آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیا بھر میں الیکشن اور سیاستدانوں پر  فلمیں بنتی ہیں، مگر پاکستان میں کیوں نہیں؟

دُنیا بھر میں فلم اور ٹیلی ویژن کو معاشرے کا عکاس کہا جاتا ہے، آج کل سوشل میڈیا تو بعض جگہ معاشرے کی بدنامی کا باعث بنتا جارہاہے۔ فلم میں عہد حاضر کے مسائل معاشرتی نا انصافیوں، محرومیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ فلم میں جہاں ہنسی مذاق، رومانس تاریخی موضوعات یا جس عہد میں فلم بنتی ہے، اس عہد کے کسی خاص واقعہ حادثے پر مبنی فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کئی ممالک میں سیاست دانوں کے سیاہ کرتوت‘ کرپشن‘ غریبوں پر ظلم کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بنتی رہی ہیں، جو معاشرے کے حقیقی مناظر کی روح کے مطابق بنائی گئیں۔ دُنیا بھر میں سیاست دانوں کے ظلم‘ حکومت کے حصول کے یا کسی دوسرے کی حکومت کو گرانے کی سازش کے موضوعات پر بھی فلمیں بنتی رہی ہیں، پڑوسی ملک بھارت میں الیکشن‘سیاسی دائو پیج، حکومت کے حصول کے مختلف حربوں اور سازشوں کے موضوع پر بے شمار فلمیں بنائی گئی ہیں ، بہت سی فلموں نے باکس آفس پر کام یابی بھی حاصل کی ۔ بھارت میں پاکستان کے خلاف مواد پر مبنی متعدد فلمیں بنائی گئیں ،جن کا مقصد تاریخ کو مسخ کرنا تھا، علاوہ ازیں بھارت میں ہونے والی معاشرتی ناانصافیوں اورسازشوں کے ذریعہ حکومت کے حصول کے موضوع پر بہت اچھے انداز میں درجنوں فلموں بنائی گئیں۔ ان میں بالی وڈ کے تمام بڑے فن کاروں نے کام کیا ہے۔ ان فلموں میں ’’میں آزاد ہوں‘‘ (امیتابھ بچن) نائک (انیل کپور) سرکار (امیتابھ بچن)‘ راج نیتی‘ قصہ کرسی کا‘ جے گنگاجل‘ مدارس کیفے‘ پی سے پی ایم تک‘ دی ایکسیڈینٹل‘ پرائم منسٹر‘ بندوق‘ ماچس‘ آج کا ایم ایل اے، اوتار‘ الیکشن‘ نائک ریئل‘ ہیرو‘ سرکار راج‘ انقلاب‘ گرم ہوا‘ شول‘ ویرا‘ ڈرٹی پالیٹکس وغیرہ ایسی فلمیں ہیں، جن کا اسکرین پلے‘کہانی اور عکاسی اتنی زبردست رہی ہے کہ یہ فلمیں پسندکی گئیں ،جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان فلموں کی کہانی معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہے۔ بھارت کا سنسربورڈ اس قسم کی فلموں کی اجازت بھی دیتا ہے، جب کہ پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سنسر بورڈ کی جانب سے اتنی پابندیاں ہیں کہ کوئی پاکستانی فلم ساز ان موضوعات اور الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں سیاست دانوں کے کرتوت اور دیگر معاشرتی برائیوں کو دکھانے کی اجازت ہی نہیں دیتا، جس کی وجہ سے کسی فلم ساز کی ہمت ہی نہیں ہوتی ہے کہ وہ ان حساس موضوعات پر فلم بنائیں۔ پاکستان میں ایسے ہی معاشرتی ناہمواریوں کے موضوع پر فلمیں بنائی گئی ہیں، جس میں کسی حدتک سیاسی شعور اور محلاتی سازشوں پر مبنی فلمیں بنی ہیں۔ ان میں مالک‘ چنبیلی‘ سرفروش‘ ورنہ‘ کالے چور‘ انسان اور گدھا‘ مٹی کے پتلے‘ وطن کے رکھوالے‘ جناح‘ وغیرہ ایسی فلمیں ہیں، جب کہ ہدایت کار ریاض شاہد‘ حبیب جالب‘ خلیل قیصر نے فلسطین اور کشمیر کے موضوع پر فلمیں بنائیں، جن میں شہید‘ یہ امن‘ غرناطہ‘ زرقا وغیرہ قابل ذکر ہیں‘البتہ بعض پنجابی فلموں میں چوہدری اور وڈیروں کے ظلم پر مبنی لاتعداد فلمیں بنی ہیں، جس میں مظلوم کی آواز کو ہیرو کی آواز سمجھا گیا، یُوں سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی بعدازاں شان اور معمر رانا نے بھی مظلوموں کے کرداروں پر مبنی فلموں میں کام کیا، جب کہ آج کل حالیہ معاشرتی واقعات پر ٹیلی ویژن پر سیریلز ضرور ٹیلی کاسٹ ہوتی ہیں، مگر سیاست‘ موروثی سیاست، الیکشن میں دھاندلی‘ محلاتی سازشوں پر مبنی موضوعات پر اچھی فلمیں لکھی اور تخلیق کی جاسکتی ہیں، مگر پاکستان سنسر بورڈ کے قوانین ایسی فلموں کی تیاری میں آڑے آتے ہیں، حالاں کہ ملک میں جمہوریت ہے، مگر سنسربورڈ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی فلموں سے تخلیقی عنصر ختم ہوگیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں