• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: جنس و مذہب تبدیل کروانے و فحاشی کا اڈہ چلانے کا الزام، 2 بہنیں گرفتار

—کولاج بشکریہ بھارتی میڈیا
—کولاج بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے مبینہ طور اپنی جنس اور مذہب تبدیل کرنے، عصمت دری کے واقعات میں ملوث ہونے اور سیکس ریکیٹ چلانے کے الزام میں 2 بہنوں اور ان کے 1 ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ 3 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بہنیں پہلے عباس نگر کی ایک کچی آبادی میں رہتی تھیں جو حال ہی میں جنس تبدیل کروانے کے بعد بطور مرد نئی پہچان کے ساتھ ایک عالیشان مکان میں منتقل ہوئی ہیں۔

تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ جنس تبدیل کروانے والی دونوں بہنوں کے یہ اثاثے غیر قانونی کمائی سے حاصل کیے گئے ہیں۔

دونوں بہنوں کے خلاف کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب 2 خواتین، جن کی عمریں 21 اور 32 سال ہیں، انہوں نے باغ سیونیا تھانے میں الگ الگ مگر ملتے جلتے الزامات درج کروائے۔ 

متاثرہ خواتین کے مطابق انہیں کم آمدنی والے طبقے سے چن کر گھریلو ملازمت، ماہانہ 10 ہزار روپے تنخواہ، رہائش اور بہتر طرزِ زندگی کا لالچ دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق خواتین نے الزام لگایا کہ بعد میں انہیں پارٹیوں، کلبز اور لاؤنجز میں لے جایا گیا جہاں منشیات پلائی گئی اور جنسی زیادتی کی گئی۔

ایک متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ دسمبر 2025ء میں اسی منظم گروہ کے ایک کارندے نے اسے احمد آباد لے جا کر  زیادتی کا نشانہ بنایا۔

دوسری متاثرہ خاتون جو گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی، اس نے الزام لگایا ہے کہ چندن یادیو نامی شخص نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں، کیس میں جبری تبدیلیٔ مذہب کا الزام بھی شامل ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتاری کے دوران پولیس نے ملزمان کے موبائل فون بھی ضبط کیے ہیں جن میں سے مشتبہ واٹس ایپ گروپس اور متعدد لڑکیوں کی تصاویر ملی ہیں۔

بھوپال شہر کی پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک بین الریاستی نیٹ ورک ہو سکتا ہے جس کے تانے بانے گجرات اور ممبئی تک پھیلے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید