آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مجموعہ کلام ’’عشق قلندر کردیتا ہے‘‘ کی تقریب رونمائی
شاعر وصی شاہ اور رانا ثمر جاوید، تقریب رونمائی کے موقعے پر

 نوجوان شاعر سلیمان جاذب کا نام نہ صرف پاکستان بلکہ متحدہ عرب امارات میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب و صحافی گزشتہ 11برسوں سے بہ سلسلۂ روزگار دبئی میں مقیم ہیں۔ بچپن سے ان کی تخلیقات اخبارات و رسائل کی زینت بنتی رہیں۔ ان کے لکھے ہوئے کئی گیت ’’کاش‘‘، ’’پردیس میں عید‘‘، ’’الوداع‘‘، ’’تم جب اس کی مثال دیتی ہو‘‘، ’’لمحہ لمحہ‘‘ سمیت مقبول ہو چکے ہیں۔ فروغ ادب اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف مواقع پر بے شمار ایوارڈز اور شیلڈز سے نوازا جا چکا ہے، خصوصاً حکومت شارجہ بک اتھارٹی کی جانب سے بہ سلسلہ ’ادب کے فروغ‘ اسناد وصول کر چکے ہیں۔ نامور شعراء عباس تابش، اسلام عظمیٰ اور طفیل ثاقب کو استاد مانتے ہیں۔ ان کی کتب تیری خوشبو، سورج ڈوبا نہیں کرتے، مثل گل شائع ہو چکی ہیں۔ اب ان کا چوتھا مجموعہ کلام ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘ بھی منظر عام پر آ چکا ہے، جس کی تقریب رونمائی پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے پاکستان آڈیٹوریم میںمنعقد کی گئی۔ تقریب کی صدارت پاکستان سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے شاعر وصی شاہ نے کی۔ 

مہمان خصوصی ڈپٹی قونصل جنرل رانا ثمر جاوید تھے۔ پریس قونصلر عاشق حسین شیخ، ممتاز بزنس مین شبیر مرچنٹ اور اردو ادب سے لگائو رکھنے واالوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت ڈاکٹر اکرم شہزاد نے حاصل کی۔ یواے ای اور پاکستان کے قومی ترانے بھی بجائے گئے جسے سب نے والہانہ احترام سے سنا۔ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺسلیمان جاذب کی لکھی نعت ثنا خواں در نجف کی دل سوز آواز میں پیش کی گئی۔ 

نظامت کے فرائض حافظ زاہد علی نے اپنے پرکشش و منفرد انداز و بیان میں بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیئے بلکہ محفل کو آخر تک جگائے رکھا۔ نامور شاعر ظہورالسلام جاوید اور امجد اقبال امجد نے سلیمان جاذب کے شعری مجموعہ ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘ اور سلیمان جاذب کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ امجد اقبال امجد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مختصر عرصہ میں سلیمان جاذب نے امارات میں قدم رکھتے ہی اپنی صلاحیتوںکا لوہا منوا لیا ہے۔ آج جبکہ ان کے مجموعۂ کلام ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘ نام کی طرح جاذب نظر ہے، اپنی شاعری میں سادہ باتیں بیان کرتے ہیں۔ الفاظ کی تراش خراش کے ساتھ ردیف و قافیوں کو ہم آہنگی سے سمونے کا ہنر ان کو ممتاز اور یکتا کرتا ہے۔

مجموعہ کلام ’’عشق قلندر کردیتا ہے‘‘ کی تقریب رونمائی
ادبی تقریب کے شرکاء کا ایک گوشہ

 مہمان خصوصی ڈپٹی قونصل جنرل رانا ثمر جاوید نے کہا کہ سلیمان جاذب نوجوان نسل کے ترجمان ہیں۔ انہیں دیکھ کر خوشی اور اطمینان ہوتا ہے کہ نئی نسل بھی اردو ادب کے فروغ میں اپنا حصّہ دے رہی ہے۔ بیرون ملک آنے کے بعد کسی بھی زبان کو خطرہ اس کے مٹنے کا ہوتا ہے۔ کیوں نئی نسل عموماً وہی زبان سمجھنے، بولنے اور لکھنے لگتی ہے جو اس ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اپنی زبان کے فروغ کیلئے کام کرے تو دل کو اطمینان اور طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ 

رانا ثمر جاوید نے مزید کہا کہ آج کی تقریب میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جو بہت امنگیں اور تمنائیں لے کر یہاں آئے ہیں، پہلی توجّہ روزگار کے حصول پر ہوتی ہے جس کے بعد وہ اپنے شوق کی تسکین کرتے ہیں۔اس موقعے پرمقامی گلوکار شاہ زر انور اور فراز احمد نے سلیمان جاذب کی غزلیں ترنم کے ساتھ پیش کر کے حاضرین کے دلوں کو گرمایا۔ صدر محفل وصی شاہ نے کہا محبت، خلوص، نیک نیتی، توکّل، برداشت، سخاوت جیسے اوصاف نہ صرف سلیمان جاذب کے رویّے بلکہ ان کی شاعری سے بھی پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ 

آپ سلیمان جاذب کو قریب سے جانیں گے تو ان کی روح تک سے آپ کو صوفیانہ رویّوں کی خوشبو ضرور آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘ نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا لہٰذا ان اشعار پر بات ہوئی جس سے تصوّف کی خوشبو آتی ہے لیکن جب اس کتاب کو مکمل پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ذات کی شناخت کے سفر سے لے کر محبت کی بھول بھلیوں تک، دھرتی میں اگنے والی مہکتی سرسوں سے لے کر پردیس میں آنکھوں میں چبھتی ریت تک، غریب کی مفلسی سے لے کر معاشرے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم تک کسی بھی حسّاس اور باعمل شخص کی طرح سلیمان جاذب بھی زندگی کے ہر ہر رویّے کو محسوس کرتے ہیں۔ 

اس کے بعد حاضرین کے پرزور اصرار پر وصی شاہ نے اپنی شاعری پیش کی اور حاضرین کے دل موہ لئے۔اس موقعے پر صاحب کتاب سلیمان جاذب نے کہا کہ میرا شعری مجموعہ عشق حقیقی اور عشق مجازی کا امتزاج ہے جس میں غزلوں کی ترتیب اس قدر آسان فہم اور سادہ ہے کہ عام لوگ بھی اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ شاعری میں اپنائیت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ دل کے قریب ہو۔ میری شاعری میرے احساسات کی ترجمان ہے۔ انہوں نے یواے ای میں مقیم شعراء اور کمیونٹی کی طرف سے ملنے والی عزت اور پذیرائی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئندہ بھی معیاری شاعری اور خوبصورت ادبی تخلیقات اپنے قلم کی زینت بناتے رہیں گے۔

نامور فنکارہ و گلوکارہ سلمیٰ آغا نے اپنے ویڈیو پیغام میں سلیمان جاذب کو مبارکباد بھی دی۔ اختتام سے قبل کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔ ادبی تقریب کے منتظمین میں کامران ریاض، قرۃ العین، جمیل اسحاق، مخدوم رئیس قریشی، میاں عمر ابراہیم، جی ایم شہزاد، ایس ایم خان شامل تھے جبکہ معروف گلوکارہ صومیہ خان کو اعزازی شیلڈ بھی دی گئی۔ کمیونٹی کی ممتاز شخصیات ویلفیئر قونصلر صولت ثاقب، محترمہ ثمینہ ناصر، عرفان افسر اعوان، چوہدری راشد علی ایاز، ڈاکٹر الحرم چوہدری، سید شرافت علی شاہ، ڈاکٹر محبوب خان، حافظ سہیل انجم، ڈاکٹر رحمینہ، عامر تقی، ملک وحید بابر، سنیل جاوید، عابد اختر قریشی اور رباب سحر نے شرکت کر کے رونق بڑھائی۔ یہ ایک یادگار ادبی تقریب تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں