آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے

دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی صحافی اور فلمسازشرمین عبیدچنائے، جنھوں نےاپنی صلاحیتوں سے ملکی تاریخ میں ایمی اور آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اپنی دستاویزی فلموں کی بدولت وہ 2 بار آسکر اور 6 بار ایمی ایوارڈ اپنے نام کرچکی ہیں۔ انھیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ واحدہدایتکارہ ہیں جنھوں نے 37 برس کی عمر کو پہنچنے تک دو آسکرایوارڈز اپنے نام کرلیے۔

ٹائم میگزین نے بھی انھیں دنیاکی100 بااثر شخصیات کی فہرست میں جگہ دی۔ دستاویزی فلم سازاور ہدایتکارہ شرمین عبید چنائےکی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے بھی انھیں ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین سول اعزاز’ہلال امتیاز‘ سے نوازا۔ واضح رہے کہ یہ اعزازان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نےخاص طور پر پاکستان کی سلامتی، قومی مفاد، عالمی امن، ثقافتی اور دیگر عوامی خدمات میں شاندار حصہ ڈالا ہو۔

ابتدائی زندگی

فلم سیونگ فیس (Saving Face) سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی شرمین عبید چنائے 1978ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے شہر کے معروف اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعدمیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے امریکا چلی گئیں، شرمین اپنے خاندان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کی۔انھوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سےماس کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کرنے کےعلاوہ 2002ء میںاکنامکس اینڈ گورنمنٹ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔

اس دوران انھوں نے بطورصحافی اپنے کیرئیر کا آغازامریکا کے ایک معروف اخبار سے کیا۔بعد میں شرمین نے ہدایتکاری کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے پہلی فلم ٹیررز چلڈرن (Terror's Children) بنائی۔ شرمین اب تک کئی دستاویزی فلمیں بنا چکی ہیں جن میںوہ خواتین کے مسائل کو نڈر ہو کر اجاگر کرتی ہیں ۔انہوں نے ایسے موضوعات پردستاویزی فلمیں بنائی ہیں جن پر بات کرنے سے معاشرہ گھبراتا ہے ۔ ان دو فلموں کا ذکر ذیل میں کیے دیتے ہیں جنھوں نے شرمین کوشہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

سیونگ فیس

2012ء میں ’سیونگ فیس‘ شرمین عبید چنائے کی وہ پہلی دستاویزی فلم تھی جس نے آسکر ایوارڈ حاصل کرکے انہیں پاکستان کی پہلی آسکر ایوارڈ یافتہ شخصیت بنا دیا۔سیونگ فیس تیزاب سے جلائی جانے والی خواتین کی کہانی پر مبنی فلم تھی۔ ان کی یہ فلم تیزاب حملوں کا شکار خواتین کی عالمی آواز بن گئی جس کے بعد شرمین کو بھی امید ہوچلی ہے کہ تیزاب حملوں کا شکار مزید خواتین آگے آ کر ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں پہنچائیں گی۔

سیونگ فیس کی کامیابی کے بعددیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کو پتہ چلا کہ تیزاب پھینکا جانا ایک جرم ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والامجرم ہے اوراس کے خلاف قانونی طور پر کاروائی کی جا سکتی ہے ۔اس دستاویزی فلم کی ریلیز کے بعد سابقہ حکومت پنجاب نے تیزاب پھینکنے کو قانون کے ذریعے ایک بڑا جرم قرار دےدیا۔ اس فلم کے حوالے سے شرمین عبید چنائے پر خاصی تنقید بھی کی گئی اور کہا گیا کہ یہ فلم پاکستان کا امیج خراب کرنے کے لئے بنائی گئی ہے ۔

اے گرل ان دا ریور داپرائس آف فارگیونیس

شرمین عبید چنائےکی دوسری دستاویزی فلم "A Girl In The River: The Price of Forgiveness" نے 2016ء میں انھیں ایک اور آسکر ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا۔ ان کی فلم کو ’بیسٹ شارٹ ڈاکومینٹری‘ کی کیٹیگری میں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ شرمین کی اس دستاویزی فلم میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کی زندگی کا احوال بیان کیا گیا تھاجو غیرت کے نام پر قتل کی کوشش میں بچ جاتی ہے۔ 

زندہ بچنے کے بعد اس نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پولیس کیساتھ مل کر اپنا مقدمہ لڑا مگر پھر دباؤ میں آ کر حملہ آوروں کو معاف کر دیا تھا۔ اس فلم کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی بے حد سراہا گیا۔ دوسرا آسکر ایوارڈ حاصل کرنے کے بعدشرمین نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس دستاویزی فلم میںپاکستان میں غیر ت کے نام پر قتل جیسے اہم سماجی مسئلے کو موضوع بنایا گیا اوروہ سماجی مسائل پرآواز اٹھاتی رہیں گی ۔

دنیابھرکی خواتین کے لیے مثال

شرمین عبید چنائے اپنے اعزازات کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ ان کی نہیں، پورے پاکستان کی کامیابی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں موجود ایسے مردوں کی ہمت افزائی کرنی چاہئے جو خواتین کوہر طرح سے سپورٹ کرتے ہیں۔شرمین دستاویزی فلمیں بنانے کے لئے ان علاقوں میں بھی گئیں جہاں جانے سے مرد حضرات بھی شاید ڈرتے ہیں۔ 

شرمین شام، عراق اور افغانستان جیسے ملکوں میں بھی ایسے وقتوں میں گئیں جب ہر وقت ان علاقوں میں خطرہ منڈلاتا تھا۔ شرمین پاکستان سمیت پوری دنیا کی ان خواتین کےلئے ہمت اور کامیابی کی مثال ہیں جو اپنے ملک کےلئے کچھ کرنا چاہتی ہیں اور بامقصد زندگی جینا چاہتی ہیں۔ مشرقی معاشرہ ہو یا مغربی، خواتین کو ہر جگہ مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے کوئی کام ان کے لئے آسان نہیں ہوتا۔لیکن اگر وہ ڈر کی بیڑیاں پاؤں سے نکال پھینکیں تو پھر ان کے راستے میں آنے والی ہر مشکل آسان ہوتی چلی جاتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں