• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ: پولیس اہلکار کی ملازمت پر بحالی کی درخواست مسترد

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس اہلکار شہزاد حسین کی ملازمت پر بحالی کی درخواست مسترد کر دی، جسٹس محمد علی مظہر نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ 

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کے مطابق پولیس فورس میں وہی اہلکار رہ سکتے ہیں جن کا کردار شک و شبہ سے بالاتر اور بے داغ ہو، فوجداری کیس میں بریت پولیس جیسے منظم ادارے میں ملازمت پر بحالی کا خود بخود حق نہیں۔

عدالت عظمیٰ کے تحریری فیصلے کے مطابق محض بریت تادیبی فورس میں بحالی کےلیے کوئی لائسنس فراہم نہیں کرتی، بریت میرٹ کے بجائے گواہوں کے منحرف ہونے اور شکایت کنندہ کے صلح نامے کی بنیاد پر ہوئی۔

تحریری فیصلے کے مطابق محکمانہ انکوائری اور فوجداری ٹرائل میں ثبوت کا معیار بھی مختلف ہوتا ہے، پنجاب سروس ٹریبونل نے کانسٹیبل کی اپیل کو ایک سال سے زائد کی تاخیر کے باعث خارج کر دیا تھا۔ 

عدالت عظمیٰ کے تحریری فیصلے مطابق کانسٹیبل شہزاد حسین کو اینٹی کرپشن نے رشوت وصولی کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا، ملزم پر نوکری دلوانے کے نام پر 2 لاکھ روپے مانگنے اور 30 ہزار روپے پیشگی وصول کرنے کا الزام ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق گرفتاری کے وقت جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں چھاپہ مار کر ملزم سے رقم برآمد کی گئی تھی، گرفتاری کے بعد محکمانہ انکوائری میں کانسٹیبل کو قصوروار قرار دیا گیا۔ 

انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر کانسٹیبل کو سروس سے برخاست کر دیا گیا، اسپیشل جج اینٹی کرپشن نے 16 دسمبر 2022 کو کانسٹیبل کو مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید