سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے اپنی موت سے چند ماہ قبل مراکش میں ایک شاہانہ محل خریدنے کی کوشش کی تھی تاہم یہ سودا مکمل نہ ہو سکا۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق منظرِ عام پر آنے والے نئے امریکی محکمۂ انصاف کے دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایپسٹین نے 2019ء کے اوائل میں مراکش کے شہر مراکش (Marrakesh) کے قریب واقع پرتعیش محل بن النخیل خریدنے کے لیے آف شور مالی ڈھانچے استعمال کیے تھے، یہ محل 11 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور بلند دیواروں، فواروں، باغات اور حمام پر مشتمل ہے۔
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خریداری برٹش ورجن آئی لینڈز اور لیختنسٹائن میں قائم کمپنیوں اور ٹرسٹیز کے ذریعے کی جا رہی تھی تاکہ ٹیکس سے بچا جا سکے، مجوزہ قیمت تقریباً 25 ملین یورو بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ 2019ء میں ڈوئچے بینک نے ایپسٹین سے منسلک ایک بڑی وائر ٹرانسفر مسترد کر دی تھی، بعد ازاں اپریل میں ایپسٹین نے چارلس شواب بینک میں نئی کمپنیاں اور اکاؤنٹس کھلوائے جن میں سے ایک اکاؤنٹ مراکش محل کی خریداری کے لیے استعمال ہونا تھا۔
جون اور جولائی 2019ء میں سوئٹزرلینڈ منتقل کی جانے والی لاکھوں ڈالر کی رقوم یا تو واپس منگوا لی گئیں یا منسوخ کر دی گئیں کیونکہ بینکوں نے منفی میڈیا رپورٹس اور ایپسٹین کے ممکنہ فرار کے خدشے کے باعث ٹرانزیکشنز روک دی تھیں۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق 4 جولائی 2019ء کو ایپسٹین کے دستخط شدہ ایک اور وائر ٹرانسفر کی کوشش کی گئی لیکن ناکافی فنڈز کے باعث یہ بھی منسوخ ہو گئی۔
دو دن بعد 6 جولائی کو ایپسٹین کو نیو جرسی کے ٹیٹربورو ایئرپورٹ سے بچوں کی اسمگلنگ کے الزامات پر گرفتار کر لیا گیا۔
ایپسٹین کو نیویارک کی جیل میں رکھا گیا تھا جہاں چند ہفتوں بعد وہ اپنی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا، نیویارک کے میڈیکل ایگزامنر کے مطابق اس کی موت خودکشی تھی۔
یوں مراکش کا محل جو ممکنہ طور پر ایپسٹین کی پناہ گاہ بن سکتا تھا اس کی ملکیت میں کبھی نہ آ سکا۔