آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قربانی وہ مقدس فریضہ ہے، جس کو میرے اور آپ کے کریم آقاﷺ نے مدینہ پاک کی پاک زندگی میں مسلسل 10سال ادا کیا۔ قرآن پاک کی آٹھ سورتوں میں قربانی کا ذکر آیا ہے۔ سورہ حج کی آیت نمبر37کا مفہوم ہے، کہ’’ اللہ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے‘‘، صحیح مسلم میں ہے، ’’اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں، دلوں کو دیکھتا ہے‘‘۔ قربانی ایک ایسا فریضہ ہے، جس کی اہمیت کا اندازہ لفظ قربانی سے ہوتا ہے۔ مثنوی شریف میں مولانا روم فرماتے ہیں، کبھی بادشاہوں کے درباروں میں لوگ ہدیہ اور تحائف پیش کیا کرتے تھے، جس کے مال کو بادشاہ ہاتھ لگا کر، یہ کہتے ہوئے واپس کر دیتا، اس کو واپس اپنے پاس رکھو، کیونکہ آپ مجھ سے زیادہ امیر یا سخی نہیں، گویا بادشاہ کے ہاتھ لگنے کے بعد وہ ہدیہ قبول ہو جاتا تھا۔ مولانا روم فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے وقت قربانی ان کا ذوق، شوق، نیت اور تقویٰ دیکھتا ہے، نہ کہ گوشت کی مقدار بلکہ اللہ فرماتا ہے، مجھے تمہارا گوشت نہیں چاہیے، بلکہ تقویٰ اور درست نیت چاہیے۔ ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کے باجود قربانی کا فائدہ اس غریب آدمی کو بھی ہوتا ہے، جو شہروں کی بنیادی سہولتوں سے کئی میل دور بیٹھا ہوا ہوتا ہے، قربانی حقیقت میں سرمایہ کاری کی غلام گردشوں اور اپاہج زنجیروں کو توڑتے ہوئے، عام کسان، ٹرک ڈرائیور، چارہ بان اور قصائی کو فائدہ پہنچاتی ہے، یہ قربانی ہی ہے، جس سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ جو خود قربانی نہ کرنے کے باوجود کم ازکم سال میں تین بار پیٹ بھر کر گوشت کھاتے ہیں۔ قربانی کے جانوروں کی بدولت دنیا میں ایک بہت بڑی مقدار میں واٹر پروفنگ، آگ بجھانے اور سلگانے، موم بتیاں، صابن، کاسمیٹکس، پرندوں کی خوراک، خاتمہ توانائی بحران اور چمڑے کی تیاری ہوتی ہے۔ قربانی پر اعتراض کرنے والوں کے لئے پیغام ہے، کہ ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اگر یہ جانور ذبح نہ کیے جاتے، تو پھر یہ مرتے اور ہم سے ان سے مستفید نہ ہو پاتے۔ اللہ کی شان دیکھئے، کہ حلال جانوروں کی مقدار بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے، جب کہ حرام جانوروں کی مقدار دیکھنے میں بھی کم ملتی ہے، اللہ پاک کا نظام ہے، گوشت خور مخلوق کے دانت نوکیلے ہوتے ہیں اور جن میں گوشت خوری نہیں ان کے دانت سپاٹ ہوتے ہیں۔ اللہ کا احسان عظیم ہے، اپنے بندہ پر، کہ اس نے اپنے بندے کے دانت نوکیلے اور سپاٹ دونوں طرح رکھے ہیں، اسی لئے ہم گوشت اور سبزیاں کھانے کے قابل ہیں۔ قربانی اور دیگر جانوروں کے پالنے والوں کے بارے تحقیق ہمیں یہ بتاتی ہے، کہ جانور پالنے والوں میں ذہنی دبائو اور امراض قلب کم، نارمل بلڈپریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی مقدار نہیں بڑھتی، اسی لئے دیہاتی لوگ کم بیمار ہوتے ہیں اور صحت مند لمبی زندگی پاتے ہیں۔ 2017میں پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے مطابق پاکستان میں 200ارب کا کاروبار ہوا، جس میں ایک کروڑ 20لاکھ جانور جن میں 35لاکھ گائیں، 80لاکھ بکرے، 80ہزار اونٹ اور دیگر جانور شامل تھے، گزشتہ سال 12ارب کھالوں کی قیمت بنی تھی، جانوروں کی خریداری پر 150ارب روپے خرچ ہوئے، دیگر امور کو ڈال کر مجموعی طورپر 160ارب روپے کے اخراجات آئے، اگر ہم 2017حج کی بات کریں، تو ایک ملین جانور ذبح ہوئے، ایکسپوٹرز نے 8ارب کی کھالیں چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں ایکسپورٹ کی تھیں۔ ابودائود شریف کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں، کہ ہر وہ کام کرو، جس سے ثواب ہو، اسی طرح مولانا احمد رضا فاضل بریلوی کے فتاویٰ رضویہ جلد 25ص 475،474 ، علامہ امجد علی اعظمی کے فتویٰ امجدیہ جلد 3ص 326اور مفتی وقار الدین کے فتاویٰ وقار الفتاویٰ جلد2ص 479 میں اکابر فرماتے ہیں، کہ ہر اچھے،خیرکے اور نیک کام میں قربانی کی کھال کی قیمت خرچ کی جا سکتی ہے، دیا میر بھاشا ڈیم، جس پر کل خرچہ 14کھرب 50ارب آنا ہے، سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ایک الگ اکائونٹ بنا دیا گیا ہے، 84کروڑ جمع ہو چکے ہیں، اس طرح قربانی کی کھالوں کے پیسوں سے دیا میر بھاشا ڈیم میں تقریباً200ارب سے زائد رقم اکٹھی ہوسکتی ہے، میری مفتیان کرام، سیاستدانوں اور پوری قوم کے ہر فرد سے اجتہادی اپیل ہے، کہ براہ کرم آگے بڑھیں، چند سال کے لئے اس ڈیم میں قربانی کی کھال اور پیسے جمع کرائیں، ڈیم کی تعمیر سے ہماری لوڈشیڈنگ، زراعت، ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہوگا، ملکی وقار بلند ہوگا، بیرونی قرضوں میں کمی آئے گی اور ڈالر کی قیمت میں مزید کمی آنے سے اربوں ڈالر قرضے ادا کرنے میں آسانی یقینی ممکن ہوگی۔ پاکستان میں انتہا پسندی اور اس سے جڑے امور پر گہری نظر رکھنے والے ہمارے دوست محمد عامر رانا کے بقول بہت ساری کالعدم جماعتیں، تنظیمیں مختلف ناموں اور طریقہ وارادات کے تحت سادہ لوح عوام سے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، جس کی مالیت کم ازکم کروڑوں میں بنتی ہے، عوام کو اس حوالے سے بھی باخبر رہنا چاہیے، تاکہ آپ کی مالی عبادت کے بعد آپ کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کوئی کالعدم جماعت جن کے نام حکومت پاکستان نے اخبارات کے اشتہارات میں شائع کئے ہیں، وہ آپ سے کھال حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو پائے۔ ان تمام خطرات سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے، کہ قربانی کی کھال کے پیسے ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں۔ دوسری جانب کریمین کانگو وائرس جس کو سائنسی زبان میں کریمین ہیمریجک کانگو فیور کہا جاتا ہے، ہمیں سنت ابراہیمی کے وقت اپنے آپ کو اس خطرناک وائرس سے بچانا ہے، جس سے بچنے کا محفوظ طریقہ یہ ہے، کہ جب آپ قربانی کا جانور لیں، یا خرید چکے ہیں، تو اس بات کو یقینی بنائیں، کہ اس کے جسم پر ’’پسو‘‘ تو نہیں ہے، یہ کوئی قربانی کے خلاف سازش نہیں، بلکہ شرعی اور طبی رہنمائی ہے۔ جشن آزادی کے سلسلہ میں یوم قیام پاکستان کانفرنس میں شارح مکتوبات امام ربانی پیر محمد سعید احمد مجددی کی درگاہ کے جانشین پیر محمد رفیق احمد مجددی کی دعوت پر گوجرانوالہ خطاب کا موقع ملا، وہ اعتماد، کردار، وقار، ٹھہرائو، سادگی اورعاجزی میں صاحب طرز پیر ہونے کے ساتھ فقیری کا مجسمہ بھی ہیں ۔ملک اور بیرون ملک میں جدید علوم سے آراستہ 50سے زائد مساجد و مدارس کے نیٹ ورک میں وسعت لا آرہے ہیں۔ یہ وہ مثالی درگاہ ہے، جہاں علم، عمل اور روحانیت کا عملی مظاہرہ دیکھا جاسکتا ہے، کانفرنس میں شیخ الحدیث مفتی عبدالستار سعیدی، معروف ماہر تعلیم سید احمد شاہ بخاری کی قیام پاکستان کے حوالے سے تاریخی حوالوں سے مزین گفتگو سننے کو بھی ملی، مفتی عبدالستار سعیدی نے فرمایا، کہ1925میں تحریک پاکستان کا آغاز اس وقت ہوگیا تھا، جب مسلمانوں کے عقائد اور نظریات کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی گئی، بعد میں 22سال بعد یعنی1947کو پاکستان معرض وجود میں آیا، میں 22سال کا جملہ سننے کے بعد سوچ میں پڑ گیا، کہ تحریک انصاف کے عمران خان نے بھی 22سال کوشش کے بعد حکومت حاصل کی ہے، ان شاء اللہ! اب ملک کی حالت بہتر ہوگی، کیونکہ عمران خان ملک وقوم کی حالت بدلنے آیا ہے، اس سے قبل سیاستدان اپنی حالت بدلنے کے لئے اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کا قوم کو شکریہ ادا کرنا چاہیے، کہ جن کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں میاں محمد نوازشریف کئی سال بعد آئین کی رو سے جیل میں رہتے ہوئے، اس سال عید پاکستان میں منا رہے ہیں۔ حج کے حوالے سے گزارش تھی، کہ کاش! خانہ کعبہ میں تمام اسلامی ممالک کے حکمران حج کے موقع پر تین روزہ کانفرنس منعقد کر کے امت مسلمہ کو ہر سال ’’نیو مسلم آرڈر‘‘ جاری کیا کریں۔ آج جمعہ ہر دکھ درد کی دوا بس درود مصطفی ﷺ80بار ضرور پڑھ لیں ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں