آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اگر مجھے دوبارہ کاروبار شروع کرنا پڑے۔۔۔

میری پسندیدہ ترین کہاوتوں میں سے ایک یہ ہے ، ’’90 فیصد زندگی ہمت دکھانے میں مضمر ہے ۔‘‘اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی نئے کاروبار کا پہلا قدم بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ ایک مرتبہ جب آپ کو کسی شعبے میں کوئی موقع مل جاتا ہے تو آپ کو اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے سب سے پہلے مالی وسائل کا انتظام کرنا ہے، جو کہ کسی بھی نئے کاروباری شخص کے لیے بعض اوقات سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ مجھ سے کیے گئے مندرجہ ذیل دوسوالات مجھے یاد دلاتے ہیں کہ میں نے اپنے کچھ کاروبارکیسے شروع کیے ، اور اگر مجھے دوبارہ موقع ملے تو میں کیسے شروع کرنا چاہوں گا ۔

سوال : اگر آپ کی عمر چوبیس سال ہو اور آپ کے پاس دستیاب بجٹ تین ہزار پائونڈز ہو تو آپ کیسا بزنس کرنا چاہیں گے؟ نیز اگر بجٹ پچیس ہزار پائونڈز ہوتو پھر آپ کی چوائس کیا ہوگی؟

جواب : چوائس بہت آسان ہے ۔ یہ کوئی ویب بزنس ہی ہوگا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بجٹ تین ہزار ہے یا پچیس ہزار۔ میں نے ساٹھ کی دہائی میں سٹوڈنٹ میگزین سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ میں نے ایک وقت میں ایک شمارہ فروخت کرنے سے یہ سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے ایک فون بوتھ سے ریکارڈ فروخت کرنا شروع کردیے ۔ آج اشاعتی ادارے اور میوزک کی صنعت کو انٹر نیٹ میں آنے والی تبدیلیوں نے مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ لیکن جہاں مشکل ہو، موقع بھی وہیں ہوتا ہے ۔

’’اگر میں آج جوان ہوتا تو میری سوچ بہت بلند ہوتی۔ آج نئے کاروبار کا آغاز کرنے والوں کے سامنے کوئی حد نہیں ہے ۔ جغرافیائی حدود بے معانی ہوچکی ہیں۔ جب میں نے ورجن کا آغاز کیا تو ہمارے منصوبے صرف برطانیہ تک ہی محدود تھے ۔ اس کی وجہ ہماری مالیاتی حدود اور ثقافتی اختلافات تھے ۔‘‘

کئی سال پہلے اپیل(Apple) نے موسیقی کی صنعت میں iTunes کے ساتھ انقلابی تبدیلی برپا کردی ۔ یہ اس کا آن لائن میوزک اسٹور تھا۔ اس کے بعد آئی پوڈآیا۔ پھر ایپل نے اشاعت کی دنیا میں آئی پیڈ متعارف کرادیا۔ ایپل کی سب سے اہم ڈیوائس آئی فون تھا۔ اب دنیا بھر کی انڈسٹری ایپلی کیشنز، گیمز ، میگزینز اور بکنگ انجن ڈیزائن کررہی ہے ۔ کامیاب ڈیزائنرز اور پبلشرز بہت دولت کمارہے ہیں، بالکل جس طرح ساٹھ اور ستر کی دہائی کے اشاعتی ادارے اور میوزک کے بڑے نام۔

مجھے ہمیشہ سے مواد، موسیقی، کتابوں ، ٹیلی ویژن اور فلموں میں دلچسپی رہی ہے ۔ ورجن نے ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے ، اور اس کے ملے جلے نتائج برآمدہوئے ہیں۔ اگر میں آج چوبیس سال کا نوجوان ہوتا تو میں app-gap تلاش کرتا۔ یہ گیپ مارکیٹ میں تلاش کرنا پڑتا ہے ۔ یہاں قدم رکھنے اور اہم کھلاڑیوں کے پائوں تلے زمین سرکانے کا موقع موجود ہوتا ہے ۔

اگر میں آج جوان ہوتا تو میری سوچ بہت بلند ہوتی۔ آج نئے کاروبار کا آغاز کرنے والوں کے سامنے کوئی حد نہیں ہے ۔ جغرافیائی حدود بے معانی ہوچکی ہیں۔ جب میں نے ورجن کا آغاز کیا تو ہمارے منصوبے صرف برطانیہ تک ہی محدود تھے ۔ اس کی وجہ ہماری مالیاتی حدود اور ثقافتی اختلافات تھے ۔ انٹر نیٹ کی ترقی کے ساتھ دنیا کی جغرافیائی حدود سمٹ چکی ہیں۔ یہ ایک مربوط اور متصل جگہ بن چکی ہے ۔

سوال : کسی نئے کاروبار کے لیے فنڈز حاصل کرنے کے تین بہترین راستے ذریعے کون سے ہیں؟

جواب: سب سے پہلااور فوری ذریعہ تو کسی دوست یا خاندان کے کسی فرد سے ادھار لینا ہے ۔ لیکن اس میں بہت بڑا خطرہ موجود ہے ۔ اگر بزنس نہ چلا تو نہ صرف رقم جاتی رہے گی بلکہ آپ اپنے دوست یا رشتہ دار کو بھی کھو دیں گے ۔ لیکن بہت سے نیا کاروبار کرنے والوں کے پاس فوری فنڈز حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہی ہوتا ہے ۔ ماضی میں ، میں خوش قسمت تھا کہ میری فیملی نے مجھے چند ایک مواقع پر فنڈز فراہم کیے ۔ 1967 ء میں ، میں ایج ویئر روڈ لندن کے ایک بیس منٹ میں رہتا تھا۔ یہ بیس منٹ میرے دوست، جونی جمز کے والدین کا تھا۔ ہم اسٹوڈنٹ میگزین چلانے کے ہاتھ پائوں مار رہے تھے ۔

ایک روز میری والد، ایو میر ے لیے ایک سوپائونڈ کیش لے کر آئیں۔ اُنہیں سڑک کنارے ایک قیمتی ہار ملا تھا جو وہ پولیس کے پاس لے گئیں۔ جب کسی نے تین ماہ تک اس کا دعویٰ نہ کیا تو پولیس نے وہ ہار میری والدہ کو دے دیا۔ وہ جانتیں تھیں کہ ہمیں فنڈز کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ اُنھوںنے وہ ہار فروخت کرکے ہمیں رقم دے دی۔ ایک سوپائونڈ سے ہم اپنے بل ادا کرنے اور مزید کئی ماہ تک کام کرنے کے قابل ہوگئے ۔ اس کے بغیر ہمارا بزنس زمین بوس ہوجاتا ۔

دوسرا آپشن بنک سے قرضہ لینے کا ہے ۔ میں نے شروع میں اپنے وسائل اور بنک سے قرض لے کر اپناکاروبار چلانے کی کوشش کی تھی ۔ اس نے مجھے اپنے کاروبار میں سرمائے کے ایک بڑے حصے کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے قابل بنا دیا، یہاں تک کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ اب ہم ایک مستحکم پلیٹ فارم رکھتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے بیرونی سرمایہ کار کی ضرورت محسوس کی۔ 

ورجن کی توسیع کے ابتدائی ایام میں ہم پر بعض مواقع ایسے آئے جب محسوس ہوتا تھا کہ ہم زمین بوس ہوچلے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں بیرونی سرمایہ قبول کرنے میں متذبذب تھا۔ میں محسوس کرتا تھا کہ محدود سرمائے کی وجہ سے ہم زیادہ توجہ کے ارتکاز کے ساتھ اگلے مرحلے میں قدم رکھتے ہیں۔ اور آخر کار ہماری کامیابی کا حقیقی عامل یہی توجہ کا ارتکاز ثابت ہوا۔

آخر میں، اگر آپ بنک سے قرض نہ لے سکتے ہوںتو اگر توجہ کا ارتکاز اور یقین رکھتے ہوں تو پھر اپنے اثاثوں، مکان وغیرہ، کو گروی رکھ کر پیسے حاصل کرلیں۔ اگر آپ خوش قسمت ہوں، جیسا کہ میں تھا، تو کسی دوست یا رشتے دار کے اثاثوں کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

1970 ء کی دہائی کے آغاز میں ، میں اپنے پہلے ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے لیے Manor خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس کے لیے مجھے 30,000 پائونڈز درکار تھے ۔ میری جیب میں محض 2,500 پائونڈزتھے ۔ میں نے بنک کو بڑی مشکل 20,000 پائونڈز قرض کے لیے راضی کیا۔ ابھی بھی 7,500 پائونڈز کم تھے۔ آخر کار میری انٹی جوائس آگے بڑھیں اور مجھے باقی رقم کا فرق دور کرنے کے لیے پیسے دیے۔

یہ انٹی کی شفقت بھی تھی اور رسک بھی۔ اگر مجھے اُس وقت پتہ چلتا کہ یہ رقم اُنھوں نے اپنے مکان کو گروی رکھ کر میرے لیے حاصل کی ہے تو میں قبول نہ کرتا۔ بہرحال میں نے وہ پیسے لیے اور Manor خرید لیا۔ جلد ہی ہم نے اپنا پہلا سپرہٹ ’’Tubular Bells‘‘ ریکارڈ کیا۔ 

اُن نامساعد حالات سے ورجن نے اپنے سفر کا آغاز کیاتھا۔ پھر ہماری کامیابی کا سفرشروع ہوا۔ جلد ہی میں نے انٹی کے 7,500پائونڈز مع سود ادا کردیے ۔ دوستوںاور رشتے داروں سے قرض لینے میں قباحت یہ ہے کہ وہ رقم کی واپسی کے ساتھ بہت سی دیگرمہربانیاں بھی چاہتے ہیں۔ اگر میری انٹی بھی ایسی ہوتیں تو شاید آج آپ ورجن اٹلانٹک کی بجائے ’’انٹی جوائس ایئرویز ‘‘ میں سفر کررہے ہوتے۔

© 2018 رچرڈ برنسن (نیویارک ٹائمز سنڈیکٹ کا تقسیم کردہ) 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں