آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پھر آیا نعروں کاموسم

نعرہ، چند الفاظوں پر مشتمل ایک ایسے جملے یا مجموعے کو کہتے ہیں، جس میں کوئی نہ کوئی مقصد، خیال و جذبات کا اظہار ہوتا ہے، نعرہ تخلیق کرتے وقت لفظوں کے چناؤ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کم سے کم الفاظ میں نہ صرف بات مکمل ہوجائے بلکہ مذکورہ جملہ عوام کو اپنی جانب مبذول کروانے میں کام یاب ہو کر زبان زد عام ہو جائے۔ اگر ہم نعروں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تاریخ کی تمام تر عظیم تحریکوں اور انقلابات میں نعروں نے اہم کردار ادا کیا ہے، پھر چاہے یہ تحریکیں سیاسی ہوں یا مذہبی، معاشرتی ہوں یا معاشی، رہنماؤں نے نعروں کے ذریعے ہی اپنا پیغام لوگوں میں عام کیا، بالکل اسی طرح جس طرح روز مرہ کی زندگیوں میں اشتہاری کمپنیاں اپنی مصنوعات کو عوام میں فروغ دینے، اپنے مقصد اور ہدف کو عوام میں اُجاگر کرنے کے لیے نعروں کا استعمال کرتی ہیں۔

دنیا بھر میں عرصہ دراز سے جب کبھی کسی رہنما یا تنظیم نے لوگوں کی حمایت حاصل کرنی چاہی تو انہوں نے نت نئے نعرے تخلیق کرکے اپنی اس چاہ کو تکمیل تک پہنچایا۔ مثال کے طور پر فرانسیسی انقلاب کے دوران ’’مساوات، برابری اور برادری‘‘ کا نعرہ قومی سطح پر بلند ہوا۔ امریکا میں بھی 1773ء کے دوران اس وقت ’’بوسٹن ٹی پارٹی‘‘ کے نام سے احتجاجی تحریک چلائی گئی، (جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے چین سے چائے کی پتی درآمد کر کے بغیر ٹیکس ادا کیے امریکا میں فروغ کی جانے لگی)۔ اس تحریک کا مشہور زمانہ نعرہ تھا کہ، ’’No Taxation without Representation‘‘ یعنی ’’نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں‘‘۔ بیسویں صدی کے آغاز میں روس میں اس وقت انقلاب آیا جب کسان، مزدور، چھوٹے دُکاندار اور نچلے طبقے کے لوگوں کے لیے نعرہ بلند ہوا، ’’دنیا کے مزدور متحد ہوجاؤ، تمہارے پاس کھونے کے لیے بیڑیوں کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘۔ اسے ’’اکتوبر انقلاب 1917‘‘ کا نام دیا گیا، جس کے نتیجے میں سوویت یونین وجود میں آئی۔ اگر ہم برصغیر کی تاریخ کی بات کریں تو انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ’’آزادی یا موت‘‘ کا نعرہ بلند ہوا، بعدازاں مسلمانوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تو، ’’لے کے رہیں گے آزادی، بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند ہوا، ایسے ہی مختلف نعروں نے دونوں طرف کے عوام میں جوش اور ولولہ بیدار کیا۔ جب اسلامی نظریے کی بنیاد پر مسلمانانِ ہند نے آزادی حاصل کی تو نعرہ بلند ہوا کہ، ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہٰ الا اللہ‘‘ اس کے ساتھ ہی وطن عزیز کے حق میں ایک دعا نعرے کی صورت میں بلند ہوئی، ’’پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد‘‘۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آزادی حاصل کرنے بعد یہ نعرہ کہیں مدہم ہوگیا ہے اور اس کی جگہ کئی مختلف نعروں نے لے لی ہے۔

بلاشبہ جمہوریت کا حسن انتخابی عمل سے ہے اور انتخابی مہم کی جان سیاسی جلسوں میں لگائے جانے والے نعرے ہوتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انتخابات سے قبل سیاسی نعرے کسی بھی جماعت یا سیاست داں کے موثر اور مضبوط ہتھیار ہو سکتے ہیں، جو عوام کو اپنی جانب مبذول کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے خود کو برتر اور دوسرے کو کم تر ثابت کرنے کے لیے موقعے کی مناسبت سے متاثرکن نعرے تخلیق کیے، جنہوں نے ووٹرز کو اپنی جانب راغب کیا۔ عوام کو ان منفرد اور نت نئے نعروں کی گونج نہ صرف جلسہ گاہوں میں، کارکنوں کے ذریعے سنائی دیتی ہیں بلکہ یہ شاہراوں پر آویزاں بینرز، میڈیا پر اشتہارات نیز بذریعہ وال چاکینگ زبان زد عام ہو جاتے ہیں، جن کے باعث سیاسی جماعتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی اور لوگوں میں جوش و ولولہ بیدار کرتی ہیں۔ انہیں یقین دہانی کرواتی ہیں کہ ان کا منشور ہی سب سے بہتر ہے اور انہیں ہی آئندہ انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہیے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کُل بارہ مرتبہ انتخابات ہوئے، جن میں تین بار فوجی آمریت نے اقتدار کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا۔ مگر ان بارہ انتخابات میں سے صرف دس انتخابات کو ہی ملک کی تاریخ میں باضابطہ طور پر انتخابات کی حیثیت حاصل ہے۔ کیوں کہ ملک کی تاریخ کے ابتدائی دو انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے نہ تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نہ ہی ان میں کوئی قابل ذکر نعرہ یا اصطلاح منظر عام پر آئی۔ قارئین کی دل چسپی کے لیے زیر نظر مضمون میں ملک میں نعروں کی سیاست کا مختصرً سیاسی احوال قلم بند کیا ہے۔

پہلے انتخابات اور مارشل لا کا احوال

نوزائیدہ ملک میں دونوں (مشرقی و مغربی) حصوں میں انتظامی مسائل موجود تھے۔ 1947ء سے1958ء تک انتخابات قومی سطح کے بجائے صوبائی سطح پر مختلف شکلوں اور ضرورتوں کے تحت کروائے جاتے تھے۔ سب سے پہلے مارچ 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہوئے، بعدازاں اُسی برس دسمبر میں سرحد اسمبلی کے نمائندوں کو منتخب کیا گیا۔ دو سال بعد مئی1953 ء میں سندھ اسمبلی وجود میں آئی اور پھر1954 ء میں اس وقت کی مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے انتخابات کرائے گئے، تاہم ان انتخابات کے دوران ووٹنگ کی شرح اور معیار خاصا پست تھا۔ انتخابی گہماگہمی بھی نہ ہونے کے برابر تھی، نہ ہی جلسے جلسوس منعقد کیے گئے اور نہ کسی سیاست داں نے اپنے حق میں نعرے بازی کی، تاہم انتخابی عمل غیرشفاف ہونے کے باعث ان انتخابات کے لیے ’’جھرلو‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ واضح رہے کہ جھرلو کی اصطلاح دھاندلی، فراڈ، جعلسازی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ 1954ء میں پاکستان کی دوسری مجلس ساز اسمبلی وجود میں آئی۔ جس پر 1958ء میں میجر جنرل اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر شب خون مارا اور سیاسی بساط لپیٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ 1962ء میں جب دوسرا آئین نافذ ہوا تو ایوب خان نے اس کے تحت باقاعدہ حلف اُٹھایا، بعدازاں ایوب خان نے 1965ء میں صدارتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔

دوسرے انتخابات اور مارشل لا کا احوال

1965ء کے انتخابات میں صدر کا انتخاب ایوب خان کے تجویز کردہ بنیادی جمہوریت (BD) کے نمائندوں نے کیا۔2 جنوری1965ء کو ان انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے مابین صدارتی معرکہ ہوا، جس میں ایوب خان، محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر اگلے پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوگئے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین اور ایوب خان کا پھول تھا۔ اس مناسبت سے بڑے شہروں کی دیواروں پر یہ شعر نعرے کی صورت میں درج تھا، ’’ایک شمع جلی جل جانے کو، ایک پھول کِھلا مرجھانے کو۔‘‘ اس کے علاوہ اس زمانے میں ایوب خان کی حمایت میں شائع ہونے والے پوسٹرز پر ’’پھول یا شعلہ‘‘ اور ’’ملت کا محبوب ایوب ایوب… صدر ہو کون ایوب ایوب…‘‘ کے نعرے درج تھے، یہیں سے سیاسی بنیادوں پر نعروں کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہوگیا، تاہم ان انتخابی نتائج سے عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں میں شدید ردعمل ہوا اور محض تین سال بعد ہی جنرل ایوب خان کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ 25 مارچ 1969ء کو جنرل یحییٰ خان نے جنرل ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ ملک کی تاریخ میں مسلسل دوسرا مارشل لا تھا۔ بعدازاں جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔

1970 کے عام انتخابات

1970ء میں ہونے والے انتخابات سیاسی مبصرین کی رائے میں اب تک کے سب سے منفرد اور غیرجانب دار انتخابات قرار دیئے جاتے ہیں۔ ان اتخابات کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئی منفرد اور طویل عرصے تک عوام کے ذہنوں میں تازہ رہنے والے نعرے لگے، ان میں بعض چالیس برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی ملکی حالات و سیاست پر اُسی طرح مناسب ہیں جیسے اُس وقت تھے۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی ایک نوزائیدہ پارٹی کے طور پر سامنے آئی، مگر سیاسی مہم کے دوران یہ جماعت اپنے حریفوں سے کسی طور پیچھے نہیں رہی۔ ایک جانب پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے ’’روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘ کا منفرد سیاسی نعرہ بلند کر کے ثابت کر دیا کہ ان کی جماعت عوام کی ضرورتوں سے خوب واقف ہے، تو دوسری طرف پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر شیخ محمد رشید، جنہیں ان کے نظریات کے باعث بابائے سوشلزم کہا جاتا تھا، نے اپنی انتخابی مہم میں ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے‘‘ کا نعرہ بلند کرکے بائیں بازو کے حلقہ انتخاب میں پسندیدگی کی سند حاصل کرلی۔ جب کہ اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ کے دل فریب نعرے لگائے۔

اس دوران بھٹو کے لیے’’فخر ایشیا‘‘ اور ’’قائد عوام‘‘ جیسے لقب نعرے کی صورتوں میں معرض وجود میں آئے۔ ان انتخابات کے دوران ایک ایسا پوسٹر بھی شائع کیا گیا تھا جس میں ذوالفقار علی بھٹو گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے مجاہد کی مانند دنیا فتح کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس پوسٹر پر شائع ہونے والا نعرہ ’’دنیا تیرے نال، بھٹو جئے ہزاروں سال‘‘ درج تھا۔ ان انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی نے عوام کی صفوں میں اپنے منشور کو جن نعروں کی شکل میں پیش کیا ان میں ’’اسلام ہمارا مذہب، جمہوریت ہماری سیاست، سوشل ازم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ شامل تھے۔

انتخابی مہم کے دوران ایک سیاسی پارٹی کے جیالے دوسری پارٹی کے جیالوں سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں بھی مختلف نعرے بلند کرتے دکھائی دیئے۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کا انتخابی نشان ’’ترازو‘‘ تھا۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں نے نعرہ ’’جُھک گئی گردن کٹ گیا بازو، ہائے ترازو ہائے ترازو‘‘ کا نعرہ لگایا تھا، جب کہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے اس نعرے کے ردعمل میں بھرپور جوش و خروش سے’’لائو ترازو تول کے دیکھو، ساڈا پلہ بھاری ہے‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ جب بابائے سوشلزم نے سوشلزم کا نعرہ بلند کیا تو اس کے خلاف اسلامی نظریات کے حامی جماعت اسلامی کے امیدوار میاں محمد طفیل نے ’’اسلامی نظام‘‘ کے نفاذ کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ بنایا۔

اس انتخابات میں ایک اور اہم بات یہ نظر آئی کہ بہت سی ایسی نظمیں بھی جلسوں اور جلوسوں میں پڑھی جاتی تھیں جو بنیادی طور پر نعروں کا روپ لیے ہوتی تھیں، مثلاً بائیں بازو کے سیاست داں انقلابی شاعر حبیب جالب کی ایک نظم ’’خطرے میں اسلام نہیں‘‘ کو لوگ بہت ذوق و شوق سے پڑھتے تھے، اسی نظم کے ایک مصرعے ’’گرتی ہوئی دیواروں کو‘‘ تبدیل کر کے ’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو‘‘ کے نعرے کی شکل میں ہر اس سیاسی جماعت نے استعمال کیا، جو اپنی سیاسی پوزیشن کو دوسری سیاسی جماعتوں سے بہتر سمجھتی تھیں۔ واضح رہے کہ حبیب جالب کے کئی اشعار اور نظمیں ضرب المثل بن کر سیاست کے افق پر آج تک چمک رہی ہیں، جن میں ضیاء الحق کے دور میں ’’ ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا ‘‘ اور بے نظیر کے دور میں، ’’وہی حالات ہیں فقیروں کے، بدلے ہیں دن فقط وزیروں کے‘‘ بھی شامل ہیں۔

علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علماء پاکستان کا انتخابی نشان ’’چابی‘‘ تھا۔ نشان کی نسبت سے JUPکے کارکنوں کا نعرہ ’’چابی جنت کا تالا کھولے گی‘‘ تھا۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد ملک دولخت ہوگیا۔ ذوالفقار علی بھوٹو نے ملک کی صدارت کا عہدہ سنبھالا بعدازاں 1973 ء میں جب تیسرا آئین نافذ ہوا تو انہوں نے بطور وزیر اعظم حلف اُٹھایا اور اپنی معینہ مددت مکمل کرنے سے پہلے ہی 7 جنوری 1977ء کو اگلے انتخابات کا اعلان کر دیا۔

1977ء کے عام انتخابات اور تیسرا مارشل لا

پی پی پی نے جب غیر متوقع طور پر اگلے انتخابات کا اعلان کیا تو حزب اختلاف کی نو جماعتوں نے 10جنوری 1977 کو اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کو ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘کا نام دیا گیا، جس نے انتخابی نشان ’’ہَل‘‘ کے ذریعے انتخابات میں حصہ لیا، تاہم انتخابات کے نتائج کو قومی اتحاد نے تسلیم نہیں کیا اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کردی، جس میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف خوب نعرے بازی کی گئی، اس تحریک کا مقبول نعرہ ’’گنجے کے سر پر ہل چلے گا۔ ہل چلے گا تو پھل ملے گا‘‘، ’’آج نہیں توکل چلے گا، گنجا سر کے بل چلے گا‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ الیکشن کی گرما گرمی میں ’’ہل نے مچا دی ہلچل ہلچل‘‘ کا نعرہ بھی سنائی دیا۔ اس نعرے کے خالق ’’مولوی ہلچل‘‘ کے نام سے پکارے جاتے تھے، جن کا اصل نام محمد ریاض تھا۔ پی این اے کی تحریک کے دوران ایک اور نعرہ ’’ہل ہمارا دوست ہے، تلوار ہماری دشمن ہے‘‘ کافی مقبول ہوا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی کافی تعداد تھی، چناں چہ کمیونزم کے حامی یہ کارکنان انتخابی مہم میں ’’سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے‘‘ کے نعرے بلند کرتے تھے، تو دوسری طرف قومی اتحاد کے دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے کارکنان واشگاف آواز میں ’’سبز ہے سبز ہے ایشیا سبز ہے‘‘ کے نعرے لگا کر ماحول کو گرماتے تھے۔ عوام نے ایک بار پھر ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا اور ان کی پارٹی اقتدار میں آگئی۔ بعدازاں پاکستان قومی اتحاد باضابطہ طور پر ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ میں تبدیل ہوگئی اور یہی اس کا امتیازی نعرہ بھی بن گیا۔ ایک جانب انہوں نے ”نظام مصطفی کا نفاذ“ کا نعرہ بلند کیا تو دوسری جانب حکومت وقت سے مستعفی ہو جانے کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ بالآخر تحریک کا انجام اپنے مطلوبہ ہدف کے بجائے 5 جولائی 1977 ء کو ضیا الحق کے لگائے گئے مارشل لا کی صورت میں سامنے آیا۔ مارشل لا کے دوران جب ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کی تصاویر پر غیراعلانیہ پابندی عائد کی گئی تو اس وقت یہ نعرہ بہت مقبول ہوا، ’’بھٹو کی تصویر بےنظیر بےنظیر۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ جب مارشل لا لگا تو کئی دل جلے یہ نعرہ لگاتے تھے ’’نہ ہل آیا نہ آئی تلوار، آگئی مونچھاں والی سرکار‘‘ واضح رہے کہ قومی اتحاد کا انتخابی نشان ہل اور پیپلزپارٹی کا نشان تلوار تھا، جب کہ ضیاء الحق کے چہرے پر ان کی مونچھیں نمایاں تھیں۔ اس کے علاوہ ضیاء الحق اپنی آنکھوں میں سرمہ لگاتے تھے، جس کی وجہ سے من چلوں نے لاہور کی مختلف شاہراوں اور دیواروں پر ضیاء الحق حکومت کے لیے ’’سرمے والی سرکار‘‘ کی اصطلاح چاکنگ کی۔ انتخابات کے دو برس بعد 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پی پی پی نے ایک نیا نعرہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کی صورت میں بلند کیا۔

1984ء کا ریفرنڈم اور 1985 کے انتخابات

یکم دسمبر 1984ء کو ضیاء الحق نے ملک کی صدارت حاصل کرنے کے لیے ریفرنڈم کا اعلان کیا، جس کا پیپلزپارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے ’’ایم آرڈی‘‘ کے پلیٹ فارم سے بائیکاٹ کیا تو ریفرنڈم والے دن ہر طرف سناٹے کا راج تھا۔ جس کے پیش نظر حبیب جالب کا یہ شعر زبان زد عام ہوا کہ، ’’شہر میں ہو کا عالم تھا، جن تھا یا ریفرنڈم تھا‘‘۔ بائیکاٹ کے باوجود ضیاء الحق اگلے پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوگئے۔ بعدازاں انہوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کا اعلان کیا، تو ایک بار پھر ایم آر ڈی نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم انتخابات ہوئے، قومی اور صوبائی اسمبلیاں معرض وجود میں آئیں، چوں کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے، لہٰذا ہر امیدوار کا اپنا نشان اور اپنا نعرہ تھا۔ نوازشریف پنجاب کے اور غوث علی شاہ سندھ کے وزیر اعلی، جب کہ محمد خان جونیجو وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

ضیاء الحق نے اپنے طرزِ حکومت کے سبب جتنی سیاسی نفرت کمائی غالباً کسی اور حکمران کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کا اندازہ انہی کے دور میں لگنے والے اس نعرے سے ہوسکتا ہے کہ ’’ضیا الحق کو کتا کہنا، کتے کی توہین ہے‘‘۔ جس کا جواب ان کے حامی اور مداح ’’مرد مومن، مرد حق، ضیاء الحق… ضیاء الحق…‘‘ کا نعرہ لگا کر دیتے تھے۔ ضیاء دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنان، ’’بھٹو ہم شرمندہ ہیں… تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘، ’’امریکا کا جو یار ہے غدار غدار ہے‘‘، ’’ضیا جاوے، ای جاوے‘‘، نہ جھکنے والی بےنظیر نہ بکنے والی بےنظیر‘‘، کے نعروں سے اپنا غم کم کرنے کی کوشش کرتے تھے، جب کہ ضیاء الحق دور حکومت کے دوران ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کے نعرے لگتے رہے۔ 17 اگست 1988 ء کو ضیاء الحق جہاز حادثے میں دنیا چھوڑ چلے۔

1988ء کے عام انتخابات

ضیاء الحق کے فضائی حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے 16 نومبر 1988ء کو عام انتخابات کرائے۔ جس میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتحابات ہونے تھے۔ چوں کہ، پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر اُبھری تو مسلم لیگ کی جانب سے پنجاب میں ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ واضح رہے کہ 1986ء ، ضیا دور میں جب بےنظیر لاہور آئی تھیں، تو ’’بے نظیر آئی ہے، انقلاب لائی ہے‘‘ اور ’’جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا‘‘، پی پی پی کے جیالوں کے نعرے تھے۔

ضیاء دور کے دوران اگر کراچی کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ متحدہ قومی موومنٹ کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ 8 اگست 1986ء کو الطاف حسین کی قیادت میں قائم ہونے والی اس جماعت نے کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے پہلا جلسہ کیا، جس نے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد نعرۂ ’’مہاجر جیے مہاجر‘‘، ’’مہاجروں کے دل کا چین، الطاف حسین‘‘ جیسے نعرے کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں لگائے گئے۔

1990ء کے عام انتخابات

جب 6 اگست 1990 کو بے نظیر کی حکومت برطرف کرکے نگراں وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی نے حلف اٹھایا، تو ملک کی سیاسی فضائوں میں ’’یا ﷲ یا رسولؐ، بے نظیر بے قصور‘‘ کا نعرہ گونجتا رہا۔ تاہم 6 اکتوبر 1988ء کو وجود میں آنے والے نو جماعتوں والی اتحادی پارٹی یعنی اسلامی جمہور ی اتحاد نے 1990 کے انتخابات میں سائیکل کے نشان کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے نعرہ لگایا،’’اپنی قسمت آپ بنائیں سائیکل پر مہر لگائیں‘‘، اس جماعت کا ایک مقبول نعرہ ’’نو ستارے سائیکل نشان، جیوے جیوے پاکستان‘‘ تھا۔ جب کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے مختلف نعروں میں ایک نعرہ یہ بھی تھا، ’’توڑ ظلم کا غرور یا ﷲ یا رسولؐ۔‘‘ ان انتخابات میں پیپلزپارٹی اور اس کے پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کو آئی جے آئی کے مقابلے میں شکست ہوئی اور نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ اس دوران ’’مولوی ہلچل‘‘ جو 1977 میں ہل کے نشان کے حوالے سے پاکستان قومی اتحاد کے لیے نعرے لگاتے تھے، وہ نواز شریف کی حمایت میں یہی نعرہ اپنے مخصوص انداز میں کچھ اس طرح لگاتے تھے،’’میاں نے مچا دی ہلچل۔‘‘

1990ء کے انتخابات میں حصہ لینے والی طاہر القادری کی جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک’’ کا نعرہ ’’عوام سب سے پہلے‘‘اور ’’جرأت و بہادری طاہر القادری‘‘تھا۔ مگر ان کی پارٹی انتخابات میں خاطر خواہ کام یابی اپنے نام کرنے میں ناکام رہی۔

1993ء کے عام انتخابات

اپریل 1993ء میں نواز شریف کی حکومت کو غلام اسحاق خان نے برطرف کردیا۔ اس کے فوری بعد جماعت اسلامی نے پاکستان اسلامک فرنٹ بنالیا اور نواز شریف سے علیحدہ ہوگئی۔ تاہم نواز شریف کی حکومت کچھ ہی دنوں بعد بحال کردی گئی۔ سیاسی جماعتوں میں کشیدگی کے باعث چیف آف آرمی اسٹاف نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے معین قریشی کو نگراں وزیراعظم بنوادیا، جنہیں قاضی حسین احمد ’’امپورٹڈ وزیراعظم‘‘ کہتے تھے۔ انہوں نے اسی سال اگلے انتخابات کروانے کا اعلان کیا اور اکتوبر میں کامیاب انتخاات کرائے، جس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر بے نظیر وزیراعظم اور فاروق لغاری صدر منتخب ہوگئے۔ بے نظیر کی انتخابی مہم کے دوران ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ ، ’’چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر‘‘ اور ’’جئے بھٹو، جئے پاکستان‘‘ کے نعرے تواتر کے ساتھ سنائی دیے۔ تاہم بدقسمتی سے جمہوریت کا تسلسل ٹوٹ گیا اور 1996 میں فاروق لغاری نے بے نظیر کی حکومت ختم کرکے معراج محمد خان کو نگراں وزیراعظم بنادیا، جنہوں نے اگلے سال انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔

1997ء کے عام انتخابات اور 2002 کا ریفرنڈم

نگراں وزیراعظم معراج محمد خان کے 1997 ء میں انتخابات کروائے اور نوازشریف بھاری اکثریت سے وزیر اعظم بن گئے۔ انہوں نے اپنی پہلی نشری تقریر میں قوم کو یہ نعرہ دیا،’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ جب کہ پیپلز پارٹی کی صفوں سے ایک مرتبہ پھر ’’یا اﷲ یا رسول بے نظیر بے قصور‘‘ کی دہائی دی جانے لگی۔

 ان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے 25 اپریل 1996ء کو پاکستان تحریک انصاف اپنے اہم ترین نعرے ’’انصاف، انسانیت، خودداری‘‘ کے ساتھ میدان میں اُتری۔ دوسری جانب 26 جولائی 1997 ء کو مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہونے والی اس جماعت کے نعروں میں تیزی سے بدلتے حالات اور واقعات کے باعث تبدیلی دیکھی گئی، جن میں ’’حقوق یا موت‘‘، ’’قائد کے فرمان پر جان بھی قربان ہے‘‘، ’’ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہیے‘‘، کے نعرے سنائی دئیے گئے، ’’جیے بھٹو‘‘ کی طرز پر’’جیے متحدہ‘‘ کے نعرے بھی متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کے مقبول نعرہ بن گئے۔ تاہم ایک بار پھر نواز شریف کی حکومت آئینی مدت مکمل کیے بغیر ہی 12 اکتوبر 1999ء کو بر طرف کر دی گئی اور جنرل پرویز مشرف چیف ایگزیکٹیو بن گئے، بعدازاں 2002 میں ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے صدر بن گئے۔ اسی سال اکتوبر2002 میں عام انتخابات کا اعلان ہوا تو پاکستان عوامی تحریک ایک بار پھر سابقہ نعروں ’’عوام سب سے پہلے‘‘اور ’’جرأت و بہادری طاہر القادری‘‘ کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے میدان میں آئی، مگر عوام کو متاثر نہ کر سکی۔ نومبر 2002 میں پرویز مشرف نے منتخب صدر کا حلف اٹھایا، جب کہ میر ظفر ﷲ جمالی وزیراعظم بن گئے اور پاکستان کے عوام نے ایک نیا نعرہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی بازگشت سنی پرویز مشرف نے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد عام انتخابات کا اعلان کیا۔

2008ء کے عام انتخابات

2008 کے عام انتخابات سے قبل جب بے نظیر بھٹو 2007ء میں نو سال بعد کراچی ایر پورٹ پر جیسے ہی جہاز سے اُتریں تو نعرے لگائے گئے ’’بے نظیر آئی ہے، حکومت لے آئی ہے‘‘ اور ایسا ہی ہوا، جب کہ لاہور میں پیپلز پارٹی کے ایک دیرینہ کارکن معظم علی معظم کا نعرہ’’ بھٹو دے نعرے وجن گے‘‘ بھی مقبول ہوا تھا۔ یہی نعرہ بعض مواقع پر میاں نواز شریف کے کارکن ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ لگاتے رہے۔ انتخابات سے قبل بے نظیر بھٹو ایک قاتلانہ حملے میں شہید کردی گئیں، تو شدت غم میں گہرے کارکنان ’’تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ اور ’’ زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘ کا نعرہ لگاتے دکھائی دیے۔ واضح رہے کہ یہ نعرہ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دونوں بیٹوں شاہنواز اور مرتضی کے قتل ہونے پر بھی لگایا گیا تھا۔

پیپلزپارٹی کا 2008 میں ہونے والے الیکشن کا نعرہ ’’علم، روشنی، سب کو کام، روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘ تھا۔ ان انتخابات میں نواز شریف کا انتخابی نشان شیر تھا، جس کی مناسبت سے ’’دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا‘‘ کا نعرہ بے حد مقبول ہوا۔ اس وقت کے مقبول نعروں میں ’’قدم بڑھائو نواز شریف ہم تمھارے ساتھ ہیں‘‘، ’’شیر کو ووٹ، نواز شریف کو ووٹ، پاکستان کو ووٹ‘‘ اور ایک اور مشہور نعرہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ بھی مسلم لیگ نون سے منسوب کیا جاتا رہا۔

آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ’’پاکستان نہ کھپے‘‘ کے نعرے کو بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ ’’ پاکستان کھپے‘‘ کے نعرے میں تبدیل کرکے سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا تھا اور اسی تسلسل میں جب وہ صدر اور ان کی پارٹی حکومت بنانے میں کام یاب ہوگئی تو، پی پی پی کے جیالوں نے ’’ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ کا نعرہ لگایا، جب کہ آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے بے نظیربھٹو کی طرف سے منسوب ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا جملہ ایک نعرے میں تبدیل کردیا، لیکن دوسری جانب پیپلز پارٹی کا عام کارکن اب تک یہ نعرہ لگا رہا ہے ’’بے نظیر ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ اور ’’شہید جمہوریت بھٹو‘‘، ’’شہید جمہوریت بے نظیربھٹو‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہے، لیکن پیپلزپارٹی کے مخالفین ’’رج کے لٹو جیے بھٹو‘‘ اور ’’اگلی باری پھر زرداری‘‘ کا طنزیہ نعرہ لگاتے ہیں۔ 2008 کے انتخابات کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی انتخابی مہم کے دوران ’’آئو مل کر بنائیں ایک نیا پاکستان‘‘ اور’’ تبدیلی کا نشان عمران خان ‘‘ کے نعرے لگاتی دکھائی دی۔ مگر تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ، ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے اور ایسی صورت میں انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے۔ پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان نے نومبر 2007 کو باضابطہ بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم روک دی۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی نے ان انتخابات میں پانچ E یعنی ایمپلائمنٹ، ایجوکیشن، انرجی، انوائرمنٹ اور ایکویٹی کو بھی اپنے سیاسی نعروں میں شامل کیا تھا، جب کہ مسلم لیگ نون نے پانچ Dیعنی ڈیموکریسی، ڈیولپمنٹ، ڈیولوشن، ڈائیورسٹی اور ڈیفنس دیے تھے، اگرچہ یہ نعرے نہیں بلکہ پارٹی کا منشور تھے مگر ان کی حیثیت نعروں سے زیادہ نظر نہیں آئی۔

2013ء کے عام انتخابات

گزشتہ انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کا نعرہ ’’حق ملا عوام کو، بدلا ہے نظام کو‘‘ رہا، اس کے علاوہ پارٹی نے اپنے صدا بہار نعرے کو نئے رنگ میں ڈھالا ’’روٹی، کپڑا اور مکان، علم صحت سب کو کام، دہشت سے محفوظ انسان، اونچا ہو جمہور کا نام‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ جب کہ ن لیگ کے نعروں میں ’’ہم بدلیں گے پاکستان‘‘، ’’بدلا ہے پنجاب اب بدلیں گے پاکستان‘‘، ’’مضبوط معیشت مضبوط پاکستان اور خوددار، خوش حال، خود مختار پاکستان‘‘ اور ’’روشن پاکستان‘‘ شامل ہیں۔ 2008 ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی تحریک انصاف ان انتخابات میں زور و شور سے ’’تبدیلی‘‘ کا نعرہ لے کر میدان میں اُتری۔ انتخابات سے تقریباً ایک سال قبل مینار پاکستان پر تاریخ ساز جلسہ کیا، اس جلسے میں ایک پوسٹر پر نعرہ لکھا تھا،’’تب پاکستان بنایا تھا اب پاکستان بچائیں گے‘‘، ’’ملک بچانے نکلے ہیں آئو ہمارے ساتھ چلو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ یہ عمران خان کی انتخابی مہم میں لگائے جانے والے نعروں ’’آئو مل کر بنائیں ایک نیا پاکستان‘‘ اور’’ تبدیلی کا نشان عمران خان‘‘ کا ہی اثر تھا کہ ماضی کے مقابلے میں ووٹنگ کی شرح میں خاصا اضافہ دیکھا گیا۔ سابقہ تمام سیاسی جماعتوں سے مایوس نوجوانوں نے عمران خان کا ساتھ دیا اور ان کی پارٹی انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی، جب کہ ن لیگ بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ انتخابات سے قبل، پرویز مشرف کی وطن واپسی کے موقعے پر مختلف خیر مقدمی بینروں پر ’’اس پر وطن فخر کرے، پاکستان کی جو قدر کرے ‘‘ کے نعرے لکھے گئے تھے۔ یاد رہے جب پرویز مشرف اور عمران خان ہم رکاب تھے، تو ’’عوام کی ہے ایک ہی رائے مشرف و عمران ہی آئے‘‘ کا نعرہ بھی لگایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے ایک نعرہ ’’بھیج پگارا‘‘لگایا جاتا رہا، جو دراصل پیرپگارا کی حُر جماعت کا نعرہ ہے۔ نیز پیرپگارا کی رہائش گاہ سے منسلک علاقہ جات میں ’’جیے بھیج پگارا، جیے راجہ سائیں‘‘ کے ہورڈنگ بھی نظر آئے۔ ایک اور نعرہ جو بلدیاتی نظام کے حوالے سے مسلم لیگ (ف) کی جانب سے لگایا گیا وہ ’’ ایک نظام ایک سندھ‘‘ پر مبنی تھا۔ طاہر القادری کی جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ کا ان انتخابات میں اہم نعرہ ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ رہا۔ مذکورہ تمام نعروں میں ایک نہایت اہم نعرہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا نعرہ ’’انتخابات، آزادانہ، منصفانہ، غیرجانب دارانہ‘‘ بھی ہے، کیوں کہ ایک مستحکم اور باشعور پاکستان کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔ ان انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف نے انتخابات میں دھاندلی کا انکشاف کیا تو چار نشستوں پر دوبارہ الیکشن کروائے گئے، جس کا نتیجہ ان کے حق میں آیا تو، جلسے جلوسوں میں پی ٹی آئی کے جیالے عمران خان کی آمد پر ’’دیکھو دیکھو کون آیا… شیر کا شکاری آیا‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔

2018ء کے عام انتخابات

2013 ء میں اقتدار میں آنے والے وزیر عظم میاں نواز شریف ایک بار پھر اپنی آئینی مدت مکمل کیے بغیر ہی برطرف کر دیے گئے۔ انہیں عدالت نے نااہل قرار دیتے ہوئے تاحیات انتخابات میں حصّہ لینے پر پابندی عائد کر دی۔ لیکن ان کی پارٹی کو اب بھی عوام سے امید ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت انتخابی مہم کے دوران ن لیگ کی جانب سے لگایا جانے والا نعرہ ’’ووٹ کو تقدس دو‘‘ ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف اس بار کسی ’’نیا پاکستان‘ کا نعرہ نہیں لگا رہی بلکہ اس بار امیروں اور غریبوں کا ایک ہی پاکستان ’’دو نہیں ایک پاکستان … ہم سب کا نیا پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کر رہی ہے، جب کہ پیپلز پارٹی کے جیالے و ووٹرز جو بھٹو خاندان کے تمام افراد کے قتل سے دلبرداشتہ اور مایوس ہوگئے ہیں، ان میں جوش و ولولہ اور امید کی نئی کرن جگانے کے لیے بلاول بھٹو زرداری ’’نوجوان قیادت ہی انقلاب لائے گی‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل ’’ایک ہیں مسلم‘‘، آل پاکستان مسلم لیگ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ متحدہ قومی مومنٹ ایک بار پھر مہاجر کارڈ کھیلتے ہوئے ’’جاگ مہاجر جاگ‘‘ کا نعرہ بلند کیے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس پارٹی کا نعرہ عوام پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور اسے اقتدار کی کرسی پر بٹھاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں