آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بلوچستان میں صرف بتیس فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر

بلوچستان میں صرف بتیس فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر

بلوچستان میں صحت کےشعبے کا کوئی پرسان حال نہیں،یہ صرف کہنے کی بات نہیں بلکہ حقیقت میں ایساہی ہے ،اس حقیقت کااندازہ خودسرکاری شعبے کےاعدادوشمار سے لگایاجاسکتا ہے کہ جن کے مطابق صوبےمیں صرف تیس سے بتیس فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر ہیں۔یہ حقیقت اس موقع پر سامنے آئی ہے کہ جب عالمی یوم صحت منایاجارہاہےاور اس سال اس دن کاموضوع ہے،یونیورسل ہیلتھ کوریج۔۔۔’’صحت ہر جگہ ،ہر ایک کےلئے‘‘

مگربلوچستان میں حقیقتاً ایسا نہیں ہے،صوبےمیں کم ازکم چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں سرے سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال ہی قائم نہیں کئے گئےجبکہ 10سےزائد اضلاع ایسے ہیں جہاں اسپتال تو ہیں مگر وہاں میڈیکل اسپیشلسٹس ہی تعینات نہیں کئے گئے،جہاں ہیں،وہاں ان کی حاضری ، طبی سہولیات اورادویات کامسئلہ ہے ۔ اس بِنا پر دور دراز علاقوں سے لوگوں کوکوئٹہ یا دوسرے بڑے شہروں کارخ کرناپڑتاہے ۔

کوئٹہ کےسول اسپتال اپنے مریض کےساتھ آنےوالے ضلع سبی کےایک شخص شبیراحمدکاکہناتھا کہ سبی میں اسپتال تو موجود ہے مگر وہاں سہولیات نہیں ہیں،اسپیشلسٹ ڈاکٹر بھی موجود نہیں ،جس کی وجہ سے مجبوراًنہیں کوئٹہ آناپڑا ہے۔ اگر یہ سہولیات وہاں ہوتیں تو انہیں بھلا کیوں کوئٹہ آنا پڑتا؟

اسی طرح آواران کےعلاقے مشکے سے آنےوالے تیمورکا کہناتھا کہ مشکے سے کوئٹہ آنا بہت جان جوکھم کاکام ہے، راستہ بہت دور ہے، سڑک بھی نہیں ہے،بس بہت مجبوری سے کوئٹہ آیاہوں،ان کےعلاقے میں صحت کا چھوٹا مرکز تو ہے مگر باقاعدہ اسپتال نہیں ہے ،وہاں ایک ڈاکٹر بھی تعینات کیاگیا ہے مگر وہ کبھی آتا ہے کبھی نہیں،وہ بس خالی تنخواہ لیتاہے۔

بلوچستان میں صرف بتیس فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر

ٹائیفائیڈ میں مبتلا بچے کو سول اسپتال کوئٹہ لانے والے پشین کےرہائشی حمیداللہ کاکہناتھا کہ کوئٹہ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم ہونی چاہئیں،اگر انہیں اپنے علاقے میں علاج کی سہولت ہوتی تو کبھی اس مقصد کےلئے کوئٹہ نہ آتے،حکومت کو چاہئے کہ اس طرح کےاسپتال تمام علاقوں میں قائم کرےتاکہ دوردراز علاقوں سے لوگوں کو علاج کےلئے کوئٹہ نہ آناپڑے، وہاں سہولیات کابہت فقدان ہے۔ان کا کہناتھا کہ کوئٹہ میں بھی مسائل ہیں،تشخیص ہوجاتی ہے تو سرکاری اسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں۔

نظامت صحت بلوچستان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کےشعبے میں کام کرنےوالےایک سینئرعہدیدار ڈاکٹرسلطان رودھی نےرابطہ کرنےپربتایاکہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ ہمارے پاس ہیلتھ میں انسانی وسائل کی کمی ہے، خاص طورپرخواتین کامسئلہ ہے، دوسرامسئلہ اندرون صوبہ انفرااسٹرکچر کےعلاوہ طبی عملے کےلئے بنیادی ضروریات میسر نہیں ہے، ڈاکٹروں اور طبی عملے کےلئے سہولیات ہی نہیں ہے،اس کی وجہ سے مسائل پیش آرہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ہم صوبے میں صرف 30سے33فیصدتک آبادی کو ہیلتھ کوریج دےپارہےہیں۔

ڈاکٹرسلطان نےاس بات کی تصدیق کی کہ کم ازکم چھ اضلاع ایسے ہیں کہ جہاں سرکاری اسپتال ہی قائم نہیں ہوسکے، ان میں واشک، بارکھان، شیرانی،دکی،صحبت پور شامل ہیں۔اسی طرح موسیٰ خیل،دالبندین،ڈھاڈر،بولان،ہرنائی ،آواران سمیت کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں سرے سے کوئی میڈیکل اسپیشلسٹ ،گائناکالوجسٹ،چائلڈاسپیشلسٹ ،جنرل سرجن یافزیشن تعینات نہیں ہے۔اس ساری صورتحال سے اگر کوئی شدید متاثر ہورہاہے تو وہ صوبے کےعوام ہیں۔

دوسری جانب صوبائی حکومت گزشتہ چار سال سے صحت کوتعلیم اور امن وامان کےبعد ترجیح قراردیتی آئی ہےمگر زمین پر اس شعبے میں کوئی خاطرخواہ بہتری نظر نہیں آئی،اگر حکومت کی شعبے کےلئے رواں سال کےلئے مختص رقم کو دیکھاجائے تو صوبے کےوسائل کےاعتبارسے 18ارب روپےسےزائد کی خطیر رقم رکھی گئی تھی،اس طرح ایک محتاط اندازے کےمطابق گزشتہ پانچ سالوں میں صحت کےشعبے میں لگ بھگ ایک سو ارب روپے مختص کئے گئے،اتنی بڑی رقم کےباوجود صوبے میں صحت کے شعبے میں خاطرخواہ بہتری نہ آنا معنی رکھتاہے۔

اس صورتحال پر وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو بھی نالاں نظرآتے ہیں،اس کااظہار انہوں نے حال ہی میں صوبے کے بڑے سرکاری اسپتال صوبائی سنڈیمن ہیڈکوارٹراسپتال کےاچانک دورے کےدوران بھی کیا۔

دورے کےدوران وزیراعلی نےٹراماسینٹر میں صفائی کی صورتحال اور ڈاکٹروں کی غیرحاضری کاسخت نوٹس لیاتھا۔ان کا کہناتھا کہ کیافائدہ کہ اگر اسپتال میں مریضوں کاعلاج نہیں ہوتا،ایسا ہے تو پھر یہ اسپتال بند کردیتے ہیں اور مریضوں کا ہم خود کراچی سے علاج کرالیتےہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کےبارے میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کودی گئی ۔حالیہ بریفنگ میں کہاگیاتھا کہ بلوچستان میں صحت اورسماجی شعبے کی صورتحال سوڈان اور صومالیہ سے بھی بدتر ہے، جبکہ سپریم کورٹ کےمعزز جج کی سربراہی میں سانحہ سول اسپتال کےحوالےسےقائم کیاگیا ایک عدالتی کمیشن پہلے ہی صحت کےشعبے اور بالخصو ص سول اسپتال میں خرابیوں کی نشاندہی کرچکاہے ۔

اس صورتحال کاایک افسوسناک پہلو ڈاکٹروں کی آئے روز کی ہڑتال بھی ہے،مطالبات کےحق میں کئی کئی روز سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز کابند ہونا بھی صحت کےشعبے کےمسائل میں اضافہ کاسبب ہے۔

عوام کا یہی کہنا ہے کہ صحت تو بنیادی انسانی حق ہے،مگر وہ حیران ہیں کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود انہیں علاج کی سہولیات میسر نہیں ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ صحت کےشعبے کی بہتری کےلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں ،خاص طور پر اندرون صوبہ دوردراز علاقوں میں سرکاری اسپتال قائم کئے جائیں جبکہ پہلے سے موجود اسپتالوں کو فعال کیاجائے اور وہاں ادویات کےعلاوہ صحت کی سہولیات پہنچائی جائیں۔

صحت سے مزید