آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
افغانستان: جنگ و امن کے درمیان

عید الفطر کے موقعے پر ہونے والی جنگ بندی نے افغان عوام میں اپنے وطن میں قیامِ امن کی امیدیں پھر سے جگا دی ہیں۔ اس موقعے پر وہ تصاویر اور ویڈیوز خاصی مقبول ہوئیں، جن میں طالبان جنگ جوئوں کو افغان آرمی کے اہل کاروں اور عام شہریوں سے گُھلتے ملتے دِکھایا گیا ۔ عید کے پُر مسرّت موقعے پر افغان باشندوں نے طالبان جنگ جُوئوں کے ساتھ سیلفیز بنوائیں اور امن و آشتی کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے افغان عوام اور طالبان جنگ جُو دونوں ہی جنگ بندی کے منتظر تھے، تا کہ سرِ عام ایک دوسرے کے لیے محبت و روا داری کے جذبات کا مظاہرہ کر سکیں۔ پھر ان مناظر سے پوری دُنیا میں یہ تاثر پھیلا کہ درحقیقت افغان قوم کسی مجبوری کے تحت ہی منقسم ہے۔ افغان صدر، اشرف غنی تو ان مناظر سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے افغان حکومت کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان بھی کر دیا، لیکن طالبان نے اس پیش کش کو اتنی ہی سرعت سے مسترد کر دیا اور پھر حملے بھی شروع کر دیے۔ کیا یہ اینٹی کلائمیکس یا ضد ِعُروج تھا؟

اس موقعے پر امریکا کا یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ وہ افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، جب کہ اس سے قبل پاک فوج کے سربراہ، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر، اشرف غنی اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر، جوزف ووٹل سے ملاقات کی تھی۔ اس موقعے پر جو بیانات سامنے آئے، ان کا لُبِ لباب یہی تھا کہ امن کی جانب پیش رفت کی جائے۔ اس صورتِ حال میں ماہرین یہ استفسار کرتے ہیں کہ اگر افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوئی پیش رفت ممکن ہے، تو وہ کس نوعیت کی ہو گی، کیوں کہ اس وقت علاقے کی تمام بڑی طاقتیں اس مصالحتی عمل کا حصّہ بننے کا واضح عِندیہ دے چُکی ہیں۔ تاہم، مسئلہ افغانستان کے حل میں پاکستان سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور افغانستان میں امن و استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں افغانستان میں روپوش کالعدم تحریکِ طالبان، پاکستان کے سربراہ، مُلاّ فضل اللہ کے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے کی خبر سامنے آئی۔ فضل اللہ کا تعلق پاکستان کے علاقے، سوات سے تھا۔ اُس نے نوجوانی میں اپنے سُسر، صوفی محمد کی نام نہاد تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی میں شمولیت اختیار کی۔ افغانستان پر امریکی حملے کے فوراً بعد وہ صوفی محمد کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے افغانستان گیا۔ صوفی محمد اور فضل اللہ اپنے ساتھ سوات کے سیکڑوں افراد کو لڑائی کے لیے افغانستان لے کر گئے، لیکن صرف یہ دونوں ہی اپنے آبائی علاقے میں صحیح سلامت واپس آئے اور ان کے ساتھ افغانستان جانے والے سیکڑوں افراد کا آج تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔ افغانستان سے فرار کے بعد فضل اللہ نے اپنے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے سوات میں اپنے شدّت پسند نظریات کو پھیلانا شروع کیا اور اسے ’’مُلاّ ریڈیو‘‘ قرار دیا گیا۔ فضل اللہ نے کچھ ہی عرصے میں سوات اور اس کے گرد و نواح میں غلبہ حاصل کر لیا اور پھر نفاذِ شریعت کے نام پر سوات میں پُر تشدّد واقعات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ مقامی باشندوں کے جان و مال محفوظ نہ رہے۔ 

زندگی ان کے لیے عذاب بن گئی اور سوات سیّاحتی مقام سے مقتل بن گیا۔ بعد ازاں، پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف انتہائی کام یاب آپریشن کیا اور پُر تشدّد واقعات سے سوات کے عوام کو نجات دِلائی۔ پاک فوج کے ہاتھوں شکست کے بعد فضل اللہ افغانستان فرار ہو گیا اور وہیں سے بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ فضل اللہ اپنے حلقۂ اثر میں ایک عالم کا تاثر رکھتا تھا اور اپنے فنِ خطابت سے سادہ لوح افراد کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی۔ اپنے نظریات کے اعتبار سے وہ طالبان کے سخت گیر رہنمائوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس پر ملالہ یوسف زئی اور آرمی پبلک اسکول، پشاور پر حملے سمیت دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام تھا۔ فضل اللہ کو حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔

افغان صوبے، کُنّڑ میں فضل اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی افغان صدر نے بہ ذاتِ خود تصدیق کی۔ اس سلسلے میں اُن کی پاکستانی حُکّام سے اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوئی۔ خیال رہے کہ پاکستان کا امریکا اور افغان حکومت سے یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ افغانستان میں روپوش فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کی جائے، کیوں کہ وہ پاکستان کی سر زمین پر فساد پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ 

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد ایک رائے یہ سامنے آئی کہ اب افغان حکومت اور امریکا، افغان طالبان کے سلسلے میں پاکستان پر دبائو مزید بڑھائیں گے، کیوں کہ ان کا الزام ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، جب کہ پاکستان اس الزام کو یک سَر مسترد کرتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے صفائے کے بعد اب کوئی بھی اس کی سر زمین کسی دوسرے مُلک کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا۔ نیز، پاک فوج ڈیورینڈ لائن پر باڑ بھی نصب کر رہی ہے، جس کا مقصد مغربی سرحد سے غیر قانونی آمد و رفت کو روکنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فضل اللہ سے قبل کالعدم تحریکِ طالبان، پاکستان کے تینوں سابق سربراہان، مولوی نیک محمد، بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود بھی امریکی ڈرون حملے ہی کا نشانہ بنے تھے، البتہ فضل اللہ کو افغان علاقے میں اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کیا گیا، جب کہ باقی سرحد کے اس پار ہلاک ہوئے تھے۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے بھی فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

افغانستان میں اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ عید الفطر پر ہونے والی جنگ بندی اور خوش گوار جذبات کے مظاہرے کے بعد ایک بار پھر افغان طالبان کے حملے شروع ہو چُکے ہیں۔ گویا افغان طالبان نے افغان حکومت کی جانب سے سیز فائر میں توسیع کی پیش کش کو عملی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد نئی امریکی انتظامیہ نے افغانستان کی صورتِ حال کا از سرِ نو جائزہ لینا شروع کیا تھا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن کی جانب سے دو بنیادی پالیسیز کا اعلان کیا گیا۔ ان میں سے پہلی پالیسی افغانستان اور جنوبی ایشیا اور دوسری امریکا کی عالمی سیکوریٹی سے متعلق تھی، جو دسمبر 2017ء میں سامنے آئی۔ ان دونوں پالیسیز میں افغانستان میں جاری جنگ کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ اسی موقعے پر پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا گیا، جسے پاکستان نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ اپنے حصّے کا کام کر چُکا ہے اور اب یہ امریکا اور افغان حکومت کی ذمّے داری ہے کہ وہ افغانستان میں گزشتہ 18برس سے جاری شورش کو ختم کریں۔ بعد ازاں، امریکا نے پاکستان کی امداد بھی روک دی اور غالباً یہ پاک، امریکا تعلقات کی پست ترین سطح تھی۔ خیال رہے کہ سابق امریکی صدر، باراک اوباما نے آج سے 3برس قبل یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا، افغانستان سے اپنی افواج واپس بُلا رہا ہے اور صرف افغان فورسز کی تربیت کی غرض سے فورسز کی ایک مخصوص تعداد وہاں موجود رہے گی، لیکن اُن کے دَور میں یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی اور اعلان کے کچھ عرصے بعد ہی اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے اور فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ 

افغانستان: جنگ و امن کے درمیان

اس موقعے پر امریکی سیاسی و عسکری منصوبہ ساز شخصیات کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کی واپسی میں جلد بازی ہی کی وجہ سے عراق سے متعلق امریکی حکمتِ عملی ناکامی سے دوچار ہوئی، جس کے نہایت منفی نتائج برآمد ہوئے۔ نتیجتاً عراق میں صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے دوبارہ امریکی فوج کا بڑے پیمانے پر استعمال نا گزیر ہو گیا۔ اسی بناء پر یہ طے کیا گیا کہ افغانستان میں یہ غلطی نہ دُہرائی جائے اور امریکا ایک بار پھر بھرپور انداز میں افغان جنگ میں شامل ہو جائے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ گو کہ اوباما اور ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں کوئی واضح فرق نہیں۔ تاہم، موجودہ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس کا ہدف افغانستان میں امریکا کی فتح ہے اور اس کے بعد ہی مذاکرات کا مرحلہ آئے گا۔

ان دِنوں افغانستان میں نہ صرف امریکی و افغان افواج کی مشترکہ زمینی کارروائیوں میں خاصی تیزی آئی ہے، بلکہ فضائی بم باری کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے، لیکن ان سے زیادہ کارگر اور اہمیت کے حامل ڈرون حملے ہیں، جن کی وجہ سے افغان طالبان کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کا صفایا کیا جا رہا ہے اور اس کے ردِ عمل میں افغان طالبان نے بھی اپنی پُر تشدّد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عید الفطر کے تین روز کے علاوہ شاید ہی کوئی دِن ایسا گزرا ہو کہ جب افغانستان میں خود کُش حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتیں نہ ہوئی ہوں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کے حملوں میں شدّت آتی جا رہی ہے اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں سے لے کر ایک سو سے زاید تک ہوتی ہے۔ حملوں کی شدّت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ موسمِ سرما میں بھی جنگ جاری رہی، حالاں کہ اس سے قبل سردیوں میں حملوں میں تعطّل آجاتا تھا۔ اس وقت دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں اور ہلاکتوں کے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں، جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ افغانستان میں جنگ عروج پر ہے، لیکن دِل چسپ بات یہ ہے کہ جنگ کے ساتھ ہی وقتاً فوقتاً مذاکرات کی خواہش اور کوششوں کا تذکرہ بھی جاری ہے۔ اس بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے بیک ڈور ہی نہیں، بلکہ براہِ راست سفارت کاری کا سلسلہ بھی جاری ہے اور مختلف ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج مسئلہ افغانستان کے ہر فریق کو اس بات کا اندازہ ہو چُکا ہے کہ جنگ کا اختتام صرف بات چیت ہی سے ممکن ہے، کیوں کہ اگر یہ امریکا کے لیے دلدل ہے، تو افغانستان کے لیے تباہی اور علاقے کے لیے شدّت پسندی کا خود رَو پودا، جسے نہ چین برداشت کر سکتا ہے، نہ رُوس اور نہ دوسرے ممالک۔ 

’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی پالیسی کےتحت ہی افغانستان میں امن آئے گا۔ اس وقت افغان حکومت کی، جو اس معاملے میں براہِ راست فریق ہے، پوزیشن خاصی کم زور ہے۔ اس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ امریکا نے کروڑوں ڈالرز خرچ کر کے جو افغان فوج تیار کی ہے، وہ طالبان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چُکی ہے اور امریکی فوج کی معاونت کے بغیر اس کے لیے میدانِ جنگ میں ٹھہرنا تک ممکن نہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً مختلف ذرایع سے یہ دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں کہ افغانستان کے نصف یا اس سے بھی زاید رقبے پر افغان طالبان بِلا روک ٹوک نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان تمام باتوں سے قطعِ نظر، عید الفطر میں سیز فائر کے دوران افغانستان میں جو مناظر سامنے آئے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف افغان شہری ہی نہیں، بلکہ افغان فوج کے اہل کار اور افغان طالبان بھی جنگ سے عاجز آ چُکے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ان کی سر زمین پر امن قائم ہو۔ پھر جس طرح افغان طالبان بہ آسانی عوام میں گُھل مل گئے، تو اس سے یہ تاثر بھی اُبھرا کہ ان کی مرکزی دھارے میں شمولیت کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ نیز، یہ بھی محسوس ہوا کہ افغان طالبان، شہریوں اور حکومت کے درمیان امن کی خواہش پر مشتمل تعلق کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہے، لیکن اسے عملی شکل دینے کے لیے درکار عزم کی کمی ہے۔

اگر افغان طالبان، عوام اور حکومت سمیت تمام فریق ہی افغانستان میں قیامِ امن کے خواہاں ہیں، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رُکاوٹ کون بن رہا ہے؟ اب تک کی اطلاعات کی روشنی میں یہ دو باتیں عیاں ہیں کہ قیامِ امن ہی کو واحد حل تسلیم کر لیا گیا ہے اور فریقین کے درمیان رابطہ موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان طالبان اور افغان حکومت دونوں کی کوشش ہے کہ مذاکرات کی میز پر جانے سے قبل اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا جائے کہ کم زوری ان کے لیے دبائو کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں اعتماد کا شدید فقدان پیدا ہو رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے، تو اس موقعے پر افغان حکومت کو بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے، کیوں کہ طالبان بھی اسی مُلک کے شہری ہیں ، جس پر وہ حکومت کر رہی ہے اور اس کے پاس اختیار اور وسائل بھی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں