آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
غلطی اور ناکامی کا اعتراف کرنے میں دیر نہ لگائیں

ہر کاروباری شخص میںناکامی کا اعتراف کرنے،اور غلطیوں کی اصلاح کرنے کی صلاحیت ضروری ہے امیریکن ایکسپریس اوپن فورم اور ایک بزنس میگزین کے قارئین نے مجھ سے بہت عمدہ سوالات پوچھے ۔ ان سوالات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ مجھ سے اپنے کیریئر کے دوران کیا غلطیاں ہوئیں، اورمیں نے کیا غلط اقدامات اٹھائے ؟

ایک قاری نے مجھ سے سوال کیا کہ جب کوئی بزنس ٹھیک نہ جارہاہوتو اُس وقت آپ کا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے؟ ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت اسے ختم کرکے کسی اور سمت قدم بڑھانا ضروری ہوتا ہے ؟ آپ نے اپنے کئی ایک مضامین میں اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا جن کا آپ کو ابتدا میں سامنا کرنا پڑا،لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ ورجن نے کئی ایک شعبوں میں قدم رکھا۔ آپ کس طرح فیصلہ کرتے ہیں کہ اب آپ کو کسی اور شعبے میں قدم رکھنا چاہیے ؟‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ کاروبار کے کسی نہ کسی مرحلے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وہ گہری سوچ بچار اور محاسبے کا وقت ہوتا ہے ۔تاہم یہ آسان کام نہیں۔ انسانی فطرت خود احتسابی سے دور بھاگتی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ آپ اپنی غلطی کو دیکھ رہے ہوں، لیکن آپ اسے تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ کاروبار شروع کرنے والے زیادہ تر افرادکو رقم کی کمی کا مسئلہ رہتا ہے ۔ اس کی وجہ سے وہ یکے بعد دیگرے مختلف بحرانوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ایسی صورت ِحال میں مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کاروباری افراد کو مضبوط قوت ِ ارادی اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مجھے اپنے حریفوں، بینکاروں، رپورٹروں اور حتیٰ کہ فنانس ڈائریکٹرز کی گنتی بھی یاد نہیں جنہوں نے مجھے بتایا تھا کہ بس کرو، اب تمہار ا وقت ختم ہوچکا ۔ لیکن ہر مرتبہ میں نے پینترا بدلا اور کسی اور نئے میدان میں قسمت آزمائی شروع کردی ۔ مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ صورت ِ حال اتنی گمبھیر ہوتی نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے ۔ ہمیں بعض مواقع پر اپنے مکانات، ہوٹل اور حتیٰ کہ بزنس فروخت کرکے کیش کا انتظام کرنا پڑا۔ بعض اوقات ہمیں نئے طیاروں کا آرڈر دینے ، نئے نائٹ کلب خریدنے اور نئے برانڈ متعارف کرانے میں مشکلات کا سامنا تھا ، لیکن ہم نے کوئی نہ کوئی راہ نکال لی۔

ضروری ہے کہ آپ اس مشکل دور میں حقیقت پسندی کا سامنا کریں۔ ایسے مرحلے آسکتے ہیں جب آپ اپنی بہترین کوششوں کے باوجود یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب کاروبار کو بچانا ناممکن ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پہلا گھائونرم ہوتا ہے، چنانچہ دوسرے گھائو سے بچیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر آپ کے لیے اپنے بل اور تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کرنا مشکل ہے، اگر آپ کے کسٹمر آپ سے بدظن ہوتے جارہے ہیں ، اور اگر آپ اپنے برانڈ کو متعارف کرنے میں ناکام ہیں تو یہ وقت کاروبار ختم کرنے کا ہے ۔ ورجن میں ہماری ٹیم کے بہترین فیصلو ں میں ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے جلدی ہی مارکیٹ سے واپسی کی راہ اختیار کی ، کیونکہ ہم دیکھ رہے تھے کہ ہماری پراڈکٹ اور ہمار ا برانڈ گاہکوںکو متاثر کرنے میں ناکام ہے ۔ ہمیں احساس ہوگیا تھا کہ ہماری فروخت کبھی نہیں بڑھے گی ۔

مارکیٹ سے واپسی کی ایک اچھی مثال ورجن پلس ڈیجیٹل میوزک پلیئر تھا۔ ہم نے یہ کمپنی 2004ء میں قائم کی تھی، لیکن ایک

سال بعد اسے ختم کردیا کیونکہ یہ اہم برانڈز کے مقابلے میں گاہکوں کو متاثر کرنے میں ناکام رہی تھی۔ ایپل کے آئی پوڈ اور آئی ٹیونز کے مارکیٹ میں آنے اور مقبول ہونے کی وجہ سے ورجن کی ڈیوائس لانچ ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوچکی تھی ۔

بعض اوقات ہم ناکامی کے باوجود بزنس کو کچھ دیر چلنے کا موقع دیتے ہیں۔ ورجن میگا سٹورز کو ایم پی تھری ڈائون لوڈنگ نے بہت بری طرح متاثر کیا ۔ نئی ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں ریکارڈز کی فروخت کم کردی۔ اس کاروبار پر کی جانے والی سرمایہ

کاری ڈوب رہی تھی، لیکن ہم نے اس سے فوراً ہی واپس نہ کھینچا۔ میں پریشان تھا ، کیونکہ اس کا مطلب ٹائمز اسکوائر اور اوکسفورڈ سٹریٹ جیسے اہم مقامات سے برانڈکا خاتمہ تھا۔ یہ اسٹور ہمارے ماضی کی نشانی کے طور پر ہماری شناخت تھے ۔ لیکن

نقصانات کا حجم اس قدر زیادہ تھا کہ ہمیں اپنا کاروبار فروخت کرنا پڑا۔اس کے بعد ہم نے اپنی توجہ اُس مارکیٹ کی طرف مرکوز کرلی جو ہماری پیش رفت سے متاثر ہوتی، لیکن ہمیں متاثر نہ کرتی ۔

ایک اور قاری نے پوچھا کہ پریشانی کے عالم میں آپ کس طرح اپنا حوصلہ جمع کرتے ، اور مشکل پر قابو پاتے ہیں؟کیا آپ پہلے کاروبار کو مکمل طور پر دفن کرتے ، اور پھر کوئی نیا کام شروع کرتے ہیں۔ میں نے اس کا جواب یہ دیا تھا کہ میری والدہ نے ابتدائی عمر میں ہی مجھے سکھا دیا تھا کہ میں ماضی پر تاسف کرنے میں وقت ضائع نہ کروں۔ میں نے اس نصیحت کو اپنے بزنس کیریئر پر نافذ کیا۔ کئی برسوں سے میری ٹیم اور میںنے کوشش کی ہے کہ غلطیاں اور ناکامیاں ہمیں نیچا نہ دکھاپائیں۔ اس کی بجائے جب بھی کوئی منصوبہ ناکام ہوتا ہے ، ہم اسے ایک موقع جان کردیگر مواقع کا جائزہ لیتے اور قسمت آزمائی کرتے ہیں۔

ہم نے 2009ء میں ایک برطانوی بینک ، ناردن راک خریدنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔ کئی مہینوں کی محنت کے بعد ورجن منی نے ایک کنسورشیم قائم کیا تاکہ ہم بینک خرید کر اس کے قرضہ جات کو ری فنانس کرسکیں، لیکن وزیر ِ اعظم گورڈن برائون کی حکومت نے اُس بینک کو قومی تحویل میں لے لیا۔ میں حکومت کے اس فیصلے پر حیران رہ گیا۔ میں نے نیکر آئی لینڈ پر کچھ راتیں غم غلط کرتے گزاریں۔ لیکن چند دنوں کے بعد میری ٹیم نے خود کو سنبھالا اور ہم نے منصوبہ بنانا شروع کردیا کہ ہم اپنا ایک بنک کیسے قائم کرسکتے ہیں؟ اس کے بعد ہم نے برطانیہ کے عظیم ترین مالیاتی اداروں کے ساتھ مسابقت شروع کردی۔

جب مجھ سے پوچھا کہ میری ’’پسندیدہ ترین ناکامی ‘‘ کون سی ہے تو اس کا جواب ہے ، ورجن کولا۔ میں نے اس کے اشتہار کے لیے ٹائمز اسکوئر میں ٹینک چلایا، اور پھر ایک ایسی بوتل پی کر ختم کی جو پامیلا اینڈرسن کی شکل کی تھی ۔ اس بزنس میں ناکامی نے مجھے سکھایا کہ سافٹ ڈرنک بنانے والی دنیا کی عظیم ترین کمپنیوں کی طاقت کا غلط اندازہ کبھی نہ لگائیں۔ اس کے بعد میں نے کبھی سافٹ ڈرنک کی دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش نہ کی۔کاروبار کی یہ دنیا سافٹ ہرگز نہیں ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں