آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


لفظوں کے جادوگر اور رومانوی گیتوں کے خالق قتیل شفائی کی آج برسی منائی جارہی ہے۔

معروف شاعر قتیل شفائی 1919 میں بھارت میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد اورنگزیب تھا، ’قتیل‘ ان کا تخلص اور ’شفائی‘ کا نام انہیں ان کے استاد کی جانب سےدیا گیا تھا۔

قتیل شفائی نے 1947 میں ’پاکستانی فلم انڈسٹری‘ جوائن کی جہاں انہیں فلموں کے لیے گانے لکھنے کے کام پر معمور کیا گیا، ان کی پہلی فلم جس کے لیے انہوں نے گانے لکھے وہ ’تیری یاد‘ تھی۔

 ’رومانوی‘ گیتوں کے خالق قتیل شفائی

انہوں نے 201 بھارتی اور پاکستانی فلموں کے لیے گانے لکھے۔ قتیل شفائی کے کل گانوں کی تعداد تقریبا 2500 کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاعری کی دنیا میں بھی بے حد نام کمایانہ صرف پاکستان اور بھارت میں بلکہ پوری دنیا میں انہیں ’رومانوی گیتوں کے خالق‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

ان کی شاعری کو مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا جن میں ہندی، گجراتی، انگریزی، چینی اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔

قتیل شفائی کو 1994 میں حکومت پاکستان کی جانب سے ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ ایوارڈ سے نوازا گیا، اس کے علاوہ انہیں آدم جی ایوارڈ ، ناقوش ایوارڈ، عباس ان آرٹ کونسل ایوارڈاور متعدد ایوارڈز بھی دیے گئے۔

ان کے مشہور گیتوں میں ’الفت کی نئی منزل کو چلا، ستاروں تم تو سوجاؤ ، اور ایسے ہی کئی رومانوی گیت شامل ہیں۔ قتیل شفائی کا انتقال 11 جولائی 2001 میں ہوا۔

لفظوں کا جادوگر تو چلاگیا لیکن اُس کی خوبصورت شاعری آج بھی باقی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں