• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

تین ہائی پروفائل قتل کیسز پر اب تک کی پیش رفت

تین ہائی پروفائل قتل کیسز

کراچی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے ہائی پروفائل واقعات کی تفتیش میں پولیس کی اب تک کی پیش رفت پر انسانی حقوق کی تنظیموں،سول سوسائٹی اور تفتیشی افسران نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔جعلی مقابلے میں نقیب محسود سمیت4افراد کا قتل انتظار قتل کیس اور شاہراہ فیصل پر مبینہ مقابلے میں مقصود کے قتل میںپولیس کی اب تک کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس نے تینوں واقعات میں اپنے ساتھیوںکو بچانے کی کوشش کی ہے۔

راؤ انوار کے خلاف تفتیشی افسر کی جانب سے مکمل تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کے باوجود جے آئی ٹی بنائی گئی تاہم اس جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان سمیت دیگر ارکان پر راؤ انوار نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔سول سوسائٹی نے راؤ انوار کو ملنے والی سہولتوں پر بھی اعتراضات اٹھا ئے ہیں۔،عدالت میں پیشی کے موقع پر یہ بات واضح طور پر دیکھی گئی کہ ان سے ایک عام ملزم جیسا سلوک نہیں کیا گیا۔دوسری جانب کیس کے تفتیشی افسر نےجو رپورٹ عدالت میں جمع کروائی ہے اس کے مطابق راؤ انوار کو جعلی پولیس مقابلے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

راؤ انوار کے خلاف درج دونوں مقدمات17/2018اور40/2018 کی تفتیش کرنے والے ایس ایس پی انویسٹیگیشن ملیر عابد قائم خانی نے اپنی تفتیش میںراؤ انوارکو نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملزم ٹھہرایا تھا۔

ملزمان اورگواہوں سے ہونے والی تفتیش ،فارنسک شواہد اور موبائل ڈیٹا ریکارڈ سے یہ بات واضح ہے کہ راؤ انوار اس جعلی مقابلے میں ملوث ہیں اور جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود سمیت چاروں افراد کا کوئی کرمنل ریکارڈ تفتیشی ٹیم کو نہیں ملا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں بنائی گئی جے آئی ٹی کے لیے عابد قائم خانی کی تفتیش کو نظر انداز کرنا مشکل ہو گا ۔

دوسری طرف نقیب اللہ محسود کے معاملے پربننے والے گرینڈ جرگہ کے رہنماؤںنے حکومت کوسات مطالبات پیش کردئیے ہیں۔ کراچی پریس کلب پرمظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے راؤ انوارکوسیکورٹی دینے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ راؤ انوار کےتمام مفرور ساتھیوں کو گرفتار کیا جائےمظاہرین کا کہنا تھا راؤ انوار کے ساتھ ملزموں جیسا سلوک کیا جائے اور سندھ حکومت یا دیگر ادارے کیس پر اثر انداز ہونے کا سلسلہ فوری بند کریں، ورنہ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔

مظاہرین نے پختونوں کی بلاجواز گرفتاریاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ ختم کرکے گرفتار افراد کا تھانے میں اندراج کرایا جائے ،ضلع ملیر میں راو انوار کے ساتھیوں کی دوبارہ تعیناتی بند کی جائے اور پہلے سے تعینات راو انوار کے دست راست اہلکاروں کو بھی ہٹایا جائے۔

دوسری جانب ڈیفنس میں اے سی ایل سی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے انتظار قتل کیس میں جے آئی ٹی نے واقعہ کو "کولڈ بلڈڈ مرڈر"قرار دیا ہے۔رپورٹ میں سابق ایس ایس پی، اے سی ایل سی مقدس حیدر کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی لیکن اس کےبرعکس، اسی روز انھیں اے آئی جی فارنسک ڈویژن کا چارج بھی دے دیا گیا۔جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مدیحہ کیانی کو نشہ آورشے کھلا کر بیان ریکارڈ کیا گیاجب کہ اس کامقدس حیدر کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔ 

انتظار قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے انتظار کے والد سمیت 17 افراد کے بیانات قلمبند کیے، اور تمام اہلکاروں کا موبائل فون ڈیٹا بھی حاصل کیا ۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق کیس کی تفتیش کے لیے واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں ، افسران ، مقتول کے والداس کے دوستوں سمیت انسپکٹر عامر حمیداور ان کےبیرون ملکمقیم بھائی کے بھی بیانات قلمبند کیے گئے تاہم جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کے ارکان نے تمام افراد کے بیانات کے بعد انہیں اس کیس سے بری الذمہ قرار دیا ۔ 

جے آئی ٹی نے اپنی تفتیش کے دوران بتایا کہ جائے وقوع سے 18 خول برآمد ہوئے تھے ، جس کے بعد موقع پر موجود اے سی ایل سی کے 8 افسران و اہلکاروں کے اسلحے تحویل میں لیکر فرانزک کروائی گئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے صرف دو اسلحے استعمال ہوئے، 12 خول پولیس اہلکار بلال کے اسلحے کے تھے جبکہ دیگر 6 پولیس اہلکار دانیال کے اسلحے کی تھے۔واقعے کے بعد تمام پولیس اہل کار موقع سے فرار ہوگئے تھے۔ وہ تمام افرادسادہ کپڑوں میں ملبوس تھے جو ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے جس پر ایس ایس پی مقدس حیدر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔

شاہراہ فیصل پر مبینہ پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے شہری مقصود کی تحقیقات میں بھی پولیس نے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔مقصود کےاہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تا حال واقعہ کی فوٹیج کو عام نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو کی تفصیلات پر مبنی چالان عدالت میں جمع کرادیا گیا ہے جس کے مطابق مقصود کو اے ایس آئی طارق نے قریب سے گولیاں ماریں، بعد ازاںاس نے رکشے سے اترنے والے 2 دیگر افراد کو بھی گولیاں ماریں۔

مقتول مقصود کے والد شیر محمد کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ اب تو پولیس نے بھی مقصود کے قتل کو جعلی مقابلہ تسلیم کر لیا ہے۔ جبران کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں پولیس نے لوگوں کو رکشے سے اتارنے کے بعد سڑک پر بٹھایا اور اس کے بعد گولیاں ماریں۔صوبائی وزیر داخلہ ،سہیل انور سیال نے مقتول مقصود کے اہل خانہ سے ملاقا ت کے بعد کہا تھا کہانہوں نے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے جس میں پولیس والے پرائیوٹ گاڑی میں تعاقب کررہے ہیں جب کہ کسی ڈکیت نے رکشہ روکنے کی کوشش نہیں کی ، پولیس نے رکشے میں سے اتار کر مقتولین کوسڑک پر بٹھا کر گولیاں ماری ہیں ۔

ان تمام واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے اچھے اقدامات کے باوجود وہ اب بھی پولیس کے تفتیشی نظام کو بہتر نہیں بنا سکے ہیں اور نہ ہی کسی واقعہ میں اپنے پیٹی بند بھائیوں کے خلاف پولیس کی جانبداری کو ختم کرنے کے حوالے سے کچھ کر سکے ہیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین