آپ آف لائن ہیں
بدھ 8؍ شعبان المعظم 1439ھ 25؍ اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
تھری ڈی ٹیکنالوجی کا کرشمہ

امریکی ریاست الاباما کے شہر آسٹن میں فرم نامی کمپنی نے 650 مربع فیٹ رقبے پر سنگل اسٹوری مکانات کے سیمپلز سائوتھ بائی سائوتھ ویسٹ (ایس ایکس ایس ڈبلیو )نمائش میں متعارف کرائےہیں ۔ماہرین کے مطابق یہ مکانات تھری ڈی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں تعمیر کیے جاسکیں گے ۔جن کے اخراجات بھی حیرت انگیز طور پر کم ہوں گے ۔فرم اگلے 18 ماہ میں السلو ڈور میں بے گھر لوگوں کے لیے 100 نئے گھر تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

اس کے ذریعے 800 مربع فیٹ رقبے کے مکانات بھی تعمیر کیے جاسکتے ہیں ۔مکانات پر فی الوقت 10,000 ڈالرز کے اخراجات آرہے ہیں ،مگر ماہرین کو اُمید ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اس لاگت کو مزید کم کر کے 4000 پونڈز تک لایا جاسکتا ہے ۔1980 کی دہائی میں تھری ڈی ٹیکنالوجی ایک انجینئر اور ماہر طبیعیات چک ہل نے ایجاد کی تھی ۔اس ٹیکنالوجی کو ’’اضافی قوت ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے ،جس میںایک ہی وقت میں ایک تہہ بنانے کے لیے میٹرئیل کے ذریعے کوئی شے بآسانی بنائی جاسکتی ہے ۔

x
Advertisement

یہ پراسس بالکل اسی طرز پرہوتا ہے جیسا کہ ایک انک جیٹ پر نٹر انک کے الگ الگ دھبوں کے ذریعے ایک تصویر بنا لیتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تھری ڈی پرنٹر ایک ڈیجیٹل فائل کی بنیاد پر جہاں ضرورت ہو اس میٹریل کو جمع کر دیتا ہے ۔بہت سے مینوفیکچرنگ پراسس میں ایک خام شے پر سے اضافی میٹرئیل ضرورت کے مطابق کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے ،جس کے نتیجے میں استعمال شدہ 30 فی صد میٹرئیل ضائع ہوجاتا ہے ۔ 

تھری ڈی ٹیکنالوجی کا کرشمہ

امریکی ریاست ٹیننسی میں نیشنل لیبارٹری پر کے انرجی ڈپارٹمنٹس کے اوک رج کے مطابق روایتی طریقوں سے کوئی شئے تخلیق کی جائے تو ہر ایک پائونڈ کار آمد مواد میں سے 30پائونڈز (13.6کلو گرام) مواد نکالا جا تا ہے،تاہم تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے تیار کی جانے والی کسی بھی شے میں98فی صدخام مال استعمال ہو جاتا ہے۔ 

اس پراسس کے ذریعے صرف دو فی صدمواد ضائع ہونے پر پلاسٹک اور میٹل پائوڈر کے ذریعے چھوٹے آلات بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح چاکلیٹ اور دوسری خوراک بشمول انسانی خلیوں جیسےبائیو میٹرئیلزبھی تیار کئے جا سکتے ہیں۔

تھری ڈی پرنٹرز مصنوعی انسانی اعضا سے لے کر روبوٹ تک کی تیاری میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس پراسس میں درج ذیل بنیادی اقدامات ہوئےہیں۔

٭کمپیوٹر کی مدد سے ڈیزائن (سی اے ڈی) سافٹ ویئر استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی بلیو پرنٹ کی تخلیق۔

٭پرنٹر کی تیاری بشمول اس میں پلاسٹک، میٹل پاؤرڈ اور بائنڈنگ سلوشنز جیسے خام مال کا استعمال۔

٭ مشین کے ذریعے پرنٹنگ پراسس شروع کرنا، جس کے ذریعے مطلوبہ شے تیار ہوتی ہے۔

٭ تھری ڈی پرنٹنگ کا عمل قطعی مختلف ہوتا ہے، مگر مواد کا اخراج دیگر روایتی طریقے کار کے تحت اشیاء کی تیاری سے مماثلت رکھتا ہے، یہ بالکل گلیوپمپ کی طرح کام کرتا۔ اس کے پرنٹنگ میٹرئیل کو اُس وقت تک حرارت دی جاتی ہے، جب تک کہ یہ پگھل کر پرنٹ نوزل کے ذریعے تیار حالت میں باہرنہ آ جائے۔

٭ ڈیجیٹل فائل سے معلومات حاصل کرتے ہوئے خود کار عمل ڈیزائن کو دو جہتی عمودی تراش میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، تاکہ پرنٹر کو پتہ چل سکے کہ میٹرئیل کس جگہ کس شرح سے ڈالنا ہے۔ نوزل سے پولیمر بہت باریک تہوںمیں ڈالا جاتا ہے۔ عموماً اس کی سطح 0.1ملی میٹر (0.004انچ ہوتی ہے)

پولیمربہت تیزی کے ساتھ ٹھوس شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ نچلی سطح سے جڑ جانے سے قبل سطح پر پلیٹ فارم بنا دیتا ہے۔ پرنٹ ہیڈ اس پر ایک اور سطح بچھا دیتا ہے ،جس کا دار و مدار اُس شے کی ہیئت پر ہوتا ہے۔ پورا عمل کسی بھی جگہ انجام دیا جا سکتا ہے، جس میں سیکنڈوں سے لے کر دنوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ پرنٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد ہر چیز کو پرنٹنگ کے بعد کے طریقہ کار سے گزارا جاتا ہے۔ 

اس میں پلیٹ فارم سے تیار شے کی علیحدگی، سپورٹ کا خاتمہ اور اضافی پوڈر ہٹانا ہے۔ ہائوسنگ فرم کے مطابق سیمنٹ سے تیار کئے جانے والے مکانات ہائوسنگ کےعالمی بحران کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ حیران کن مکانات جلد ہی السلواڈور میں تعمیرہوں گے اور مستقبل میں اربوں کی تعداد میں دنیا بھر میں نظر آئیں گے۔ کمپنی کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب 20کروڑ افراد کے پاس اپنے مکانات نہیں ہیں۔ حالاں کہ حالیہ عشروں میں پرسنل ٹیکنالوجی انتہائی جدید ہو گئی ہے، مگر تعمیراتی سرگرمیاں 1950کی دہائی سے ہی اسی ڈگر پر چل رہی ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق آئیکون کا مقصد تعمیراتی شعبے میں بنیادی تبدیلی لانا ہے۔ امریکی فرم نے السلواڈور میں100مکانات تعمیر کرنے کے لیے ایک بلامنفعت کام کرنے والی تنظیم ’’نیواسٹوری‘‘ سے اشتراک کیا ہے۔ قبل ازیںنیو اسٹوری ہٹی میں 2010 ء میں آنے والے زلزلے سے پھیلنے والی تباہی کے بعد سستے مکانات کی تعمیر کے لیے کام کرچکی ہے ۔کمپنی کا ولکن پرنٹر 800 مربع فیٹ تک لمبی پراپرٹی تیار کرسکتا ہے جو کہ اوسط سے کئی گنا بڑی ہے ۔ایسے چھوٹے مکانات کمپنی نے نیو یارک اور لندن میں بھی تیار کئے ہیں ۔

آئیکون پہلے ایک خاکہ تیار کرتی ہے جسے کمپیوٹر میں فیڈ کر کے پرنٹرکو ہدایت دی جاتی ہے کہ نوزل کے ذریعے کس مقام پر کتنا سیمنٹ ڈالنا ہے۔ نمائش میں کمپنی نے مکان کا جو ماڈل متعارف کرایا ہے۔ اُس میں ایک لیونگ روم، بیڈ روم اور ایک پورچ شامل ہے۔ ان حیرت انگیز مکانات میں چھت وہ واحد شے ہے، جس کو تھری ڈی پرنٹر پر نہیں بنایا گیا۔ 

جدید ترین مکانات کی تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے تیاری کا مقصد لیبر کے اخراجات اور میٹرئیلز کے زیاں کو کم کرنا ہے۔ آئیکون کا مقصد ایسا پرنٹر فراہم کرنا ہے، جو کہ صرف 100,000 ڈالرز کی لاگت سے کم از کم 1000مکانات تیار کر سکے گا۔ نیو اسٹوری کمپنی کاکہنا ہے کہ ریسرچ اور مکانات کی تعمیر پر ولکن کے اخراجات صرف 250,000 ڈالرزہوں گے۔ 

آئیکون کے بانی جیسن بالارڈ کے مطابق دیگر کمپنیوں نے بھی اب تک مکانات اور اسٹرکچر پرنٹ کئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ان مکانات کے لئے سیمنٹ میٹرئیلز استعمال کئے ہیں،جس کے نتیجے میں پوری کارروائی معمول کے مطابق انجام پائی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم پلاسٹک استعمال کرتے تو بہت سے مسائل در پیش ہوتے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں