آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بہترین کسٹمر سروسز کے لیے جدت آمیز ہم آہنگی کی ضرورت ہے

مجھے سام کک کا پرانا مشہور گیت ’’چین گینگ ‘‘ ہمیشہ بہت اچھا لگا ہے۔ جب بھی میں کسٹمر سروس پر بات کرتا ہوں، اس گیت کا حوالہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھی کسٹمر سروس فراہم کرنے کے لیے فرونٹ لائن ورکر سروسز سے لے کر تمام معاون ممبران کوایک چین ریکشن کی طرح کام کرنا ہوتا ہے ۔ اس ریکشن میں روانی اور ہمواری، دونوں ہونی چاہییں۔ کسی گاہک کو مطمئن کرنے کے لیے فعالیت کا سلسلہ ضروری ہے۔ لیکن یہ کسی سروس کی کمزوری بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔

مجھے رپورٹس سننا اچھا لگتا ہے ۔ میں اُنہیں دھیان سے سنتا ہوں، خاص طور پر جب اُنہیں ورجن کسٹمر سے شیئر کیا جاتا ہے ۔ چاہے یہ رپورٹس کسی بھی ذرائع سے آئی ہوں، ان میں سیکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی سبق ضرور موجود ہوتا ہے ۔ اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہ میں ہمیشہ اپنے کاروباری حریفوں پر تنقید نہیں کرتا، میں آپ کو برٹش ایئرلائنز کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔

لندن ائیرپورٹ پر نیویارک جانے والے جمبو جیٹ میں بیٹھے ہوئے ایک ایگزیکٹو کلب مسافر کو اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنا بہترین کوٹ ائیرپورٹ لاونج میں بھول آیا ہے ۔ وہ جہاز کے اگلے حصے کی طرف بھاگا اور سٹاف سے پوچھا کہ کیا اُ س کے پاس لائونج میں جانے اور کوٹ لے کر واپس آنے کا وقت ہے ؟’’سوری سر، بہت دیر ہوچکی ہے ‘‘، اسٹاف نے اُسے بتایا۔ ’’لیکن آپ فکر نہ کریں۔ گرائونڈ اسٹاف کو بتادیا جائے گا،اور یہ کوٹ آپ تک پہنچ جائے گا۔‘‘ اُسے یقین دلایا گیا۔ مسافریہ سوچتے ہوئے اپنی سیٹ پر واپس بیٹھ گیا کہ اب وہ اپنے کوٹ کوکبھی نہیں دیکھ پائے گا۔

ساڑھے سات گھنٹوں کے بعد جب اُس کا طیارہ کینڈی انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر اترا، وہ مسافر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایئرلائن کا نمائندہ اُس کا کوٹ لیے اُس کا منتظر ہے ۔ برٹش ایئرلائنز نے وہ کوٹ نیویارک جانے والے کنکارڈ طیارے کے ذریعے بھجوا دیا تھا۔ سپرسانک کنکارڈ نے بحر اوقیانوس کی فضائوں میں 747 جیٹ طیارے کو کہیں پیچھے چھو ڑ دیا تھا۔ تاہم یہاں میں یہ بتاتے ہوئے طمانیت محسوس کرتا ہوں کہ برٹش ایئرویز آئندہ ایسی سروس فراہم نہیں کرپائے گی کیونکہ تیز رفتار کنکارڈ طیاروں کی پروازیں مہلک حادثات کی وجہ سے معطل کردی گئی ہیں۔

یہ بھی درست ہے اگر ایئرلائن ذمہ داری محسو س کرتے ہوئے وہ کوٹ بعد میں آنے والی کس پرواز کے ذریعے بھیج دیتی۔ جب بھی مسافر کو اپنا کوٹ ملتا، وہ بہت شکریہ ادا کرتا۔ لیکن مسافر سے پہلے اُس کا کوٹ پہنچا دینا برانڈ کو چار چاند لگا دیتا ہے ۔ ایسے واقعات کی تشہیر کمپنی کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے ۔ یقینا وہ مسافر آنے والے کئی برسوں تک سینکڑوں افراد سے اس واقعے کا ذکر کرتا رہا ہوگا، اور وہ سینکڑوں لوگ بہت سے دیگر افراد کو برٹش ایئرویز کا کارنامہ سناتے رہے ہوں گے ۔

سروس چین میں ہر کڑی کا باہم متصل اور فعال ہونا بہت ضروری ہے ۔ اس کی اہمیت کی وضاحت کے لیے ایک اور واقعہ سنانے کی اجازت چاہوں گا۔ اس مرتبہ ورجن اٹلانٹک کا ذکر ہوگا۔ ایک اپرکلاس مسافر کو فری لیموزن کی سہولت میسر تھی، لیکن وہ نیویارک ہوٹل پر لیمو سے رابطہ کرنے میں ناکام رہا۔ دراصل وہ غلط گیٹ پر لیمو کا انتظار کررہا تھا۔ جب وہ لیموزن حاصل نہ کرسکا، تو جھنجھلاہٹ میں ایک ٹیکسی کیب لے کر نیویارک لبرٹی انٹر نیشنل ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ رش آوورز کی وجہ سے ٹریفک بہت زیادہ تھی۔ ایئرپورٹ پہنچنے تک وہ غصے سے لال پیلا ہورہا تھا۔ اُسے پرواز مس کردینے کا خوف بھی تھا۔

ورجن کی جوپہلی ایجنٹ اُس مشتعل مسافر کو ملی، اُس نے صورت ِحال کو کنٹرول کرلیا۔ اُس نے مسافر سے معذرت کی، اُس کا غصہ ٹھنڈا کیا، اور اُسے یقین دلایا وہ اپنی فلائٹ مس نہیں کرے گا۔ اُس ایجنٹ نے اپنی جیب سے ٹیکسی کا کرایہ ادا کردیا۔ پھر وہ مسافر کو سٹاف لین سے گزار کر اپنے ساتھ لے گئی، اور اس کے دس منٹ، جو ضائع ہوئے تھے، بچا لیے ۔ اُس نوجوان ذہین ایجنٹ نے اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کیا تھا۔ یہ مستعد ی بھی کنکارڈ کے ذریعے مسافرسے پہلے اُس کا کوٹ پہنچانے کے مترادف تھی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ایک اچھی سروس منفی صورت ِحال کو مثبت ، اور اپنے حق میں مفید، بنا سکتی ہے ۔

اب اس کہانی کا وہ حصہ جہاں سروس چین ٹوٹ جاتی ہے ۔ فلائٹ کے بعد بریفنگ کے دوران ایجنٹ نے سپروائزر کو بتایا کہ اُس نے اپنی جیب سے مسافر کی ٹیکسی کا کرایہ ، جو کہ 70 ڈالر تھا، ادا کیا تھا۔ ایجنٹ کو حاضر دماغی سے کام کرلے کر کمپنی کی عزت بچانے پر مبارک داد دینے کی بجائے سپروائزر نے کرائے کی رسید کا پوچھا۔ ایجنٹ کا جواب تھا کہ وہ وقت رسید حاصل کرنے کا نہیں تھا۔ اس پر سپروائزر نے درشت لہجے میں اُس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ رسید کے بغیر پیسے واپس نہیں ملیں گے۔ نیز وہ آئندہ محتاط رہے ۔

یقینا وہ سپروائزر اکائونٹنگ کے سخت اصولوں پر کاربند تھا۔ یہ اصول کسی ملازم کی تخلیقی پیش رفت کا ساتھ نہیں دیتے ہیں۔ اگرچہ مالیاتی نظم ضروری ہے ، خاص طورپر جہاں کیش کا معاملہ درپیش ہو، لیکن ایسے مواقع ضرور ہوتے ہیں جہاں بیلنس شیٹ پر کچھ لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ سپروائزر کے سخت رویے کو دیکھنے والے ورجن کے ملازمین آئندہ ایسی مستعدی دکھانے کی کوشش نہیں کریں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ورجن اپنے کسٹمر زکھو دے گی۔

خوش قسمتی سے ائیرپورٹ منیجر کو اس واقعے کا علم ہوگیا، اور اُس نے فوری طور پر اُس ایجنٹ کو ادائیگی کرادی۔ ا س کے ساتھ ساتھ سپروائزر کو یادہانی کرائی گئی کہ کمپنی کے لیے اُس کے کسٹمر اپنی بیلنس شیٹ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ’’مثبت اور بروقت اقدامات سے لوگوں کے دل جیتیں۔‘‘جب مجھے کہانی کا علم ہوا تو میں اس سے بہت متاثر ہوا۔ اگلی مرتبہ جب میں نیوجرسی گیا تو میں نے اُس ایجنٹ کو ملاقات کے لیے بلایا۔ میں نے اُسے کہا، ’’میرے پاس ٹیکسی کرائے کی رسید نہیں ہے، اس لیے ممکن ہے کہ آپ میری مدد نہ کرسکیں۔‘‘وہ مسکرا دی۔

کوئی کمپنی اپنی فرنٹ لائن سروس کو اس طرح تربیت نہیں دے سکتی کہ وہ ہر قسم کی صورت ِحال کو سنبھالنا سیکھ لیں۔ لیکن آپ اُنہیں اعتماد دے سکتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی صورت ِحال کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرتے ہوئے مطمئن رہیں کہ کمپنی اُن کے پیچھے کھڑی ہے ۔ اچھی کسٹمر سروس کسی سہولت کو آسمان پر پہنچا سکتی ہے، لیکن ضروری ہے کہ فرنٹ لائن کسٹمر سروس کے پیچھے افراد بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہر کوئی اپنا کام کرے۔ لیکن خراب کسٹمر سروس بھی خوشی فراہم کرسکتی ہے ۔ لیکن اس لیے ضروری ہے کہ یہ سروس آپ کے حریفوں کی طرف سے ہو۔ اس موقع پر میں ارتھرا فرینکلن کا گیت، ’’چین آف فول‘‘ گنگناتا ہوں۔

© 2018 رچرڈ برنسن (نیویارک ٹائمز سنڈیکٹ کا تقسیم کردہ) 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں