آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی

ملک سے باہررہنے والے تارکین وطن ہرماہ اپنے پیاروں کو پیسے بھیجتے ہیںتاکہ وہ اپنے معمولات زندگی چلاسکیں۔ اس کے علاوہ تہواروں اور گھریلو تقاریب میں خرچے چونکہ بڑھ جاتے ہیں توایسے میں ان کی طرف سے اپنی تنخواہ یا جمع پونجی میں سےاضافی رقوم بھی بھیجی جاتی ہیں۔بیرونِ ممالک سے رقوم بھیجنے والوں میںزیادہ ترتعداد ان افراد کی ہوتی ہے جوروزگارحاصل کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک گئے ہوتے ہیں جب کہ باقی وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کررکھی ہے مگر ان کے پیارے ابھی بھی ملک میں بستے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت مزدوری کرکے اپنے ملک جورقوم بھیجتے ہیں اسے ترسیلاتِ زر کہاجاتاہے۔

تارکینِ وطن اور ترسیلات ِ زر

کسی بھی ملک کی معیشت میں ترسیلاتِ زر اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جبکہ کچھ ممالک کی معیشت میں تواس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔دنیابھر میں تقریباً 25 کروڑ80 لاکھ افراد اپنے ملک سے باہر زندگی گزار رہے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم افراد جب اپنے ملک میں رقوم بھیجتے ہیں توبینک ان کی رقوم کو مقامی کرنسی میں تبدیل کرکے ان کے گھروالوں کو ادائیگیاں کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً80 کروڑ افراد ترسیلاتِ زر سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں۔ بینک جو غیرملکی کرنسی اپنے پاس رکھتے ہیں وہ تجارتی خسارہ پورا کرنے کے کام آتی ہے۔اگر ترسیلاتِ زر نہ ہوں تو درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے قرض لیناپڑتا ہے۔ عالمی بینک کے اعداوشمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ترسیلات زر وصول کرنے والے ممالک میں بھارت پہلے نمبر پر ہے جس کو 2017ء میں69 ارب ڈالر موصول ہوئےجبکہ چین 64 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے، فلپائن تیسرے(33ارب ڈالر)، میکسیکو چوتھے(31ارب ڈالر) اورنائجیریا 22ارب ڈالر کے ساتھ پانچویںنمبر پر رہا۔ 2017ء کی ہی بات کریں تو عالمی بینک کا کہنا ہے کہ 2016ء کے مقابلے میں دنیا بھر کے تارکینِ وطن نے7فی صد اضافے کے ساتھ مجموعی طور پر 613ارب ڈالراپنے اپنے ممالک بھجوائے۔عالمی بینک کے اندازے کے میں کہا گیا ہے کہ رواں سال ترسیلاتِ زر4.6فی صد کے ساتھ 642ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ سال عالمی سطح پر ترسیلا بین الاقوامی سطح پرخام تیل کی قیمتوں کا بڑھنا جبکہ یورو اور روس کی کرنسی میں استحکام، ترسیلاتِ زر میںاضافے کا سبب ہیں۔

پاکستانی معیشت کے لیے ترسیلاتِ زر کی اہمیت

ترسیلاتِ زر کا پاکستانی معیشت میں کلیدی کردار رہا ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے حکومت ان کے ذریعے اپنا خسارہ پورا کرنے میں مدد لیتی آئی ہے تاہم حال ہی میں جب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رقوم بھیجنے میں کمی واقع ہوئی تو تجارتی خسارہ بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا۔ پاکستانی معیشت اس وقت تیزی سے ترسیلات پر انحصار کر رہی ہے کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ درآمدات میں ہوتا اضافہ اور غیر متوقع تجارتی خسارہ معیشت کو مستحکم کرنے کی حکومتی کوششوں میں رکاوٹ حائل کر رہا ہے۔پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کا بڑا ذریعہ ترسیلات زر ہیں،جس میں اضافے کے لئے متعدد انتظامی اور پالیسی اقدامات بھی کیے گئےہیں۔ایک اورحل طلب مسئلہ یہ ہے کہ ترسیلاتِ زربھیجنے کی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے۔عالمی بینک کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بین الاقوامی سطح پر200ڈالر بھیجنے کی اوسط لاگت7.1فی صد رہی جبکہ "Sustainable Development Goal" کا ہدف3فی صد تھا۔ ترسیلاتِ زر بھیجنے کی لاگت کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیںجاری ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ رقوم حاصل ہوسکے۔

زرمبادلہ کے ذخائراور ترسیلات زر

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور برطانیہ سے سب زیادہ ترسیلات زر پاکستان بھیجی جاتی ہیں۔ مالی سال 2017-18 کے پہلے 11 ماہ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 18 ارب ڈالر سے زائد کی رقوم بھیجی گئی ہیںجبکہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 17 ارب 51 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی گئی تھیں۔ گزشتہ مالی سال ترسیلاتِ زر میں کمی کی وجہ بیرونِ ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میںتارکین وطن پر نئے ٹیکسوں کا اطلاق اورانھیں نوکریوں سے نکالے جانا ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس سے متاثر ہوئی ہے اور یہ وجہ ترسیلاتِ زر میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔تارکینِ وطن پاکستانیوں کی جانب سے قانونی ذرائع سے غیرملکی کرنسی کی منتقلی ملک میں زرِ مبادلہ کے ذخائر اور دیگر کرنسیوں کے مقابلہ میں پاکستانی کرنسی کو مستحکم کرتی ہے۔

ترسیلاتِ زر کو کہاں  خرچ کیا جائے؟

پاکستان میں سالانہ20ارب ڈالر سے زیادہ ترسیلات زر آتی ہیں۔ پاکستان میں مجموعی طور پر بچت کا تناسب 20 فی صد ہے، اس حساب سے تقریباً4ارب ڈالر کی بچت ہونی چاہیے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ رقم کہاں جاتی ہے؟ ملکی معیشت پر اس کے مثبت اثرات کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ہمیں شاید ہی کوئی قابل ذکر صنعت نظرآئے گی جس کے لیے سرمایہ ترسیلات زر سے لیا گیا ہو، اسی طرح روزگار کی فراہمی سے متعلق بھی ہمیں ترسیلات زر کا کوئی قابل ذکر حصہ دکھائی نہیں دیتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ترسیلاتِ زر کا بہتر استعمال کس طرح کیا جائے۔ ترسیلات زربھیجنے والوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جائیں جہاں انھیں بھی معقول منافع حاصل ہو اورساتھ ہی ملک میں روزگار کے مواقع ہاتھ آئیںمثلاً قومی مفاد کے منصوبوں کے لیے فنڈز مہیا کرنا۔حکومت کو چاہیے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ملک میں ایک ایساماحول ترتیب دیں جہاں وہ سماجی اور مالیاتی طور پر دلچسپی لیں۔ ان کے لیے ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن میں  انھیں  ٹیکس چھوٹ، مالیاتی تعلیم اور اس تک رسائی، بچت کی اسکیم، کاروباری مواقع اور آسان رہائشی منصوبے دیے جائیں۔ایسا کرنے سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی زیادہ سے زیادہ ترسیلات زر بھیجنے اور ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی جانب راغب ہوں گے۔

ہنڈی اور حوالہ کی حوصلہ شکنی

ہنڈی اور حوالہ کا نظام روپیہ کو غیر مستحکم کرتا ہے جبکہ کرنسی کی اسمگلنگ اور سرمایہ کے انخلاء کو فروغ دیتا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہنڈی اور حوالہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ بیرونِ ملک مقیم تمام افراد قانونی ذرائع سےاپنی رقوم پاکستان بھیجیں۔اس سلسلے میں عوام میں قانونی بینکاری کے ذرائع کی موجودگی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ رقم منتقل کرنے والے افراد ہنڈی اور حوالہ کی طرف سے پیش کیے جانے والی سہولیات کے باعث خود بخود انکی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ رقم کی اس غیر قانونی منتقلی کے منفی پہلو سے نا واقف ہوتے ہیں جو کہ انسانی تجارت، اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور بین الاقوامی دہشت گردی کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں