آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مانچسٹر سٹی لیبر پارٹی کی ریاست بن کر رہ گئی ہے

تحریر :ڈیمین فلینیجن

تصور کریں میں آپ کو ایک ایسی ریاست کے بارے میں بتائوں جہاں اس کے 96منتخب نمائندےجمہوری طور پر گورننگ باڈی میں موجود ہیں اور ہر کوئی ایک ہی سیاسی پارٹی کےگن گاتا ہے۔

آپ کسی شک و شبہات کے بغیر ہنسیں گے اور حیران ہوں گے کیا یہ غیر مہذب بنانا ری پبلک یا سابقہ کمیونسٹ محصور علاقے ہیں۔ میں حوالہ دے رہا تھاکہ غالباً اب بھی کچھ علاقےطاقتور حکمرانوں کے زیر اقتدارہیں جنہوں نے ابھی تک مختلف پارٹی کی جمہوری حکومت کو مکمل طور پر اقتدار منتقل نہیں کیا۔

لیکن میں یہاں برطانیہ کی بات کررہا ہوں لیکن (برمنگھم سے معذرت کے ساتھ) انگلینڈ کے دوسرے شہر مانچسٹر کی بات ہورہی ہے۔

میں تھوڑا بہت مبالغہ آرائی سےکام لے رہاہوں حالانکہ یہ سچ ہے کہ 2010تا 2016تک مانچسٹر سٹی کونسل کے 96منتخب سیٹس کےتمام کونسلر کا تعلق لیبر پارٹی سے ہی تھا یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ روسی صدر پیوٹن اور کمیونسٹ چین کے نظام جیسا ہو۔ 2016کے بعد سے ایوان میں96 منتخب سیٹس میں سے صرف ایک لبرل ڈیموکریٹس کا نمائندہ جان لیچ منتخب ہوئے۔اس وقت لوکل گورنمنٹ میں 95کے مقابلے میں اپوزیشن کا صرف ایک نمائندہ ہے ۔

ہم مستقل یہ سنتے آرہے ہیں کہ بریگزٹ اور ہاؤسنگ کرائسزحکومت کیلئے کتنے اہمیت کے حامل ہیں لیکن ہم جمہوریت کے بحران کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سنتے۔ جس کی وجہ سے برطانیہ کےاہم شہرمیں طویل عرصے سے بحران جاری ہے۔ کسی بھی شہر موثر طریقے سے جمہوریت قائم نہیں ہوسکتاجب تک حزب اختلاف پارٹی یا اسکورٹنی ہوگی اور جب تک موضوع زیر بحث نہیں لائیں گے تویہ کیسے خود بخود ہوسکتا ہے۔

جب کسی بھی ملک کی گورننگ پارٹی دوسرے شہر میں مکمل طور پرجلاوطن ہوجائے تو اس ملک کو کیسے چلایا جاسکتا ہے؟مرکز میں ہونے والی کوئی بھی ذی شعور حکمران جماعت کسی دوسرے بڑے شہر میں خود کو دوبارہ مضبوط کرنےکو اپنی ترجیح میں رکھنے پر غور کرے گی۔ یا اپنی اعلیٰ سطح پر مشتمل وفود کو یہ معلوم کرنے کےلیے بھیجے گی کہ وہاں کیا ہورہا ہے اور ان کی وضح پالیسیاں وہاں کے عوام کو کتنا متاثر کرسکتی ہیں۔

ملک کے دوسرے حصے کے قارئین کو اس حوالے سے کوئی آئیڈیا بھی نہیں ہوگا کہ مانچسٹر سٹی میں کیا ہورہا ہے لیکن کنزریٹو سینٹرل آفس بامشکل ہی اس دعوے کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔

ملک کے کچھ حصوں میں قارئین اس بات سے لاعلم ہوں گے کہ مانچسٹر سٹی میں کیا ہورہا ہے لیکن کنزرویٹو سینٹرل آفس بامشکل ہی ان دعوؤں کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔ حالیہ متبادل پارٹی نے برمنگھم اور مانچسٹر کے درمیان سالانہ کانفرنس میں شرکت کی۔ تاہم جسے کہ میں نے گزشتہ ستمبر لکھا تھا کہ آپ کو ایک خاص چال کے ذریعے مخالف لیبر سپورٹر سے اپنے طریقے سے لڑنا ہوگا۔ ان پر شرمناک ‘‘ٹوری اسکم‘‘ کا الزام لگانا ہوگا۔

اگر کوئی مانچسٹر میں کہیں بھی کنزرویٹو پارٹی کا پوسٹر لگانے کی جرات کرتا ہے تومیری نیک خواہشات اس کے ساتھ ہے۔ انہیں اس کام کے بدلے پتھرکھانے کو بھی مل سکتے ہیں اور اس کا صلا بھی ملنا چاہئے۔ درحقیقت، یہاں تک کہ مضافاتی علاقہ ڈڈسبری کے سرسبزمقامات پرکوئی ایک بھی کنزرویٹو پارٹی کا پوسٹر آویزاں نہیں کیا گیا۔ لیکن جب لوکل الیکشن کی بات آتی ہے مخالف عموما گھر گھر جاکر پمفلٹ دیتے ہیں اور اس پملفٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ ’’ٹوریز جیت نہیں سکتے۔‘‘

مجھے مانچسٹر کا باشندہ ہونے اور کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنےپر فخر ہے لیکن مجھے یہ دیکھ کر سخت دکھ ہوتا ہے مانچسٹر سٹی کے ساتھ کیا کچھ ہوچکا ہے ۔ مانچسٹر سٹی میں اس طرح کی صورتحال پہلے نہیں تھی۔ گارٹن کے انتخابی حلقے میں میری پرورش ہوئی جن کے ایم پی کئی سال سے وہاں رہ رہے تھے ،وہ گزشتہ برس سے گیرلاڈ کاؤفمن ہاؤس آف کامنز کے بانی دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔ البتہ میں 1967 سےسال قبل پیدا ہوا،اس وقت تقریبا لیبر اور کنزرویٹو پارٹی دونوں ہی الگ الگ تھے۔ لیبر پارٹی نے اس زمانے میں کنزوریٹو پارٹی کے خلاف کم مارجن سے 45.9فیصد سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کنزرویٹو پارٹی نے 44.5فیصد ووٹ حاصل کیے تھے لیکن اس سے قبل عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے 76فیصد ووٹ حاصل کئے اور کنزرویٹو پارٹی کو 7فیصد ووٹ ملے۔

1987میںایسا لگتا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی عام انتخابات میں بھاری اکثریت سےکامیابی حاصل کرے گی کیونکہ ڈڈسبری سمیت ویتھنگٹن حلقے کنزرویٹو پارٹی کی سیٹ نظر آتی تھی لیکن نتائج اس کے برعکس نظر آئے۔ عام انتخابات، لیبر پارٹی کو 72فیصد جبکہ کنزرویٹوپارٹی 10فیصد ووٹ ملے۔

میں جانتا ہوں کہ میں جنوبی مانچسٹر سٹی سے دولت مند اور پوش علاقہ چیشائر میں ہجرت کرسکتا تھا۔ برطانیہ کے انتخابی حلقے ٹاٹن کے سابق رکن پارلیمنٹ جارج آسبرن کی طرح میں نے خود کو کنزرویٹو پارٹی کے انتخابی حلقے میں پایاہے لیکن میں ایسانہیں کرنا چاہتا۔ میں مانچسٹر ٹاؤن ہال کےپیچھے کنزرویٹو پارٹی کو لیبر پارٹی کے مدمقابل اصل اپوزیشن پارٹی کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔

میرا نہیں خیال کہ یہ ٹھیک ہوگا جب آپ مانچسٹر سٹی میں ایک پلاننگ کی درخواست جمع کرواتے ہیں ۔کمیٹی کی جانب سے وہ درخواست منظور ہوگی یانہیں، جوان کو تما م ووٹ د یں گے، جن کو ایک پارٹی مشین کی جانب سے ان کو ایسا کرنے سے ہدایت دی گئی ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ مانچسٹر کی جدوجہد کرنے والی اسٹیٹ اسکول میں بہتری کا کوئی امکان نہ ہوکیونکہ کونسل کی تعلیمی پالیسیوں میں کوئی بھی حزب اختلاف پارٹی نہیں ہے۔ میری دعا ہے کہ میرا پیارا شہر مانچسٹر سٹی عوام کا وقار دوبارہ حاصل کرے اوردنیا کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہواور اپنے دائیں بازوں کےفضول ایجنڈے سے چھٹکارا حاصل کرلےلیکن سب سے پہلے میں دعاگو ہوں کہ کنزرویٹو پارٹی مانچسٹر سٹی کو دوبارہ شامل کرلے ۔ اپنے روکھے انداز دکھانا اور یہ تاثر دینا بند کرے کہ اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سارا شہر لیبر پارٹی کی وجہ سے ہی پھنسا ہوا ہے۔

آج کے مانچسٹر سٹی کا شمارشاید کل کےدوسرے شہروں میں ہوسکتا ہے۔اگرچہ ابھی تک مانچسٹر سٹی میںبطور ایک پارٹی کو حکومت کرنے کیلئے اس میں کمی نہیں ہوئی کیونکہ لیور پول نیوکاسل میں بھی زیرو۔کنزرویٹو کونسلز ہیں۔ اب لندن کے بڑے قابضین بھی کنزرویٹو پارٹی کو چلاتے ہوئے خطرہ محسوس کرتے ہیں ۔

میں نے یہ بھی تجزیہ کیا کہ یہ تمام سیاسی پارٹی کے لیے ایک من گھرٹ کہانی ہے کہ وہ لوگ مطلوبہ سیٹس کے ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں لیکن آپ یہ محسوس کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے کہ سیاسی نظم ونسق کے بارے میں کچھ غیر معمولی چیزیں دنیا سے بیزاری اور تنگ نظری شامل ہیں جن کو صرف اور صرف انتخابی حلقے میں کامیابی اور کامیاب کونسلز سے غرض ہے۔سیاسی پارٹی وژن کی کمی کی وجہ سےان لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ وہ لوگ حقائق سے لاعلم رہتے ہیں، انگلینڈ کے دوسرے شہر میں ملک کی حکمران جماعت کی حمایت میں کوئی پوسٹر لگائے جاتے ہیں لیکن اب بلاسوچے سمجھے جرات کا مظاہرہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جیسے کہ روتھ ڈیوڈسن اسکاٹ لینڈ میں بڑی ذہانت سے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں ملک کے ایک حصے میں 13سیٹس میں کامیابی کو کنزرویٹو زکیلئے ’’ناقابل فتح‘‘ قرار دیا گیا۔ جب کسی کی سربراہی میں بھرپور توانائی، وژن کے ساتھ ایک مہم کی چلائی جاتی ہے ،متعلقہ مقامی افراد کے ساتھ روابط قائم کرنا چاہتےہیں تو حیران کن طور پر تیزی سے چیزیں تبدیل ہوسکتی ہیں ۔

3مئی کو لوکل الیکشن ہیں اور میں بڑے فخر سے مانچسٹر کے مشرقی حصے ڈڈسبری میں بطور کنزرویٹو امیدوار کھڑا ہورہا ہوں۔ اس حوالے سے میں لوگوں کے گھروں میں جاکر مہم چلاؤں گا لیکن بحیثیت پارٹی مطلوبہ سیٹ کیلئے اس کی بھرپور طریقے سے مہم نہیں چلائی جارہی۔

میں نہ صرف اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ درست رویےاور حمایت کے ساتھ کنزرویٹو پارٹی مانچسٹر سٹی میں خود ہی مضبوط ہوسکتی ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ یہ دونوں مانچسٹر سٹی اور ملک میں جمہوریت کیلئے بہت ہی اہم ہے۔

کنزرویٹو پارٹی جو مکمل طور پر مانچسٹر اور دوسرے شمالی شہروں میں لوگوں کو متاثر کرنے میں ناکام ہیں۔ پارٹی کو صرف چیشائیر اور ساؤتھ آف انگلینڈ جیسے شہروں کے اپنے ووٹرز کی فکر ہے جو توثیق کے شدید خطرے میں روایتی غیر ذمہ دارنہ رویوں کےساتھ پارٹی کو چلاتے ہیں بعض اوقات یہ رویے اس سے وابستہ ہوتی ہے۔

مانچسٹر سٹی کو فوری طور پر کنزرویٹو پارٹی واپس لانے کی ضرورت ہے لیکن کنزرویٹو پارٹی کو اس بات پر بھی توجہ دینی کی ضرورت ہے کہ مانچسٹر میں ان کی ترجیحات کی لسٹ میں کون سی چیز سرفہرست ہے ۔

٭٭٭٭

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں