• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعمیرات میں گنبد، محراب اور ستونوں کا استعمال

تعمیرات میں گنبد، محراب اور ستونوں کا استعمال

بیت المقدس، یروشلم سے لے کر امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ’وہائٹ ہاؤس‘ تک، تاج محل سے لے کر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار تک، اور مسجد قرطبہ، اندلس سے لے کر سندھ کے تاریخی مکلی قبرستان میں بنی عمارتوں تک، گنبد، محراب اور ستونوں کو تاریخی تعمیرات میں خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔

ہرچند کہ، آج کے دور میں گنبدی اور محرابی عمارتوں کو مساجد او رمزارات کی حد تک محدود رکھاجاتا ہے، لیکن اگر آپ پاکستان کے بعض شمالی پہاڑی علاقوں جیسے چترال اورگلگت بلتستان وغیرہ جائیں تو وہاں ٹن کے پرتوں سے قدیم محرابی چھتوں کی طرز پر جدید عمارت سازی کا رجحان آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

تاریخ پہ ایک نظر

تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو محرابی عمارتوں کی تاریخ عراق سے جا ملتی ہے۔ سبط حسن ایک نامور ترقی پسند ادیب ،دانشور اور محقق تھے، انھوںنے تاریخ وسماج پر بیش بہا کتابیں تحریر کیں۔ وہ محرابی عمارتوں کی تاریخ کویوں بیان کرتے ہیں،’ اہل عراق نے فن تعمیر میں جوکمال حاصل کیا،اس کی نظیر مشکل سے ملے گی ۔ مثلاً محراب، گنبد اور ستون، جن کے سہارے متمدن دنیا نے اپنے قصد وایوان تعمیر کیے، قدیم عراقیوں ہی کی ایجاد ہیں ۔ 

اورلُطف یہ ہے کہ ان سب کی بنیاد وہ نرسل کا جھونپڑا ہے، جسے فن تعمیر کے اصول سے ناواقف خانہ بدوشوں نے ہزاروں سال پیشتر اپنا سر چُھپانے کے لیے بنایاتھا‘۔ نرسل کے گٹھوں ، گچھوں اور چٹائیوں کی قدرتی ساخت ہی ایسی ہوتی ہے کہ اس سے محراب، گنبد اور ستون خودبخود بن جاتے ہیں ۔ نرسل کی کمانیوں کو جھکاؤتو محراب بن جاتی ہے اورجھونپڑی محراب دار سرنگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔محرابی شکل ہونے کی وجہ سے چھت پر پانی بھی نہیں ٹہرتا۔ اس طرح ابتداء میں محراب کی ایجادہوئی، چنانچہ، سب سے قدیم محرابیں عراق کے پُرانے کھنڈروں ہی میں ملی ہیں۔

فن تعمیر کا عروج

گنبد نماعمارتوں کو ان کی ساخت اور مضبوطی کے اعتبار سے فن تعمیر کا شاہکار نمونہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہماری ثقافت میں عموماً گنبد نما عمارتیں سرخ مائل رنگت کی ہوتی ہیں جیسا کہ بادشاہی مسجد لاہور، اسلامیہ کالج پشاور وغیرہ ۔ لیکن اس کے علاوہ سفید رنگت کی گنبد نما عمارتوں کی شان کچھ اور ہی نرالی ہے، جیسا کہ آگرہ کاتاج محل ۔ان عمارتوں کی ساخت اور طرز تعمیر اپنے اندر انسانی مہارت اور کاریگری کا شاندار نمونہ سموئے ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ قدیم انجینئرنگ کی عظمت کی بھی نشانیاں ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور سہولیات سے نامانوس اس زمانے کے کاریگر وں نے تخلیقی صلاحیتوں کے ایسے جوہر دیکھائے ہیں کہ انسان انہیں دیکھ اور سوچ کر دنگ رہ جاتاہے۔

تعمیرات میں گنبد، محراب اور ستونوں کا استعمال

گنبد نما عمارتوں کی بنیاد بھی سب سے پہلے سرزمین عراق میں رکھی گئی ۔ اس سرزمین نے زمانہ قدیم سے اپنے سینے میں دنیا کی عظیم تہذیبوں کو پروان چڑھایا ہے۔ گنبد کی ا یجاد بھی عراق کے قدرتی حالات تھے، مکان بنانے کے لیے جس قسم کی لکڑی درکارہوتی ہے، دجلہ وفرات کی وادی اس سے خالی ہے۔ گنبد چونکہ اندر سے کھوکھلا اور اونچا ہوتاہے، اس لیے گنبد نما عمارت گرمیوں میں ٹھنڈی رہتی ہے اور دیکھنے میں بھی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اُر کی کھدائی میں 27سو قبل مسیح کا ایک مقبرہ ملا ہے، جس میں ایک گنبد اب تک صیحح سلامت ہے۔ غالباً یہ دنیا کا سب سے پُرانا گنبد ہے۔

اپنے خطے پر نظر

ہمارے خطے میں، وسط ایشیا کے لوگوں نے خطے کی مخصوص صورتحال کے مطابق فن تعمیر کو فروع دیا ۔ یہاں کی قدیم عمارتیں نا صرف فن تعمیر کا شاہکار ہیں، بلکہ ان میں تخلیق کاری بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ خاص کر، وسط ایشیائی طرز تعمیر کا گھر جو باہر سے گنبد نما اور محرابی اصولوں کی نقل معلوم ہوتا ہے ۔ اس طرز تعمیر میں گھروں کی چھت، ستونوں اوردو شہتیروں پر مشتمل ہوتی ہے،جبکہ چھت میں لکڑیوں کو مخصوص طرز پر پیوست کرکے چھت بنائی جاتی ہے۔ 

یہ گھر نا صرف فن تعمیر کا شاہکار ہے بلکہ ماہرین کے مطابق یہ گھر زلزلہ پروف بھی ہے۔ ہنزہ میں التت اور بلتت نام کے دوقلعے موجود ہے ، قلعہ التت کی عمر تقریباً گیارہ سو برس جبکہ بلتت کی عمر سات سو سال ہے ۔ دونوں قلعے اونچی چوٹی پر واقع ہیں اور تین منزلوں پرمحیط ہیں۔ ان قلعوں کے اکثر کمرے وسطی ایشیائی طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ یہ قلعے مٹی کے گارے اور لکڑیوں سے بنے ہوئےہیں۔

اس دور کے کاریگروں کو داد دئیے بغیر رہانہیں جاسکتا، کیونکہ انتہائی نامساعد حالات اور آلات واوزار کی غیر موجودگی کے باوجود انہوں نے ایسی عظیم عمارتیں تعمیر کیں، جوکئی سو برس سے نا صرف اپناوجود برقرار رکھے ہوئے ہیں، بلکہ اگلے کئی سو برسوں تک مزید اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتی ہیں ۔

تازہ ترین