آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اے سی ایل سی کے موثر اقدامات کار و موٹر سائیکل لفٹنگ کی وارداتوں میں کمی

کراچی آپریشن کے بعد شہر میں دہشت گردی سمیت سنگین جرائم کی وارداتوں میں تو بتدریج کمی آئی تاہم اسٹریٹ کرائمز کے واقعات میں پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہواہے، خاص طور پر موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چھیننے اور چوری ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ۔اعلیٰ پولیس افسران کی جانب سے بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ شہر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں چھیننے اور چوری کے واقعات میںتیزی آئی ہے لیکن یہ شرح ابھی بھی گزشتہ سالوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے اینٹی کار لفٹنگ سیل نے شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل اور گاڑی کے چھیننے اور چوری میں ملوث منظم نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا اور رواں برس متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے چھینی اور چوری کی گئی گاڑیاں برآمد کی گئیں ۔اینٹی کار لفٹنگ سیل کے مطابق سال2018میں اب تک 2 ہزار 776 شکایات آئیں جن میں سے 820کیسز حل کیے گئے۔اس دوران ایک ہزار86ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔اے سی ایل سی کے مطابق رواں برس 65کیسز کا خاتمہ کیاگیا۔سال2018 کے آغاز سے اب تک 370گاڑیاں اور4ہزارموٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔

ایس ایس پی اینٹی کار لفٹنگ سیل، سید اسد رضا کے مطابق رواں سال فور ویلر گاڑیاں چھیننے اور چوری ہونے کے واقعات میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے،اس وقت گاڑیاں چھینے اور چوری ہونے کا یومیہ اوسط3.79ہے ،سال2013میں یومیہ12.21گاڑیاں روزانہ چھینی اور چوری کی جاتی تھیں،2014میں کاڑیاں چھننے اور چوری ہونے کی شرح 2201510.61، 2015میں .90،2016میں4.81اور2017میں3.87تھی انہوںنے بتایا کہ چند ماہ کے دوران موٹر سائیکلیں چھیننے اور چوری کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہےاور اس وقت یومیہ 73.02موٹر سائیکلیں روزانہ چھینی اور چوری کی جارہی ہیں۔ایس ایس پی، اے سی ایل سی نے مزیدبتایا کہ لفٹ کی گئی موٹر سائیکلوں میں7فیصد چھینی جبکہ93فیصد چوری کی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل لفٹنگ کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو ملزمان پہلے فور ویلر گاڑیاں لفٹ کرتے تھے وہ بھی اب موٹر سائیکل کی لفٹنگ میں ملوث ہو گئے ہیں۔حب اور خضدار میں چھینی اور چوری کی گئی موٹر سائیکلوں کی خریدوفروخت،ایف آئی آر کی رجسٹریشن نہ ہونا،پولیس اسٹیشنز میںمسروقہ موٹر سائیکلوں کو رکھنا،مینوفیکچر زکی جانب سے موٹر سائیکلوں میں ٹریکنگ سسٹم نہ لگانا،غیر تربیت یافتہ انویسٹی گیشن آفیسرز،پارٹس میںتقسیم کرکے ان کی خریدوفروخت اور موٹر سائیکلوں کی باآسانی بلوچستان نقل وحمل بھی موٹر سائیکلوں کی لفٹنگ کی بڑی وجوہات ہیں۔

اے سی ایل سی کے موثر اقدامات کار و موٹر سائیکل لفٹنگ کی وارداتوں میں کمی

انہوں نے بتایا کہ شہر میں موٹر سائیکل لٖفٹنگ میں اضافے کی وجوہات میںسی سی ٹی وی نیٹ ورک کا نہ ہونا،گلے محلوں میں نشے میں مبتلا افراد کا نشے کےلیےموٹر سائیکلوں کو چوری کرنا اور ان کے پارٹس بیچنا جبکہ شاپنگ مالز اور صنعتی یونٹس میں پارکنگ کی سپر ویژن نہ ہونابھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے سی ایل سی کی جانب سے شہریوں کی آگہی کے لیے مختلف کیمپس بھی لگائے جاتے ہیں۔ایس ایس پی کے مطابق حیدری میں موٹر سائیکلوں اور نیوکراچی میںکاروں اور دیگر گاڑیوں کے اتوار بازار میں بھی اے سی ایل سی کی جانب سے شہریوں کی سہولت کےلیے اسٹال لگائے جاتے ہیں تاکہ انہیں خریدی یا بیچی جانے والی گاڑیوں سے متعلق مکمل معلومات حاصل ہوں۔

رواں سال سب سے زیادہ فور ویل گاڑیاں تھانہ گلشن اقبال کی حدود سے چھینی اور چوری کی گئیں جن کی تعداد62ہے ،دوسرے نمبر پر تھانہ شاہراہ فیصل ہے جس کی حدود سے41گاڑیاں چھینی اور چوری کی گئیں،تھانہ درخشاں سے40،گلستان جوہر سے31،فیروز آباد سے 29،تیموریہ سے29،تھانہ عزیز بھٹی سے 23،سچل سے 22،شاہراہ نور جہاں سے22،بہادر آباد سے 21،گلبرگ سے17،مبینہ ٹاؤن سے 16،ڈیفنس سے 15،عزیز آباد سے 14اور حیدری مارکیٹ تھانے کی حدود سے 14گاڑیاں چھینی اور چوری کی گئیں۔

سال2018میں سب سے زیادہ موٹر سائیکلیں عوامی کالونی تھانے کی حدود سے چھینی اور چوری کی گئیں جن کی تعداد465 ہے،زمان ٹاؤن تھانے کی حدود سے437،کورنگی صنعتی ایریا تھانے کی حدود سے399،شاہراہ فیصل سے309،گلشن اقبال سے 308،پریڈی سے283،کورنگی سے276،سچل سے271،خواجہ اجمیر نگری سے 264،تیموریہ سے 251،عزیز بھٹی سے 246،درخشاں سے243،صدر سے 236،جمشید کواٹرز سے235اور تھانہ نیو کراچی کی حدود سے227موٹر سائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں۔

اے سی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق کراچی میں گزشتہ 11برسوںکے دوران 7لاکھ 3ہزار66نئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں، 2007 میں 72ہزار662، سال 2008میں 54 ہزار 460،2009میں 48ہزار363،2010میں 55ہزار 839، 2011 میں 61 ہزار 489، 2012میں 56ہزار 403، 2013میں 67 ہزار 284، 2014 میں 59 ہزار 21، 2015میں 70ہزار694،2016میں 90 ہزار365اور سال2017میں 66 ہزار 486 نئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔اسی طرح گزشتہ 11 برسوں کے دوران شہر میں 20 لاکھ 10ہزار839نئی موٹر سائیکلیں رجسٹر ہوئیں۔2007میں ایک لاکھ،23 ہزار 788،2008میں ایک لاکھ چوبیس ہزار 949، سال2009 میں رجسٹر ہونے والی موٹر سائیکلوں کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار 569، 2010میں ایک لاکھ 27ہزار150،2011کے سال دوران یہ تعداد 2لاکھ22ہزار599،2012میں ایک لاکھ73ہزار490،2013میں وولاکھ 15ہزار993،سال2014میں2لاکھ34ہزار472،2015میں2لاکھ49ہزار656،2016 میں 2لاکھ99ہزار26اور سال2017میں شہر میں ایک لاکھ 27 ہزار 147نئی موٹر سائیکلیں رجسٹر ہوئیں۔

اے سی ایل سی کے موثر اقدامات کار و موٹر سائیکل لفٹنگ کی وارداتوں میں کمی

اے سی ایل سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران شہر میں13ہزار647گاڑیاں چھینی اور چوری کی گئیں جن میں سے سال 2013ء میں چار ہزار455،2014ء میں یہ تعداد تین ہزار 872 رہی، 2015کے دوران 2152، ورانشرحیہشورح 215ل2013 میں 4ہزار 455،2014میں3ہزار872،2015میں2ہزار.mh52،2016 میں 1ہزار754 اورسال2017 میں ایک ہزار414گاڑیاں چھینی اور چوری کی گئیں۔اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے ایک لاکھ 17 ہزار 526موٹر سائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2013ء میں 27 ہزار 67، 2014میں 22ہزار 649، 2015میں 21ہزار 183،2016میں 24ہزار 582، سال 2017میں 26ہزار 45 موٹرسائیکلیں چھینی یا چوری ہوئیں۔اے سی ایل سی کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کار اور موٹر سائیکل لفٹنگ اور چوری ہونے کی وارداتوں میں خاصی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں