا ڈیم کے پانیوں میں ڈوبی ہوئی ہے ایسے ہی اور بہت سے میرپوریوں کے آبائو اجداد کی قبریں اس جھیل کی تہہ میں چلی گئیں جو منگلا ڈیم کی صورت میں پاکستان کو بجلی پیدا کر کے فراہم کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔میرپوریوں کی قربانی کی داستان 1960میں اس وقت شروع ہوئی جب منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا اور پھر یہ داستان پھلتے پھلتے برطانیہ تک جا پہنچی۔ حکومت نے ڈیم کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے ہر خاندان میں سے ایک فرد کو پاسپورٹ جاری کیا تھا جن میں زیادہ تر برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ میرپور آزاد کشمیر کا سب سے بڑا شہر ہے یہ سطح سمندر سے 1500فٹ کی بلندی پر ہے جبکہ پرانا شہر سطح سمندر سے 1236فٹ کی اونچائی پر تھا۔ یہاں کے باشندے نئے شہر میں منتقل ہوگئے تھے جب پرانا میرپور اس سے ملحقہ 125گائوں منگلا ڈیم کی تعمیر پر زیرآب آگئے تھے۔ میرپور کی بنیاد میرانشاہ گھکھڑ نے رکھی تھی اور یہی اس کے نام کی وجہ تسمیہ بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کی فوج نے یہیں سے دریائے جہلم عبور کیا تھا اور ہندو بادشاہ پورس کے مدمقابل آئی تھی۔سکندر اعظم نے اس تاریخی لڑائی میں 326قبل مسیح میں شکست دی تھی۔ موجود تاریخ کے مطابق ڈوگرہ راج کے آغاز سے قبل جو کشمیر میں 1947ء تک رہا۔ گکھڑ ، منگرال، جرال قبیلوں نے تیرھویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی کے وسط تک اس خطے پر ایک جاگیردارانہ نظام کے تحت 600سال تک حکومت کی۔ 19ویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت نے ریاست کشمیر کو دوسری ریاستوں کے الحاق سے ایک مرکزی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا اور ڈوگرہ گلاب سنگھ اس نظریئے کے بانی تھے۔ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد گلاب سنگھ نے برطانوی حکمرانوں کی مدد سے امرتسر معاہدے کے تحت کشمیر اور اس سے ملحقہ ریاستوں بشمول ان کے باسیوں کے 1846ء میں پانچ اعشاریہ سات ملین نانک شاہی سکوں میں خریدا۔ میرپور کے تین شہروں میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے بارے میں تعجب خیز تجزیہ سامنے آتا ہے کہ ان شہروں میں علاقے کےکسی وڈیرے، زمیندار یا جاگیردار کا اپنا ذاتی یا وراثتی مکان نہیں۔پرانے وقتوں میں ایسے لوگوں کی ان شہروں میں منتقل نہ ہونے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایسے مکانات سے جہاں دشمن کی پہنچ آسان تھی، دور رہتے ہوئے اپنے آپ کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ خیال کرتے تھے۔ لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ماضی قریب کے اقتصادی و سائنسی دور میں بھی ایسے لوگوں کا شہروں سے دور رہنا معنی خیز ہے۔معاشی تقسیم کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو 1947ء میں ضلع میرپور کے 64گائوں جاگیروں میں شمار ہوتے تھے۔ اور تین سو چھتیس دیہات میں محافیداروں کے رقبہ جات تھے۔ ہر دو میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کے علاوہ بڑے زمیندار جن کے پاس ایک سو سے زائد رقبہ ملکیتی تھا ان کی کل تعداد تین ہزار تین سو بیاسی تھی جن میں تین ہزار دس مسلمان اور تین سو بہتر غیر مسلم تھے۔ 1947سے قبل میرپور دو طبقوں میں تقسیم رہا۔ ایک حکمران طبقے اور دوسرا محکوم طبقہ، اعلیٰ طبقے میں سرکاری عہدیدار، جاگیردار، قبیلوں کے سردار اور بڑے بڑے تاجر لوگ شامل ہوتے تھے۔ماضی سے نکل کر اگر حال کی طرف آئیں تو میرپور کے لوگوں نے تحریک آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور برطانیہ، یورپ، امریکہ اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے میں ان میرپوریوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ یہاں برطانیہ میں بعض طبقے میرپوریوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں دقیانوس ہونے کا طعنہ بھی دیتے ہیں لیکن آیئے پہلے آپ کو بتاتے ہیں کہ میرپور نے تعلیمی میدان میں کیا ترقی کی ہے۔ میرپور میں اس وقت طلباء و طالبات کے الگ الگ یونیورسٹی کیمپس ہیں۔ انجینئرنگ یونیورسٹی، اوپن یونیورسٹی، پیرا میڈیکل کالج، ایلمنٹری کالج، ٹیچر ٹریننگ کالج، ٹیکنالوجی کالج، انٹرمیڈیٹ تعلیمی بورڈ، بہت سے مڈل اور پرائمری سکولوں کے علاوہ متعدد پرائیویٹ سکول بھی موجود ہیں جہاں انگریزی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ یہ تمام تعلیمی ادارے میرپور شہر میں واقع ہیں۔ میرپور کے گردو نواح میں تقریباً ہر دس پندرہ میل کے فاصلے پر ایک انٹرمیڈیٹ کالج اور تیس چالیس میل کے فاصلے پر ڈگری اور ایم اے تک لڑکے اور لڑکیوں کے علیحدہ علیحدہ کالج موجود ہیں۔ ایک میڈیکل کالج کے علاوہ جدید کمپیوٹر کے تعلیمی ادارے تیزی سے پڑھ رہے ہیں۔ سیف الملوک آرٹ اکیڈمی بھی ادبی سرگرمیوں کی ترویج کے لئے سرگرم عمل ہے۔صحت کی سہولیات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال شہر میں کام کر رہا ہے امراض قلب کا ایک ہسپتال 15ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ پورے آزاد کشمیر کا اکلوتا ڈائیلسس سینٹر ہیومن ویلفیئر سوسائٹی میرپور کے زیر انتظام کام کر رہا ہے۔ 15سے 20کے قریب پرائیویٹ ہسپتال بھی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں برطانیہ میں مقیم میرپوریوں کے عطیات اور سرمایہ کاری دونوں نے کافی بہتری پیدا کی ہے۔ میرپور کے سماجی ڈھانچے کی اگر بات کی جائے تو یہ شہر بہت خوبصورت، پرامن اور محبت کا گہوارہ ہے۔ سمندر پار میرپوریوں نے بہت ہی خوبصورت گھر تعمیر کئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں کوئی نہیں رہتا۔ ان کی تعمیر بیرون ملک میرپوریوں کی سماجی حیثیت اور عزت کو نمایاں کرتی ہے ان گھروں کے مالکان چھٹیوں میں اور غمی خوشی کے موقعوں پر اپنے گھروں میں آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے محلات میں رہنے والوں سے کرایہ تک وصول نہیں کرتے بلکہ دیکھ بھال کے لئے ان کو رقم مہیا کرتے ہیں دیکھا جائے تو برطانیہ میں بسنے والے ان میرپوریوں نے جہاں برطانیہ کی اس وقت مدد کی جب اسے ورک فورس کی ضرورت تھی بلکہ اپنے وطن میں ترسیل زر کے ذریعہ سماجی بہبود اور مفاد عامہ کے کئی منصوبوں میں اہم حصہ ڈالا ہے۔ عرصہ دراز سے برطانیہ میں مقیم ہونے کے باوجود یہ اپنی تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اگرچہ کسی حد تک مغربی ثقافت کے بھی ان پر اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ روایت پسند واقع ہوئے ہیں۔ اپنے وطن سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے برطانوی معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود یہ اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملک سے باہر رہتے ہوئے میرپور کے لوگ اپنے گھر والوں اور عام ذاتی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں اور اپنے علاقوں کی خوشحالی میں اہم اور مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنی شبانہ روز محنت سے ان لوگوں نے میرپور کو تجارت کا مرکز بنا دیا ہے۔بلند و بالا پلازے،عالیشان عمارتیں، تجارتی مراکز، فائیو سٹار ہوٹل یہ کیا ہے ان کی محبت اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہی تو ہیں۔میرپور کے انڈسٹریل سٹیٹ میں ہزاروں انڈسٹریل یونٹس کام کر رہے ہیں جن کی وجہ سے ملک کثیر زر مبادلہ کماتا ہے۔ کپڑا، اون، سیمنٹ، گارمنٹس، کوکنگ آئل، کیمیکلز، چینی، ہربل ادویات، صابن، سگریٹ، ٹائر، ربڑ، اسلحہ، فرنیچر، سٹیل کی مصنوعات، آپٹیکل آلات، جوتے اور ماچس میرپور میں تیار ہوتے ہیں۔ یہ ہیں میرپوریے… جنہوں نے اپنے آبائو اجداد کی قبروں کو منگلا ڈیم کے پانی میں ڈبو کر قربانی کا آغاز کیا۔ پھر اپنی جائیدادوں کو پاسپورٹ کے بدلے میں ترک کر کے برطانیہ آگئے۔ یہاں برطانوی معیشت ک مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور اپنے وطن کی ترقی و خوشحالی کے لئے آج بھی قربانی و ایثار کی اس داستان کو آگے بڑھا رہے ہیں کیا کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے لئے میرپوریوں کی یہ مثال کافی نہیں ہے۔