• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ترجمہ نگاری ایک لسانی اور فکری جہت

سیدہ رضوانہ نقوی

 ادب میں ترجمہ ایک نہایت اہم لسانی اور فکری عمل ہے۔ دنیا کے ادب کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں ادب کے پرستاروں نے بے انتہا دولت خرچ کر کے غیر ملکی زبانوں سے معیاری اور اہم کتابوں کے تراجم اپنی زبانوں میں کروائے، تاکہ وہ علم کی اس دولت سے محروم نہ رہ جائیں۔ ہماری تاریخ بھی ترجمہ نگاری کی روشن مثالوں سے مالا مال ہے۔ ایران کے فرمانروائوں، بغداد کے عباسی خلفاء اور مصر کے فاطمی خلفاء علم سے نہایت شغف اور محبت رکھنے والے لوگ تھے اور انہوں نے نہ صرف دنیا کے نامور شہ پاروں کا عربی میں ترجمہ کروایا، بلکہ لائبریریاں قائم کر کے ایک قابل تقلید مثال قائم کی۔ بغداد کی ’’بیت الحکم‘‘ اور مصر کی ’’بیت الحکم‘‘ جیسی لائبریریاں اپنی مثال آپ تھیں۔

دُنیا کی کوئی بھی زبان ترجمے کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتی، بلکہ موجودہ دور میں تو ترجمہ، زبانوں کی ضرورت ہے۔ ترجمے کے ذریعے زبان کئی اعتبار سے پھلتی پھولتی ہے۔ ترجمہ جہاں الفاظ و زبان کی نشو و نما کے ذریعے انسانی علوم میں اضافے کا سبب بنتا ہے، وہیں ذہنی سرحدوں کو بھی کشادگی بخشتا ہے۔ زبان کی سطح پر ترجمہ خیالات و جذبات کی ہر ہر کروٹ کو سمونے کی خاطر نت نئے اسالیبِ بیان سے متعارف کرواتا ہے۔ ترجمہ عملی سطح پر دو زبانوں اور دو تہذیبوں کے درمیان پُل کا کام کرتا ہے اور متن کا اس کی تمام اسلوبیاتی خصوصیات اور تہذیبی بُوباس کے ساتھ کسی دوسری زبان میں منتقل ہو جانا ہی ترجمے کا اصل حُسن ہے۔ ترجمے کے اس پُل کے ذریعے، علوم خیالات اور تصورات ایک تہذیب سے دوسری تہذیب کی طرف اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک آتے جاتے ہیں۔ یوں ترجمے میں درآمد اور برآمد دونوں کیفیتیں شامل ہوتی ہیں۔ ہمیشہ نئی اصنافِ ادب کا ورو د ترجمے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج اُردو زبان جس مرتبے پر فائز ہے ،اس میں بہت کچھ ترجمے کا بھی حصہ ہے۔

اُردو زبان میں ترجمہ نگاری کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود زبانِ اردو، برصغیر پاک و ہند میں ترجمہ نگاری کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ روایت تقریباً پندرہویں صدی کے نصف آخر میں اپنی ابتدائی شکل میں نظر آتی ہے، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہی دور اُردو زبان کے آغاز اور ارتقاء دونوں لحاظ سے بہت اہم ہے، یعنی اُردو زبان اور اُردو زبان میں ترجمہ نگاری نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کے اپنی ابتدائی اور ارتقائی منازل طے کیں، لیکن اس دور کی ترجمہ نگاری کو کسی خاص یا مقرر کردہ اصول، ضابطے یا قاعدے کے تحت پرکھنا جائز نہ ہو گا، کیونکہ اس دور میں ایسا کوئی اصول، قاعدہ یاضابطہ، ترجمہ نگاروں کےلیے وجود میں آیا ہی نہ تھا اور نہ ہی اُردو زبان اپنے تشکیلی اور ابتدائی دور میں اس چیز کا تقاضا کر سکتی تھی، مگر سولہویں اورخصوصاً سترھویں صدی کا زمانہ جنوبی ہند میں عہدِ زریں کہلانے کا مستحق ہے کہ اس دور میں ترجمہ نگاری اور اُردو زبان دونوں حوالے سے ایسے شاہکار تخلیق ہوئے، جن کی اہمیت آج بھی مسلّم ہے۔ اُردو زبان کے ابتدائی دور میں ترجمہ نگاری، ایک نومولود زبان کا دامن بھرنے کےلیے استعمال کی گئی۔ اس دور میں تمام تر تراجم مشرقی زبانوں سے کیے گئے، جن میں فارسی، عربی ، سنسکرت اور برج بھاشا وغیرہ شامل ہیں۔

اٹھارہویں صدی کے خاتمے سے کچھ پہلےدلّی میں ’’قرآن شریف‘‘ کے دو ترجمے ہوئے۔ ’’شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر‘‘ دلی کے بہت مشہور عالم شاہ ولی اللہ کے صاحبزادے تھے۔ ’’شاہ رفیع الدین ‘‘ نے قرآن پاک کا ترجمہ 1786ء اور شاہ عبدالقادر نے 1790ء میں کیا ۔ ان تراجم کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے، وہ بھی کلامِ پاک کو سمجھ کر پڑھ سکیں۔ یہ ابتدائی مساعی تھیں۔ ان کی اہمیت ادبی سے زیادہ تاریخی ہے۔ بعد میں قرآن مجید کے بہت اچھے اچھے تراجم ہوئے، جن کو ادبی حیثیت سے بھی بلند مقام حاصل ہے۔ شمالی ہند میں یہ دور بے انتہا تخلیقی نظر آتا ہے۔ مذہبی تخلیقات کے علاوہ 1775ء میں ایک فارسی داستان ’’قصۂ چار درویش‘‘ کا ترجمہ ’’حسین عطا تحسین‘‘ نے کیا۔ حقیقت میں اس کے مصنف ’’محمد معصوم‘‘ تھے۔ اس تصنیف کو اس دور کی بہترین تصانیف میں شمار کیا جاتا ہے۔ کتاب کا نام ’’نو طرزِ مرصع‘‘ ہے۔ تحسین کو فارسی کا اچھا علم تھا اور فارسی میں بھی کئی کتابیں لکھ چکے تھے، مگر وہ اُردو ادب کی تاریخ میں اس ترجمے کی بدولت زندہ ہیں۔ اُسی دور کی ایک اور کتاب ’’بہادر نامہ‘‘ ملتی ہے، جس میں سرنگاپٹم کی تاریخ ٹیپو سلطان کی جنگ تک بیان کی گئی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ بھی کسی فارسی تصنیف کا حصہ یا ترجمہ ہے۔

اُنیسویں صدی کا نصف آخر اور بیسویں صدی کا نصف اوّل، گویا سیاسی، سماجی اور ادبی لحاظ سے نہ صرف بیداری، بلکہ کشمکش کا زمانہ بھی ٹھہرا۔ ادبی لحاظ سے اور خصوصاً ترجمہ نگاری کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس زمانے میں ہمارے ادیب مشرق کو چھوڑ کر مغرب کی طرف متوجہ ہوئے، اُس زمانے میں مغربی زبانوں سے تراجم میں نہ صرف اضافہ ہوا، بلکہ ان تراجم کا جائزہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اُردو زبان و ادب کی وسعت گہرائی و گیرائی میں اخذ و ترجمے کا خاصہ اہم کردار رہا ہے۔ مثلاً (ادبی) تراجم نے نئے اسالیب کو جنم دیا۔ نئے طرزِ احساس کو ابھارا، پیرایۂ بیان میں صلابت، متانت اور استدلال پیدا کیا اور پیرایۂ اظہار کے نئے نئے سانچے فراہم کیے، نئی نئی اصناف سے آشنا ہی نہیں کیا ،بلکہ ان اصناف کو فنی و وقار بھی بخشا۔ ابتداً مغربی روایت سے بے شعوری اور ادبی سطح پر ہیبتِ تکنیک اور موضوعی کروٹوں سے ناآشنائی کے باعث تراجم میں انتہائی بدسلیقگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ ترجمے کے نام پر کاٹھ کباڑ کے ڈھیر لگا دیئے گئے۔ غیر اہم اور غیر مستند کتب کے ترجمے ہوئے۔ مترجمین کے ترجمے کے فن سے ناواقفیت اور تن آسانی نے اک نیا طرزِ تحریر ایجاد کیا، یعنی ایک ایسی ناقص زبان لکھی گئی، جو نہ تو خیالات کے اظہار پر قادر تھی اور نہ ہی معنی کی ترسیل پر۔

اُردو ادب میں منظوم ترجمے کی روایت ’’نظم طباطبائی‘‘ کی ’’گورِغریباں‘‘ سے آغاز ہوتی ہے، جو ’’گرے‘‘ کی مشہور ’’ایلیجی‘‘ کا منظوم ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ ’’شرر‘‘ کی فرمائش پر کیا گیا۔ نظم ’’طباطبائی‘‘نے اس ترجمے کی مقبولیت کے پیش نظر کئی ایک اور بھی تراجم کیے، خصوصاً ’’زمزمۂ فصیلِ بہار‘‘ (گرے) اور ’’دولت ِ خداداد افغانستان‘‘ (سر ایلفریڈلائل) کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ ’’ضامن کستوری‘‘ نے انگریزی نظموں کے منظوم تراجم کا مجموعہ ’’ارمغانِ فرہنگ‘‘ 1901ء میںشائع کروایا۔ یوں رسالہ ’’دل گداز‘‘ کی تحریک نے زور پکڑا اور ’’مخزن‘‘ کے پہلے ہی شمارے میں علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی نظم ’’ہمالہ‘‘ شائع ہوئی اور اسی شمارے میں ’’مولانا ظفر علی خان‘‘ نے ’’ٹینی سن‘‘ کی نظم کا ’’ندی کا راگ‘‘ کے عنوان سے منظوم ترجمہ پیش کیا۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے ’’ٹینی سن‘‘، ’’رانگ فیلو‘‘ اور ’’ولیم کاپر‘‘ کی متعدد نظموں کے تجربے کیے ہیں، جن میں ’’پیام صبح‘‘، ’’عشق اور موت‘‘ اور ’’رخصت اے بزم جہاں‘‘ بہت نمایاں ہیں۔ ’’پرندہ‘‘ اور ’’جگنو‘‘، ’’پرندے کی فریاد‘‘ اور ’’ماں کی تصویر‘‘ دیکھ کر تینوں نظمیں ’’ولیم کاپر‘‘ سے مترجمہ ہیں۔ ’’شرر‘‘ کی تحریک کو ’’نظم طباطبائی‘‘ کے بعد ’’علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ‘‘، ’’مخزن گروپ‘‘ کے شعراء نے بڑھاوا دیا اور منظوم ترجموں کی تحریک سے تعاون کرنے والوں میں ’’محمد حسین آزاد‘‘، ’’حسرت موہانی‘‘، ’’عزیز لکھنوی اور حافظ محمود شیرانی‘‘ جیسے نام شامل ہیں۔


تازہ ترین