• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’’ہیلری کلنٹن‘‘ خوش باش، سادہ طبیعت اور حس مزاح

ہیلری کلنٹن

شکاگو کے ایک مضافاتی علاقے کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی خوش باش، سادہ طبیعت اور حس مزاح سے بھرپور شخصیت کی مالک70 سالہ سینیٹر، وکیل، سابقہ امریکی خاتونِ ا وّل اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے لیے ہمت اور جرأت کا استعارہ ہیں۔ 1974ءمیں ہیلری نے اس دور کے مشہور واٹر گیٹ اسکینڈل کیس کی پیروی کی۔ رچرڈ نکسن کے آرکنساس یونیورسٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد ہیلری کو وہاں کافیکلٹی ممبر بنا دیا گیا، وہ وہاں کی پہلی خاتون معلمہ تھیں۔1976ء میں جب بل کلنٹن اٹارنی جنرل منتخب ہوئے تو ہیلری کو صدر جمی کارٹر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ 

1978ءمیں32 سال کی عمر میں جب بل کلنٹن گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے توہیلری نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ آرکنساس کی پہلی خاتون معلمہ ہونے کے ناطے انہوں نے ایجوکیشنل اسٹینڈرڈ کمیٹی قائم کی، بچوں کے لیے ہسپتال بنوایااور بچوں کے حقوق کے سلسلے میں چلڈرن فنڈز قائم کیے جس کی وجہ سے انہیں امریکا کی طاقتور ترین وکیل قرار دیا گیا۔ ہیلری کلنٹن2001ءسے2009ءتک بحیثیت سینیٹربھی کام کرچکی ہیں۔2007ء میں انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی میں نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن باراک اوباما کو اکثریت حاصل رہی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے بر سر اقتدار آنے پر ہیلری نے صدر اباما کے ساتھ بطور وزیر خارجہ کام کرنے کو ترجیح دی۔

امریکی میگزین فوربز میں سال2016ء کی دنیا کی با اثر ترین خواتین کی فہرست میں جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے بعد ہیلری کلنٹن کا دوسرا نمبرتھا۔ 2016ءمیںہیلری کلنٹن کا ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آنایقیناً امریکا میں ایک بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ تھا۔ بلاشبہ امریکا اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے حوالے سے ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی دونوں کاہی ریکارڈاچھا نہیں ہے تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ہیلری کلنٹن زیادہ موزوںتھیں۔

ابتدائی حالات

آٹھ سال کی عمر میںہیلری کو ان کے والدین نے خود سے الگ کر کے ان کے دادا دادی کے پاس رہنے کے لیے شکاگو سے لاس اینجلس بھیج دیا تھا۔ ہیلری نے ٹین ایج میں ایک نو عمر ری پبلکن کے طور پر اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ انہوں نے ویلیسلے کالج (Wellesley College)میں داخلہ لیا اور وہاں سیاست میں مزید متحرک ہو گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے ییل لاء اسکول (Yale Law School)میں داخلہ لیا اور ایک ترقی پسند ڈیموکریٹ بن گئیں، اسکول کی لائبریری میں ان کی ملاقات مستقبل کے شوہر بل کلنٹن سے ہوئی۔ ان دونوں کی شادی 1975ء میں ہوئی، اور وہ کلنٹن کے ساتھ ان کی آبائی ریاست آرکنساس چلی گئیں۔

بل کلنٹن کے دور صدارت کے وائٹ ہاؤس کے سابق ترجمان باب وینیر(Bob Weiner) کے مطابق ہیلری کلنٹن اپنے شوہر بل کلنٹن یا باراک اوباما کے مقابلے میں مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل نکالنے کے معاملے میں زیادہ زیرک ہیں۔وائٹ ہاؤس میں بل کلنٹن کے مونیکا لیونسکی کے ساتھ جنسی اسیکنڈل میں ملوث ہونے کی مسلسل کہانیوں کا نتیجہ امریکی ایوان نمائندگان میں ان کے مواخذے کی شکل میں برآمد ہوا۔

ہیلری اورخواتین

دورانِ مہم سابق وزیر خارجہ میڈلن البرائٹ کادلچسپ بیان سامنے آیاکہ”اُن خواتین کے لیے دوزخ میں ایک خاص جگہ بنائی جائے گی جو دیگر خواتین کی مدد نہیں کرتی ہیں“۔ یقیناً یہ ایک ایسا بیان تھا جس کا مقصد ہیلری کلنٹن کی سیاسی مہم میں ان کی مدد کرنا تھا۔ان کے مطابق امریکا کی پہلی خاتون صدر منتخب ہونے کے لیے انتخابی دوڑ میں شامل ہو کر ہیلری کلنٹن نے ایک بے مثال قدم اٹھایا تھا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی بہت سی ریاستوں میں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں نوجوان خواتین نے برنی سینڈرز کو زیادہ ووٹ دیے۔ شایدامریکی قوم نے انھیں کلنٹن -مونیکا لیونسکی اسکینڈل میں اپنے شوہر بل کلنٹن کا ساتھ نہ چھوڑنے پر کبھی معاف نہیں کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہیلری کو مسترد کرنے والی خواتین اگر بڑی عمر کی ہوتیں تو معاملہ سمجھ میںبھی آتا لیکن اس ا سکینڈل کو لے کر انھیں ووٹ نہ دینے والی خواتین میں زیادہ تر نوجوان تھیں۔

مشل اوباما کا خراج تحسین

نیشنل کنونشن کے موقع پر سابقہ خاتون اول مشل اوباما نے ہیلری کلنٹن کے ریکارڈ اور کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ میں ہیلری کی جس چیز کی سب سے زیادہ تعریف کرتی ہوں وہ یہ کہ وہ کبھی دباؤ میں نہیں آتیں۔ وہ باہر نکلنے کا کبھی آسان راستہ نہیں ڈھونڈتیں۔ اور یہ کہ ہیلری کلنٹن نے اپنی زندگی میں کبھی کسی چیز سے ہار نہیں مانی۔‘‘

تازہ ترین
تازہ ترین