آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پختونخواہ کی مثالی پولیس: دہشت گردی نے پول کھول دیا

عام انتخابات 2018ء کی انتخابی مہم کے دوران بعض سیاسی جماعتیں عوام کو سنہرے خواب دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب اے این پی اور جے یوآئی (ف) کو دہشتگردی کا سامنا ہے ‘دہشت گردی کے واقعات نے خیبرپختونخوا کی مثالی پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے‘ نگرانں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد نے آئی جی خیبرپختونخوا محمد طاہر کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاملات میں دلچسپی نہیں لے رہے بلکہ صرف وقت گزار رہے ہیں اسی بناء پر انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں‘ مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کے بعد اب میاں نواز شریف اور مریم نواز کا استقبال کرنے والوں پر تشدد ‘ لاٹھی چارج ‘ شیلنگ‘ مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں نے جمہوریت اور آمریت کا فرق ہی ختم کر دیا ہے‘ عوام انتخابات کے پرامن ‘ آزاد اور منصفانہ انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات اور انجانے خوف کا شکار ہیں‘ 2013ء کی طرح پاکستان ایک بار پھر خونی انتخابات اور افراتفری کی جانب بڑھ رہا ہے‘ 2013ء کے انتخابات میں بھی بعض جماعتوں کو یکساں مواقع نہ فراہم کرنے کے الزامات لگے تھے ‘ اس مرتبہ چند روز کے اندر دہشتگردی کے واقعات میں دو امیدوار اور 160سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں ‘2018ء کے عام انتخابات کیلئے انتخابی مہم جاری تھی اور اے این پی بھی بھرپور انداز سے مہم چلا رہی تھی اچانک 11جولائی منگل کی رات یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ جاری تھی جس میں شرکت کیلئے ہارون بلور پہنچے تو انہیں خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا‘جس کے نتیجے میں ہارون بلور سمیت 22افراد شہید ہوگئے اور ایک بار پھر شہر کی فضاء کو سوگوار ہوگئی ‘ 

پختونخواہ کی مثالی پولیس: دہشت گردی نے پول کھول دیا

اے این پی رہنما ابھی بھی یہی گلا کر رہے ہیں کہ انہیں فری اینڈ فیئر الیکشن کا موقع فراہم نہیں کیا جا رہا اور انہیں چن چن کر نشانہ بنا کر الیکشن سے دور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں تاہم اسفندیار ولی خان واضح کر چکے ہیں کہ دہشت گردی کے پے درپے واقعات کے باوجود جمہوری عمل کا بائیکاٹ نہیں کرینگے اور کسی کیلئے بھی میدان کھلا چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ جس سے واضح ہو تا ہے کہ اے این پی اب بھی عام انتخابات میں دیگر سیاسی جماعتوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ‘ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی ایک بار پھر نگران صوبائی حکومت کو عام انتخابات کیلئے امیدواروں سمیت سیاسی کارکنوں کی فل پروف سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے بعد امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم ایک بار پھر شروع ہو جائے گی تاہم گزشتہ روز 13جولائی کو خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میںجمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار اکرم خان درانی علاقہ ہوید میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیلئے جا رہے تھے ‘ راستے میں ان کے قافلے پر حملہ کر دیاگیا جس کے نتیجے میں 4افراد شہید جبکہ 35سے زائد زخمی ہوگئے البتہ سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں‘پے درپے دہشتگردی کے واقعات کے بعد صوبے کی سیاسی جماعتوں کو خدشات ہیں کہ انہیں فری اینڈ فیئر الیکشن کیلئے ساز گار ماحول نہیں دیا جا رہا ‘ دوسری جانب مسلم لیگی رہنمائوں کو نیب کی تفتیش کا سامنا ہے اور پیپلز پارٹی کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں ‘ ماضی میں 2013ء کے عام انتخابات کے دوران دہشت گردی کی لہر کے باعث عوامی نیشنل پارٹی ‘ پیپلزپارٹی سمیت دیگر قومی پرست جماعتوں کو انتخابی مہم کے دوران اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ان جماعتوں کے جلسوں اور کارنر میٹنگز کو پے درپے دہشت گرد حملوں کانشانہ بنایا گیا ‘ اس وقت بھی اے این پی کے درجنوں سیاسی کارکنوں اور رہنمائوں کوشہید کیا گیا جس کے باعث اے این پی آزادانہ طور پر اپنی انتخابی مہم چلا نہ سکی اور انتخابات کے بعد وہ نتائج بھی حاصل نہ کر سکی جس کیلئے وہ جدوجہد کر رہی تھی ‘ انتخابات سے قبل اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے دوران بھی اے این پی رہنمائوں کو نشانہ بنایاگیا‘ اے این پی کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کو قصہ خوانی بازار میں ایک جلسہ کے دوران خودکش حملے میں شہید کر دیاگیا‘ سابق وزیر اور اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کے بیٹے کو ان کے آبائی علاقہ پبی میں فائرنگ کرکے ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا گیا‘ حکومت کے قیام کے ایک ماہ بعد پی کے ون پشاور سے اے این پی کے نومنتخب ایم پی اے اورنگزیب مہمند کو خودکش حملے میں شہید کر دیاگیا‘ غرض یہ کہ اے این پی کو آزادانہ طور پر حکومت اور پھر الیکشن سے قبل انتخابی مہم نہیں چلانے دی گئی ‘دوسر ی جانب قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو‘ سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی‘ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان ‘ ان کے بیٹے ایمل ولی خان‘ میاں افتخار حسین‘ اکرم خان درانی سمیت اہم رہنمائوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ عام انتخابات کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرکے ان کے امیدواروں اور کارکنوں کی فل پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے تاکہ انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومتوں پر دھاندلی کے الزامات جنم نہ لیں ورنہ آئندہ حکومت کیلئے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں