• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فٹ بال میں فرنچ سکہ چلے گا، فتح پر پورا ملک جھوم اٹھا


پیرس / زغرب (جنگ نیوز ) ماسکو میں اتوار کی شب فٹبال کے نئے حکمران کا فیصلہ ہوتے ہیں پیرس اور فرانس کے دیگر شہروں میں جشن شروع ہوگیا۔

فٹ بال میں فرنچ سکہ چلے گا، فتح پر پورا ملک جھوم اٹھا

پیرس کے مشہور عالم ایفل ٹاور پر ہزاروں شائقین بڑی اسکرین پر فائنل دیکھنے کیلئے جمع تھے۔

میچ کا فیصلہ ان کی ٹیم کے حق میں ہوتے ہیں فٹبال جنونی خوشی سے بے قابو ہوگئے، جس کے ہاتھ جو لگا اس نے وہ شے بجانا شروع کردی، نوجوان، بچے بوڑھے، خواتین بلاتخصیص فرط مسرت سے ناچنے لگا۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے، منچلے گاڑیوں میں مسلسل ہارن بجاتے رہے۔

پیرس ،طولوس، نائس سمیت تمام شہروں اور قصبوں میں ٹریفک جام ہوگیا۔

بارز، نائٹ کلبز، عوامی مقامات پر ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ ہر شخص اس شاندار فتح پر کی خوشی اپنے انداز سے منارہا تھا۔

فرانس کے مینجر ڈیڈیئر ڈیشامپ کا بطور مینیجر یہ تیسرا عالمی کپ ہے اورفرانس کی فتح کے بعد وہ بطور کھلاڑی اور بطور مینیجر عالمی کپ کی ٹرافی اٹھانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

کروشیا کے لیوکا موڈرچ کو گولڈن بال جبکہ فرانس کے ایم باپے کو ینگ ہلیئر ایوارڈ دیا گیا۔جبکہ ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر انگلش کپتان ہیری کین چھ گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ فرانس نے دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

اس سے قبل فرانس 1998 میں فٹ بال ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہا تھا۔

ماسکو میں ورلڈ کپ 2018 کے فائنل میں فرانس نے کروشیا کو آسانی کے ساتھ مات دے دی۔

کروشیائی کھلاڑی کھیل میں ایک بڑے میچ کے دباؤ میں نظر آئے اور کئی غلطیوں کے مرتکب ہوئے، جس کی وجہ سے فرانس کی ٹيم چار گول کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

عالمی کپ مقابلوں میں کروشیا کا یہ پہلا فائنل تھا۔ یوں یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک عالمی کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والا تیرہواں ملک بن گیا۔

ابھی تک یورپ کے دس مختلف ممالک ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

لیکن اس کی شکست نے دارالحکومت زغرب میں لاکھوں دل توڑ دیے۔

شہر کے مرکزی چوراہے پر میچ کے آغاز سے بہت پہلے سے لاتعداد فٹبال فینز جمع تھے، انہیں امید تھی کی 42 لاکھ نفوس پر مشتمل ملک کے قابل فخر فٹبالرز انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ لوگوں کو یقین تھا کہ وہ فتحیاب ہوں گے۔

لیکن میچ میں 18 منٹ فرانس نے برتری حاصل کی تو لوگوں کے چہروں پر مایوسی نظر آئی البتہ 10 منٹ بعد ہی پریسیچ نے اسکور برابر کیا تو لوگوں میں پھر جوش بھرگیا۔

انہوں نے ہاتھوں میں اٹھائی نقلی ورلڈکپ ٹرافیز بلند کرنا شروع کیں لیکن اس کے بعدحالات یکسر تبدیل ہوئے۔

فرانس نے یکے بعد دیگرے تین مزید گول کرکے میچ کروشیا کی دسترس سے باہر کردیا۔ فائنل کے اختتام پر فینز پارک میں خاموشی چھاگئی۔

کئی جذباتی فینز ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے۔ کچھ نے ایک دوسرے کو تسلیاں دیں۔ جشن کا پروگرام دکھ میں تبدیل ہوگیا۔

تازہ ترین