ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کے لیے طاقت اور وقار کے ایک نئے دور کی شروعات ہے۔
’ایران انٹرنیشنل‘ کے مطابق ایران کی مجلسِ خبرگان کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ دانشمندانہ اور بر وقت ہے جو مرحوم رہنما علی خامنہ ای کی وفات کے بعد کیا گیا۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کے تحت ایران میں قومی اتحاد مضبوط ہو گا اور ملک اپنے دشمنوں کی سازشوں کا مؤثر مقابلہ کر سکے گا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب قومی اتحاد اور ارادے کی مضبوطی ہے، فیصلہ ملک کی یکجہتی اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ علی خامنہ ای کی قیادت نے ایران کے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھی ہے جس پر اب مزید سائنسی، تکنیکی اور معاشی ترقی ممکن ہو گی۔
دوسری جانب ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے نئی قیادت کے اعلان کے فوراً بعد ’علی ولی اللّٰہ‘ نامی آپریشن کے تحت میزائلوں اور ڈرونز کی نئی کھیپ داغنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق حملوں میں خرمشہر، فتاح اور خیبر نامی بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک میزائل کی تصویر بھی جاری کی ہے جس پر فارسی میں ’لبیک یا سید مجتبیٰ‘ لکھا ہوا تھا جسے نئی قیادت کے ساتھ وفاداری کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔