آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان مبارک ہو۔ دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے مسلمان اس ماہ میں روزے رکھیں گے، تراویح میں قرآن سُنیں گے ، زکوٰۃ اور عطیات کے ذریعے مالی عبادت کی سعادتیں پائیں گے۔
پچانوے فی صد سے زائد مسلم آبادی والے ہمارے ملک پاکستان پر کبھی ایسی صبح بھی طلوع ہوگی کہ یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملے؟، یہاں بسنے والا ہر مسلمان زکوٰۃ ادا کرنے والا بن جائے؟، ہر شہری کو احترام کے ساتھ صحت معیاری تعلیم اور دیگر شہری سہولتیں میسر ہوں؟
پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی کارکردگی، حکمرانوں کے انداز وصلاحیتیں اور معیشت کے بگڑے رنگ ڈھنگ ان خواہشات کی تکمیل اور ایسی منزلوں کے حصول کے اشارے نہیں دیتے۔ پاکستان میں تو غریبوں کی تعداد اور ان کے مصائب میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے۔ دوسری طرف ایک محدود سا سرمایہ دار طبقہ پھل پھول رہا ہے۔ پچھلے چالیس پینتالیس برسوں میں پاکستان میں ناجائز دولت بھی بڑھتی رہی ہے۔ نتیجتاً غیر دستاویزی یا متوازی معیشت کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہوا ہے۔ اس دو نمبری معیشت نے غربت اور محرومی کے آگ برساتے وسیع و عریض صحرا میں امارت اور سہولتوں کے نئے نخلستان بنائے ہیں۔ ان نخلستانوں نے مفلسی کے صحرا میں گرمی اور پیاس کے مارے غریبوں اور زندگی سے بھرپور لطف اٹھاتے

امیروں کے درمیان فاصلے مزید بڑھادیئے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں اور دو نمبری معیشت کے نقصانات کا ہلکا سا اظہار پاکستان کے شہری علاقوں میں جائدادوں کی بہت زیادہ اور غیر حقیقی قیمتوں اور رہن سہن کے پر از اسراف انداز سے بآسانی ہورہا ہے۔ حرام دولت یا کالے پیسے پر مبنی متوازی معیشت سے امیر طبقہ مضبوط تر اور غریب مزید مفلوک الحال ہورہا ہے۔
انسانوں میں تین شعبے معاشرہ ، معیشت اور سیاست ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ ان تینوں شعبوں میں دو طبقات نمایاں ہیں۔ طاقت ور اور کم زور۔ طاقت ور طبقے اپنے مفادات کے لئے کمزوروں کا استحصال کرتے ہیں۔ بالادست افراد یا طبقات کمزوروں پر جبر کے لئے قوت کا حصول، طاقت کے مراکز یعنی حکومتی اداروں میں رسوخ اور وسائل پر قبضوں سے کرتے ہیں۔ انسانوں کی اکثریت کے لئے سب سے اہم معاملہ دو وقت کی روٹی کا حصول ہے۔ انسانوں کی محنت اور ان کی خواہشات پر غلبہ پانے کے لئے دولت مند طبقات نے سب سے زیادہ اسی ضرورت کو استعمال کیا ہے۔ ان کے طریقوں میں کہیں تھوڑا بہت فرق ضرور ہوسکتا ہے لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے کہ روٹی کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے غریبوں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کیا جائے۔ بیسویں صدی میں رائج ادوار جمہوری ادوار کہلاتے ہیں۔ جمہوریت کی اہم ترین خصوصیت اکثریت کی رائے کو فوقیت دینا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں بالادستی ایک چھوٹی سی اقلیت نے حاصل کررکھی ہے۔ معاشی میدانوں میں ہی دیکھ لیں مزدور، کسان یا دوسرے محنت کش طبقات سے تعلق رکھنے والے غریب اربوں کی تعداد میں ہیں جبکہ دنیا کی 80 فی صد سے زائد دولت رکھنے والے امراء کی تعداد محض چند ملین ہے۔ اپنی مرضی کا معاشی اور سیاسی نظام چلانے کے لئے قانون سازی کے اختیارات یا تو طبقہ امراء کے پاس ہیں یا قانون سازوں کو انہوں نے اپنے ساتھ ملالیا ہے۔ اس طرح دولت کے حصول کے مختلف طریقوں اور دولت کے ارتکاز کو دنیا بھر میں قانون کی چھتری اور حکومتی مدد ملی ہوئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے کچھ اقدامات تو یقیناً کئے گئے ہیں لیکن دولت کے ارتکاز کو روکنے اور پرائیویٹ دولت کو غربت دور کرنے اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کا پابند نہیں بنایا گیا ہے۔ اس خرابی کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت والے ملک امریکہ میں بھی رات کو بھوکے سونے والے اور بے گھر لاکھوں افراد تقریباً ہر ریاست میں موجود ہیں۔
نئے ہزارئیے کے آغاز پر 2000ء میں اقوام متحدہ نے ملینیم ڈیولپمنٹ گول پروگرام کے تحت 2015ء تک دنیا بھر سے بھوک اور غربت کے خاتمے کی توقع کی تھی۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس ہدف کے حصول میں 2018ء میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ دنیا سے بھوک اور غربت کے خاتمے کے لئے عالمی لیڈر شپ میں جس عزم اور ممالک ومالیاتی اداروں کے جس نظام کی ضرورت ہے وہ کہیں موجود نہیں ہے۔
2000ء میں نئے ہزارئیے کے اہداف مقرر کرتے وقت مسلمان ممالک انسانوں کی فلاح کے لئے قرآن پاک اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات سے ملنے والی رہنمائی سے دنیا کو آگاہ کرسکتے تھے لیکن افسوس کہ ایسا نہ کیا گیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں میں مغرب سے مرعوبیت اور مغلوبیت کا احساس ہے۔ مسلمان ممالک گذشتہ چند صدیوں سے مغربی ممالک کے سیاسی اور معاشی نظام سے مرعوبیت کی حد سے زیادہ متاثر ہیں۔ تقریباً سب اسلامی ممالک چاہے وہ جمہوری ہوں یا وہاں خاندانی بادشاہت رائج ہو ، حکومتی امور اور بیوروکریسی کے قواعد، شہری نظام ، دفاع، خارجہ وداخلہ پالیسیوں اور دیگر کئی معاملات میں مغرب کی پیروی کرتے ہیں۔ اپنے وطن پاکستان کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دنیا سے غربت، بھوک، بے روزگاری، اربوں انسانوں کو درپیش معاشی اور سماجی مشکلات سے چھٹکارے کے لیے آسان ترین راستہ یہ ہے کہ قرآن پاک اور حضرت محمد ﷺ کے عطا کردہ اصولوں سے رہنمائی لی جائے۔ جدید علوم سے بہرہ مند اور اسلامی احکامات سے واقف مسلم دانشوروں کو اس کام میں پہل کرنی چاہئے۔
معاشی شعبوں میں اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے واضح نکات یہ ہیں کہ دولت کمانے کے لئےکوشش کرنا ہر انسان کا حق ہے۔ تاہم ہر شخص اپنی کمائی ہوئی دولت کا تنہا مالک نہیں ہے۔ انسان کو اپنی دولت پر مشروط اختیار دیا گیا ہے۔ ہر آدمی کی دولت میں دوسرے انسانوں کے حقوق مقرر ہیں۔ اپنے زیرِ کفالت افراد پر حسبِ ضرورت خرچ کرنے کے بعد دوسرے انسانوں کے حقوق کی ادائیگی اللہ کی رضا ، آخرت میں نجات اور انسانوں کی فلاح کے جذبوں کے ساتھ خرچ کرنے سے ہوگی۔ اسلامی احکامات کے تحت نہ تو کمانے کی کھلی چھٹی ہے نہ ہی خرچ کرنے میں مکمل آزادی ۔ممنوع کاموں کے ذریعے دولت کمانا حرام قرار دیا گیا۔ دوسری طرف ممنوعہ کاموں پر خرچ کرنے پر بھی پابندی ہے۔ اپنے اور اپنے زیرِ کفالت افراد پر خرچ کرنے کے بعد حقوق العباد کی ادائی، زکوٰۃ، صدقات ، خیرات اور عطیات کے ذریعہ ہوگی۔
پاکستان میں استحصالی طبقے کی وجہ سے ایک طرف غربت میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف محض اللہ کی رضا کے لئے اور آخرت میں نجات کی توقع پر خرچ کرنے والے پاکستانیوں کی زکوٰۃ اور عطیات کے اربوں روپے سے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں کروڑوں عوام مستفید ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی کا قائم کردہ S.I.U.T، عبدالستار ایدھی کا ایدھی ٹرسٹ، ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت فاؤنڈیشن، ڈاکٹر عبدالباری کا انڈس اسپتال ملکی سطح پر نمایاں خدمات انجام دینے والے بڑے اداروں میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں چھوٹے بڑے سینکڑوں رفاعی ادارے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں کوشاں ہیں۔
الحمد للہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد زکوٰۃ اداکرتے ہیں۔ زکوٰۃ اور عطیات کی رقوم کئی اچھے کاموں پر صرف ہورہی ہیں ، ان کاموں کے تسلسل کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ سے ملنے والی رقم کو بہتر مینجمنٹ کے ذریعے غربت میں تیز رفتار کمی کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ اگر پانچ لاکھ صاحبانِ ثروت ہر سال ایک مستحقِ زکوٰۃ کو مناسب رقم دے کر کاروبار کروادیں تو اگلے سال پاکستان میں پانچ لاکھ غریب افراد زکوٰۃ لینے والوں کی فہرست سے نکل جائیں گے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں