آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍شوال المکرم 1439ھ 20؍جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکا اور شمالی کوریا کے صدور کی تاریخی ملاقات، امن کیلئے مشترکہ جدوجہد کا معاہدہ

سینتوسا (خبر ایجنسی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے امن کے لئے مشترکہ جدوجہد اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، ٹرمپ نے کہاکہ کم بہت ’ذہین‘ ہیں وائٹ ہاؤس بلاؤں گا جبکہ شمالی کوریائی رہنما نے کہاکہ دنیا’’ایک بڑی تبدیلی دیکھے گی۔منگل کو سنگاپور کے سیاحتی جزیرے سینتوسا کے ایک ہوٹل میں ہونے والی اس تاریخی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں جسے صدر ٹرمپ نے ’’بہت جامع‘‘ قرار دیا۔مشترکہ اعلامیے میں کم جونگ ان نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جب کہ دونوں ملکوں نے جزیرہ نما کوریا کی سلامتی اور امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے میں امریکا نے شمالی کوریا کو اس کی سلامتی کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی لیکن اعلامیے میں نہ تو یہ واضح کیا گیا کہ امریکا شمالی کوریا کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیا اقد اما ت کرے گا اور نہ ہی اس بارے میں کچھ

x
Advertisement

کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود جوہری ہتھیاروں کو کیسے اور کتنے عرصے میں تلف کیا جائے گا۔منگل کو پہلے تخلیے اور پھر وفود کی سطح پر ملاقاتوں کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس کے بعد صحافیوں کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے مختصر جوابات دیے۔ اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کے ساتھ اپنی ملاقات کو’’بہترین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت میں ’’خاصی پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔دونوں رہنما ؤ ں نے اپنی گفتگو میں اعلامیے کو تاریخی قرار دیا لیکن صحافیوں کو اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اعلامیے کی تفصیلات صحافیوں کو بعد میں بتادی جائیں گی۔اس موقع پر کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ دنیا’’ ایک بڑی تبدیلی دیکھے گی۔‘‘ لیکن انہوں نے بھی اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ تبدیلی سے ان کی کیا مراد ہے۔ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کو ’’بہت اہم، بہت ذہین مذاکرات کار‘‘ قرار دیا۔امریکی صدر نے کہا کہ شمالی کوریا کے سربراہ ایک’’بہترین شخصیت‘‘ کے مالک اور’’انتہائی ذہین‘‘ ہیں جو ان کے بقول اپنے ملک سے بہت محبت کرتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان دونوں نے ایک ساتھ ’’زبردست دن گزارا‘‘ اور’’ایک دوسرے کے بارے میں اور اپنے ملکوں کے بارے میں بہت کچھ جانا۔‘‘صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں کی ملاقاتیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ اس سوال پر کہ کیا صدر ٹرمپ کم جونگ ان کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دیں گے، صدر ٹرمپ نے جواب دیا، ’’یقیناً میں دوں گا۔‘‘مشترکہ اعلامیے پر دستخط کے بعد کم جونگ ان اپنے قافلے کے ہمراہ ہوٹل سے روانہ ہوگئے البتہ امریکی صدر وہیں موجود رہے ۔ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اس سے قبل ایسا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا تھا کہ ملاقات کے اختتام پر کسی معاہدے پر دستخط ہوسکتے ہیں۔ البتہ سربرا ہی ملاقات کے اختتام پر اعلامیے کا اجرا معمول کی کارر و ائی ہے۔منگل کو ہونے والی اس تاریخی ملاقات کے آغاز پر دونوں رہنماؤں نے صحافیوں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا تھا جس کے بعد دونو ں رہنماؤں کے درمیان تخلیے میں ملاقات ہوئی تھی۔40 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں صرف دونوں رہنما اور ان کے ترجمان شریک تھے۔بعد ازاں یہ ملاقات ظہرانے پر وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں تبدیل ہوگئی تھی جس میں امریکا کی جانب سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف جان کیلی اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بھی شریک ہوئے۔بات چیت میں شمالی کوریا کے سربراہ کی معاونت ان کے دست راست اور مشیر کم یونگ چول نے کی جنہوں نے حال ہی میں امریکا کا دورہ کیا تھا۔تخلیے میں ہونے والی ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ملاقات کو’’بہت اچھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ان کا’’ بہترین تعلق‘‘ بن گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ’’ہم ایک بڑا مسئلہ حل کرلیں گے۔‘‘تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اشارہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی جانب ہوسکتا ہے جو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس تاریخی ملاقات کے ایجنڈے میں سرِ فہرست تھا۔تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ منصب پر موجود کسی امریکی صدر نے شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔سینتوسا جز یر ے پر ہونے والی اس ملاقات کے لیے صدر ٹرمپ کا قافلہ منگل کی صبح ملاقات کے لیے منتخب کیے گئے سیاحتی مرکز کپیلا ہوٹل پہنچا تھا جس کے چند منٹ بعد ہی شمالی کوریا کا وفد وہاں پہنچا۔تخلیے میں ملاقات کے آغاز سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو میں صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ بات چیت اچھی رہے گی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’’ہم انتہائی کامیاب رہیں گے اور یہ میرے لیے اعزاز ہوگا اور مجھے کوئی شک نہیں کہ ہمارے درمیان بہترین تعلقات قائم ہوں گے۔‘‘اس موقع پر کم جونگ ان نے اپنے ترجمان کے ذریعے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے لیے یہاں آنا آسان نہیں تھا۔ان کے بقول’’پرانی روایات اور تعصبا ت ہمارے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ تھے لیکن ہم نے ان سب پر قابو پایا اور آج ہم آپ کے سامنے ہیں۔‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں