آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ٹینس کا کھیل انتہائی دگرگوں صورتحال سے دوچار ہے، مختلف ادوار میں کئی بااثر افراد پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سربراہ بنے لیکن کھیل کی ترقی کیلئے کوئی قابل ذکر کردارا ادا نہیں کرسکے۔ ماضی میں پاکستان میں ٹینس کے کئی اچھے کھلاڑی سامنے آئے جنہوں نے ملک کا نام عالمی سطح پر بلند کیا تھا لیکن ان کے بعد کھیل وہ ترقی حاصل نہیں کرسکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ ٹینس فٹ بال کے بعد دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور سب سے زیادہ کھیلا جاتا ہے، دنیا میں ٹینس کے انٹرنیشنل ایونٹس کا آغاز پورے سال جاری رہتا ہے لیکن پاکستان میں ٹینس کا کھیل سال میں صرف چند مہینے ہی جاری رہتا ہے اور وہاں بھی اتنی سرگرمی نہیں ہوتی کہ کھیل سے نوعمر بچے متاثر ہوں اور اس کھیل کو اپنا مستقبل بنائے۔ پاکستان میں یہ کھیل چند آرگنائزرز کی دسترس میں ہے جو اپنی مرضی سے اسپانسر پکڑ کر کھیل کے نام پر محض ایک شو منعقد کرتے ہیں جن میں وہی پرانے چہرے جو برسوں سے کورٹس آرہے ہوتے ہیں نظر آتے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال عقیل خان ہیں۔ عقیل خان گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی ٹینس پر چھائے رہے ہیں اور اب بھی ملکی ٹورنامنٹس میں نوجوان کھلاڑی نہ ہونے پر وہی ایونٹس کے فاتح رہتے ہیں۔ پاکستان میں اگر اسکولوں میں طالبات اور طلباء میں ٹینس کی تربیت کا سلسلہ شروع کردیاجائے تو پاکستان ٹینس کے میدان میں نام پیدا کرسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے بعض پرائیویٹ اسکول جو ماہانہ کئی کئی ہزار روپے بطور فیس تو وصول کرتے ہیں ان اسکولوں میں نہ تو ان ڈورگیمز اور نہ ہی ٹینس ‘کرکٹ‘فٹبال جیسے کھیلوں کے مواقع موجود ہیں بنگلوں میں اسکول قائم ہیں جس کی وجہ سے طلباء و طالبات اسپورٹس سے بہت دور ہوچکے ہیں۔

پاکستانی ٹینس میں آئی ٹی ایف لیول ٹو کوچ ہیں اس لیول میں پاکستان کے تین کوچز ہیں جن میں نمیر شمسی کا نمبر ون ہے انہوں نے کورس میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ اس وقت کراچی میں دو مختلف اکیڈمیز کو چلا رہے جن میں کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی کوچنگ دی جارہی ہے۔ نمیر شمسی جو بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی ہیں اور وہ کئی انٹرنیشنل اوپن ٹینس چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ جونیئر ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ میں حصہ لے چکے ہیں۔ نمیرشمسی اپنی اکیڈمیز میں مختلف عمر کے بچوں کو 2 سال سے ٹینس کی تربیت دے رہے ہیں۔ جنگ سے باتیں کرتے ہوئے نمیر شمسی کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹینس کیلئے اچھے کھلاڑی پروڈیوس کرسکتا ہے یہاں کے بچوں میں ٹینس کی ضرورت کے مطابق فٹنس کی صلاحیت موجود ہے اگر 4 سے 6 سال بچے اس کھیل میں حصہ لیں اوران کی تربیت کے موقع فراہم کئے جائیں تو وطن کے یہ نونہال آئندہ چل کر ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں ٹینس کی ترقی اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے بارے میں نمیر شمسی کا کہنا ہے کہ میرے والد خالد شمسی نے ملکی اور عالمی ٹینس میں نام پیدا کرنے کیلئے بھرپور مواقع فراہم کئے اور میں نے محنت کرکے بین الاقوامی ٹورنامنٹس تک رسائی حاصل کی اور کئی ٹورنامنٹ بھی جیتے اب میں ان بچوں کو تربیت دے رہا ہوں امید ہے کہ ملک کو ہم اچھے کھلاڑی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے امریکا کی آگسٹا یونیورسٹی سے این سی اے اے کیا اور اس کے علاوہ وہاں ٹینس پروگرامز میں حصہ لیا۔ پاکستان کی ٹیم میں تین بار جونیئر لیول پر نمائندگی کی۔ 2008 سے 2011 تک قومی چیمپئن شپ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ کراچی کے ٹاپ رینکنگ کھلاڑی امین شفیع، ریان جواد، ابراہیم خان کو بھی میرے ساتھ ہیں اور ٹریننگ لے رہے ہیں۔ نمیر شمسی کا کہنا تھا کہ میری دو اکیڈمیوں میں پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے چالیس بچے ٹریننگ لے رہے ہیں۔ ان میں سے دو کھلاڑی علی صاحبزادہ اور رضا سوانی امریکا پڑھائی کرنے چلے گئے ہیں جہاں وہ ٹینس کی بھی باقاعدہ ٹریننگ لے رہے ہیں۔ یہ کھلاڑی جونیئرز انڈر 18 کے پاکستان کے ٹاپ کھلاڑ ہیں۔ نیشنل سیلنگ سینٹر اور بیچ ویو کلب میں میری اکیڈمیاں ہیں جنہیں میں چلا رہا ہوں پاکستانی ٹینس کے بارے میں ایک تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ یہاں ہمارے کھلاڑی گھنٹے دو گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں دیتے جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کھیل پر گرپ نہیں رہتی۔ اس کھیل پر مکمل عبور کیلئے ایک دن میں کم از کم پانچ گھنٹے کھیل کو دینے پڑتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں نمیر شمسی کا کہنا تھاکہ دنیا بھر میں کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور وہاں کی حکومتی کروڑوں روپے کھیلوں کیلئے فنڈز میں مختص کرتی ہیں لیکن پاکستان میں کھیلوں پر کوئی توجہ نہیں ہے، حکومت کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اب تو عمران خان جو خود بھی بڑے اسپورٹس مین رہ چکے ہیں ان کی حکومت ہے انہیں چاہئے کہ کھیلوں کی پروموشن پر توجہ دیں تاکہ اس ملک میں جو ذہین کھلاڑیوں کا خزانہ ہے وہ سامنے آئے۔ انہیں دنیا کے مقبول کھیل ٹینس پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں