آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مختلف سیاسی جماعتوں کا کراچی کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا ہدف؟

 یوں محسوس ہوتا ہے کہ 2018کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے کراچی سے زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول کا ہدف مقرر کیا ہے تمام قومی سطح کے رہنماؤں نےگزشتہ ہفتے کراچی کے دورے کئے جبکہ بعض رہنما آئندہ دنوں میں کراچی کادورہ کریں گے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کا دورہ کیا انہوں نے کراچی میں بھرپور پاور شو کا مظاہرہ کیا ان کی ریلی ایئرپورٹ سے مزارقائد تک کئی گھنٹے رواں دواں رہی ان کی ریلی نے ثابت کیا کہ اہلسنت(بریلوی) مسلک کے ووٹ اب ان کی پٹاری میں ہیں یوں مجلس عمل میں شامل جے یو پی کے ایک دھڑے کو انہوں نے بے اثرثابت کردیا حیرت انگیز طور پر مختصر مدت میں معروض وجود میں آنے والی تحریک لبیک نے کراچی کے تقریباً تمام حلقوں سے امیدوار کھڑے کئے ہیں تحریک لبیک کے ووٹ کراچی کے نتائج پر اثرانداز ہوں گے دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے بھی ایک بار پھر کراچی کادورہ کیا وہ کراچی کے مختلف علاقوں میں گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا تاہم اس مرتبہ پی ٹی آئی کے کارکن خاصے جذباتی نظرآئے۔انتخابی مہم کے لیے عمران کی آمد سے قبل بھی پی ٹی آئی کارکنوں نے قیوم آباد اور ملیر میں دکانیں بند کرادیں۔ لیاقت مارکیٹ میں بیریئر لگاکر سڑک بند کردی گئی ۔ضلع ملیر اور کورنگی میں عوام کی عدم شمولیت پرانتخابی اجتماعات میں شرکت دکھانے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں سے کارکن بلوائے گئے۔ مغرب کی اذان کے دوران بھی خطاب جاری اور نغمے بجتے رہے۔ پارٹی پرچم کی تقسیم پر کارکنان میں جھگڑے ہوئے ۔ سربراہ تحریک انصاف کا لیاری اور بلدیہ ٹاؤن کا دورہ بھی فلاپ رہا۔ عمران خان نے دورہ کراچی کے دوران مختلف مقامات پر خطاب کیا اور کہاکہ اندھیری رات ختم ہونے والی ہے 30 سال سے باریاں لینے والوں نے ملک تباہ کردیا، کراچی کی ترقی اور مسائل کے حل کے بغیر نئے پاکستان کا تصور ادھورا ہے، برسراقتدار آکر 5 سال میں 50 لاکھ مکانات تعمیر کریں گے، تحریک انصاف کی ہاؤسنگ پالیسی معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ہوگی، سالانہ 10 لاکھ سستے گھروں کی تعمیر آسان نہیں، یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جو پی ٹی آئی نے قبول کیا ہے، بلین ٹری سونامی پر ہمارا مذاق اڑایا گیا آج ورلڈبینک تسلیم کر رہا ہے۔ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے، نوجوانوں کو نوکریاں نہ دیںتو ملک تباہی کی طرف جائے گا، ہر لیول پر کرپشن اور مافیا پرقابوپائیں گے، اقتدار کی باریاں لینے والے کراچی کے مسائل حل نہیں کرسکتے اسی لیے کراچی کی حالت بدلنے کے لیے کراچی سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔دوسری جانب پی پی پی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو نے سندھ میں شاندار انداز میں انتخابی مہم کا آغاز کیا اور کراچی سے سندھ کے مختلف شہروں تک ریلیاں نکالی جہاں عوام نے ان کا پرجوش استقبال کیا انہوں نے سندھ کے مختلف شہروں میں خطاب کیا دوسری جانب ایم ایم اے کے نائب امیرسراج الحق نے بھی کراچی کادورہ کیا جہاں وہ کراچی کے مختلف علاقوں میںگئے انہوں نے کہاکہ 25 جولائی کو عوام ملک سے لبرل ازم اور سیکولر ازم کا جنازہ نکالیں گے۔ ایم ایم اے میں کوئی جاگیر دار نہیں ہے۔ ہم نے دیانتداراور سماجی خادم لوگوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق اتوارکوکراچی پہنچے۔ جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ سراج الحق نے کراچی کے مختلف علاقوں لانڈھی، قائدآباد، حسینی چوک، مظفرآباد کالونی، پٹیل پاڑہ، عبداللہ کالج نارتھ ناظم آبادپراجتماعات اور ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا منشور اور مطالبہ عوام کے لیے خوشحالی، امن، روٹی، کپڑا اور مکان ہے، ہم ہر شہری کے لیے عزت کی زندگی چاہتے ہیں، ایم ایم اے میں کوئی پاناما کا بیمار نہیں ہے،کوئی قرضہ ہڑپ کرنے والا نہیں ہے، کوئی جاگیردار نہیں ہے، ہم نے دیانتدار اور سماجی خادم لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے۔کراچی میں مختلف قومی سطح کے رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ایم ایم اے نے 16 جولائی کو حسن اسکوائر پر بڑے جلسے کا بھی اعلان کیا ہے۔ادھر جی ڈی اے کے رہنماؤں ایازلطیف پلیجو، ناہیدخان اور عبدالقیوم شیخ نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جی ڈی اے کے منشور کا اعلان کیا انہوں نے کہاکہ جی ڈی اے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرے گی ، طلباکو گریجویشن تک مفت تعلیم، توانائی کے متبادل ذرائع اور تھرکول سے برآمدشدہ کوئلے سے بجلی بنائی جائے گی قانون کی حکمرانی ، گڈگورننس یقینی بنائے جائے گی اورقیام امن کے لیے اسپیشل فورس تشکیل دی جائے گی جنرل ایازلطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ آئندہ سندھ میں گرینڈڈیموکریٹک الائنس حکومت بناے گی قومی اسمبلی کی 50 اور صوبائی اسمبلی کی 105 نشستوں پر جی ڈی اے کے امیدوارحصہ لے رہے ہیں کئی نشستوں پر دیگر جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ جی ڈی اے غربت کے خاتمے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی، کسانوں کو20 ایکڑ فی کس زرعی اراضی دی جائے گی، تعلیمی بجٹ 2 سے بڑھا کر 7 فیصد کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ طلباء کو گریجویشن تک مفت تعلیم اوربارہویں جماعت پاس کرنے والوں کو کمپیوٹر اور ٹیبلٹس دیئے جائیں گے اسپیشل ایجوکیشن سینٹرزقائم کئے جائیں گے۔ادھر شہبازشریف کو این اے 249 سے جتوانے کے لیے متحدہ اور اے این پی نے شہبازشریف کی مدد کا فیصلہ کرلیا ہے متحدہ نے ان کے مدمقابل امیدوار کھڑا نہیں کیا جبکہ اے این پی نے این اے 248 اور این اے 249 سے مسلم لیگ(ن) کے مدمقابل اپنے امیدوار دستبردار کرالیے ہیں پی پی پی کو گرجہ اس مرتبہ سخت مقابلے کا سامنا ہے تاہم یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ جی ڈی اے اور ایم ایم اے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوسکی جس کا لامحالہ فائدہ پی پی پی اٹھائے گی ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنمافاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ کے بینرزہٹانے ، کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے ہمارے ساتھ حلقہ بندیوں میں ناانصافی کی گئی۔ جوقبل ازوقت دھاندلی ہے۔ فاروق ستار نے کہاکہ کراچی کے ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، بتایا جائے یہ چھاپے اور گرفتاریاں کیوں کی جارہی ہیں؟ پورے ملک میں سرکاری تنصیبات پر سیاسی جماعتوں کے بینرزلگے ہوئےہیں، کراچی میں انتخابی مہم اور جھنڈے لگانے سے روکا جارہا ہے ، شہر میں صرف پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے بینرز لگے ہوئے ہیں، شہر کے مختلف علاقوں سے ایم کیو ایم کے بینرز ہٹادیئے گئے ہیں ۔ادھر معروف بنکار حسین لوائی کی گرفتاری نے سندھ کی انتخابی سیاست میں نیا موڑ لیا ہے۔ کہاجارہا ہے کہ حسین لوائی گرفتاری دراصل آصف زرداری اور فریال تالپور کے گردگھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی ہے ان پر 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے ان کے ساتھ بینکر طلحہ رضا کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے حسین لوائی کو منی لانڈرنگ کے الزام میں 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔ ایسامحسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں پی پی پی کے ساتھ یہی کچھ ہونے جارہا ہے جو مرکز میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ہوا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

تجزیے اور تبصرے سے مزید
تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید