آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد انورشیخ،نواب شاہ

’’پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘ ویسے تو یہ خوش کن نعرہ محکمہ پولیس کے لئے مشعل راہ ہے ،تاہم نواب شاہ پولیس نے اس کواپنے عمل سے سچ بھی ثابت کردکھایا ہے۔چند روز قبل پولیس نے اغواء ہونے والےایک تاجر کو نہ صرف بازیاب کرایا بلکہ تاوان کی رقم وصول کرنے والے ڈاکو کو مقابلے کے بعد گرفتار کرکے اس کے قبضے سے مغوی کی رہائی کے عیوض اس کے لواحقین سے وصول کی گئی چالیس لاکھ روپے کی رقم بھی برآمد کرلی۔ اس اجمال کی تفصیل اس طرح ہے کہ سانگھڑ روڈ سے ایک شخص غلام مصطفیٰ جویو کو جو کہ کراچی میں مارکیٹنگ کے شعبہ سے وابستہ ہے، ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے اسے کاروبار میں معاونت کرنے کے بہانے اس کو شہداد پور کے نواحی گاؤں میں بلایا اور اغواء کرلیا۔ مغوی کے رشتہ داروں سے ڈاکوؤں نے دو کروڑ روپے تاوان طلب کیا ۔ غلام مصطفیٰ کے بھائی جو کہ نواب شاہ کے علاقے سانگھڑ روڈ کے رہائشی ہیں ڈاکوؤں کے ساتھ رابطے میں آئے۔اس دوران انہوں نےایس ایس پی نواب شاہ، رائے اعجاز احمد سے رابطہ کیا،جنہوں نے ڈی ایس پی سٹی، محمد ایوب درس کومغوی کی رہائی کے لیے اہل خانہ کی مدد کرنے کے احکامات جاری کیے۔ 

پولیس نے ڈاکوؤں کی مغوی کے اہل خانہ سے فون پر بات چیت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا اور جدید ٹریکنگ سسٹم کے تحت ڈاکوؤں کی لوکیشن کا سراغ لگا کر ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔ پندرہ روز تک جاری اس بات چیت کے نتیجے میں ڈاکوؤں کو دوکروڑ روپے کے بجائے چالیس لاکھ روپے تاوان کے عوض غلام مصطفیٰ جویو کی رہائی کا معاملہ طے ہوا۔ تاہم ڈاکوؤں نے یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنے ساتھیوں کو نواب شاہ بھیجیں گے جوغلام مصطفیٰ کے اہل خانہ سے چالیس لاکھ روپے کی رقم وصول کرنے کے بعدمغوی غلام مصطفیٰ کوان کے حوالے کردیں گے۔اغواء کاروں نے اس سلسلے میں غلام مصطفیٰ کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں گے ، عدم ادائیگی کی صورت میں غلام مصطفیٰ کو قتل کردیں گے۔

غلام مصطفیٰ کے بھائی اور خاندان کےدیگر افراد نے تاوان کی رقم پوری کرنے کے لیےچندہ جمع کرناشروع کیا۔ جب چالیس لاکھ روپے کی رقم جمع ہوگئی تو انہوں نے ڈاکوؤں کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی اس کی اطلاع کردی۔ ڈی ایس پی سٹی محمد ایوب درس جن کے لئے یہ ٹیسٹ کیس تھا، انہوں نے ایک جانب شہداد پور کے نواحی گاؤں میں ڈاکوؤں کے ٹھکانے کی نگرانی کی حکمت عملی طے کی جب کہ دوسری جانب مغوی کے اہل خانہ کو اعتماد میں لیا کہ وہ ڈاکوؤں کو گھر بلاکر ان کو تاوان کی رقم دے دیں اور جوں ہی ڈاکورقم لے کر واپس ہوں، پولیس چھاپہ مار کر، انہیں رقم سمیت گرفتار کرلے گی۔

پولیس کی حکمت عملی کے مطابق اسی دوران پولیس کی دوسری پارٹی، شہدادپور کے گاؤں میںواقع غوا کاروں کے اڈے پرخفیہ آپریشن کرکے مغوی کوبازیاب کرالے گی۔منصوبے کے مطابق ڈاکو تاوان کی رقم لینے مغوی کے گھر پہنچے اور ان کے اہل خانہ نے انہیں چالیس لاکھ روپے کی رقم ادا کردی ۔ جوں ہی ڈاکو یہ رقم لے کر سے نکلے، اطراف میں چھپے ہوئے پولیس اہل کاروں نے انہیں گھیرلیا لیکن ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کردی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میںایک ملزم، گل شیر ڈاہری جس کے پاس تاوان کی چالیس لاکھ روپے کی رقم تھی ،زخمی ہوگیاجب کہ اس کے دیگر ساتھی پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہونے میںکامیاب ہوگئے۔

ڈی ایس پی محمد ایوب درس کے مطابق اسی دوران میںپولیس کی دوسری پارٹی نے شہداد پور کے نواحی گاؤں میںروپوش ڈاکوؤں کے ٹھکانے پر کارروائی کردی، تاہم ڈاکوؤں نے خطر ے کو بھانپ کر مغوی غلام مصطفی کو سعید آباد چھوڑ دیا اور فرار ہوگئے جسے بعد ازاں بازیاب کرالیا گیا۔رہائی کے بعد مغوی غلام مصطفیٰ جویو نے پولیس اور اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ڈاکوؤں نے مجھے کروڑوں روپے کی بزنس مارکیٹنگ کاجھانسہ دے کر شہدادپور بلایا تھا اور انہیں قید کرلیا۔ نواب شاہ پولیس نے جس طرح ہماری مدد کی اور بلاتاوان مجھے بہ حفاظت رہا کرایا اس پرمحکمہ پولیس خراج تحسین کا مستحق ہے۔

ڈی ایس پی محمد ایوب درس جن کی حال ہی میں نواب شاہ میں تعیناتی ہوئی ہے، انہوں نے نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی میں پولیس کے ساتھ ساتھ مغوی کے اہل خانہ کا بھی کردار ہے جنہوں نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئےاغواکاروں کے خلاف کارروائی میں ہم سے تعاون کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے منصوبے کی کامیابی اور مغوی تاجر کی بہ حفاظت بازیابی کا امکان صرف پچاس فی صد تھا، لیکن اس کے اہل خانہ نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ہمارے منصوبے میں ہر طرح کی معاونت فراہم کی۔انہوں نے کہا اگر لوگ اسی طرح جرائم کے خاتمے اورمجرموں کی بیخ کنی میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں تو معاشرے سےجرائم کا خاتمہ اور مجرموں کا قلع قمع ممکن ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں