آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید قرباں کی آمد آمد ہےاور اس تہوار کو مذہبی جوش و جذبے سے منانے کے لیے تیاریاں آخری روز تک جاری رہتی ہیں۔ آج بھی شہر کی مویشی منڈی میں کئی گاہک مویشی مالکان سے جانوروں کی قیمتوں کا بھائوتائو کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے عیدِ قرباں قریب آئے گی تو لکڑی کی مڈیوں اور باربی کیو کے سامان کی فروخت میں تیزی آجائے گی۔ اس کے علاوہ چھریاں اور چاقو تیز کرانے کا سلسلہ بھ شروع ہوجائے گا۔ یہ سب تو اپنی جگہ مگر صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپ کو کچھ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنی ہوں گی تاکہ آپ عید سے پہلے اور عید کے بعد بھی صحت مند رہیں۔

جانور خریدنے سے پہلے

اگر آپ نے ابھی تک جانور نہیں خریدا اور مویشی منڈی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تواحتیاط کے طور پر اپنے منہ کو رومال سے ڈھک لیں یاماسک لگالیں۔ بچوں کو مویشی منڈی جانے کا بہت شوق ہوتاہے۔ بچوں کو جب بھی منڈی لے کر جائیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا منہ ہروقت ماسک سے ڈھکا رہے تاکہ وہ جانوروں میں پائے جانے والے جراثیم اور گردو غبار سے متاثر نہ ہوسکیں کیونکہ ہر سال مویشی منڈی میں کانگو جیسے وائرس سے متاثر ہونے کا خطر ہ رہتاہے۔ اگر آپ شام کے بعد منڈی جار ہے ہیں تو اپنے جسم کے کھلے حصوں،  جیسےچہرے، ہاتھوں اور پیروں پر مچھر بھگائو لوشن لگالیں تاکہ ملیریا اور ڈینگی والے مچھروں سے آپ سے دور رہیں۔

قربانی کے بعد

ہمارے ہاں ادھر قربانی ہوئی، ادھر گوشت تقسیم ہوا اور اس کے بعد چٹ پٹے اور مزیدارکھانوں جیسے قورمہ، بریانی، کڑاہی، تکے، کلیجی اور چانپوں وغیرہ کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن طبی ماہرین کہتے ہیں کہ گوشت کھانے میں اعتدال سے کام لیں، خصوصاً بلڈ پریشر اور امراض قلب کے مریضوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔طبی ماہرین نے چند باتوں سے خبردارکیا ہے کہ قربانی کا گوشت محتاط ہوکر اعتدال کے ساتھ کھائیں اور گوشت کو20دن سے زیادہ فریج اور فریزر کی زینت نہ بنائیں۔ 

بار بار فریج کھولنے سے گوشت کی تازگی اور غذائیت بھی متاثر ہوتی ہے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ طبی ماہرین زیادہ باربی کیو کھانے میں بھی ہاتھ روکنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ بار بی کیو کا گوشت مکمل نہیں پکتا اس لیے یہ جلد ہضم نہیں ہوتا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت کے پکوانوں میں مسالوں کا زیادہ استعمال دل اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

احتیاطی تدابیر

عید قرباں پر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ زیادہ گوشت تقسیم کر دیں، صفائی ستھرائی یقینی بنائیں، کم مسالوں سے مکمل پکا ہوا کھانا کھائیں۔ بسیار خوری سے شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کو زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ دل کے مریض گوشت کی بجائے دالیں اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں، اس کے علاوہ ذیابطیس اور دل کے مریض کلیجی ، گردے اور مغز کا استعمال ہرگزنہ کریں کیونکہ ان میں کولیسٹرول کی مقدار عام گوشت کے مقابلے میں کئی گنازیادہ ہوتی ہے، جو ان کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اسی لئے خواتین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گھروں میں کم مسالوں سے پکا اور پوری طرح گلا ہوا کھانا تیار کریں تاکہ بچوں اور بزرگوں کو اسے ہضم کرنے میں مشکلات نہ ہوں۔

گوشت کے طبی فوائد

ماہرین کے مطابق گوشت پروٹین (Protein) کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ انسانی جسم کی نشوونما کے لیے پروٹین کوخاص اہمیت حاصل ہے۔یہ انسانی جسم میں خلیوں کی توڑ پھوڑ یعنی میٹا بولزم (Metabolism) کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوری کو دور کرکے اینٹی باڈیز (Antibodies)پیدا کرتا ہے، جس کی بدولت جسم مختلف اقسام کے انفیکشن سے محفوظ رہتا ہے۔ گوشت کی بدولت ہی خون میں سرخ خلیے یعنی ریڈبلڈسیلز (Red Blood Cells) بنتے ہیں جبکہ آئرن (Iron)، زنک (Zinc)، سیلینیم (Selenium) اور مختلف اقسام کے وٹامنز بھی اسی سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ آئرن سے جسم میں ہیموگلوبن (Hemoglobin) پیدا ہوتا ہے، جس سے خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ 

زنک سے نئے ٹشوز بنتے ہیں جبکہ سیلینیم جسم سے غیر ضروری چکنائی اور دیگر کیمیکلز کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ گوشت میں موجود وٹامن اے، بی اور ڈی ہڈیوں، دانتوں، آنکھوں اور دماغ کو طاقتور بنانے کے ساتھ ساتھ جِلد کو بھی جوان رکھتے ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے گوشت میں آٹھوں بنیادی امائنوایسڈز(Amino Acids) پائے جاتے ہیں۔ یہ ضروری امائنوایسڈز قدرتی طور پر انسانی جسم میں پیدانہیں ہوتے لہٰذا ان کا غذا کے ذریعے حصول ضروری ہوجاتاہے۔ یہ نہ صرف پٹھوں کوطاقتور بناتے ہیں بلکہ جسم کی قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قربانی کا گوشت تازہ اور صحت مند غذائیت سے بھرپور ہونے کے باعث زیادہ کیلوریز (Calories) پر مشتمل ہوتا ہے، جس کو زیادہ مقدار میں کھانے سے مضرصحت اثرات کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں