آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر تم ہمیں بڑھاپے کے حال میں دیکھو،اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو،مشکل ماہ و سال میں دیکھو،صبر کا دامن تھامے رکھنا،کڑوا ہے یہ گھونٹ۔ "اُف" نہ کہنا، غصے کا اظہار نہ کرناہمارے دل پر وار نہ کرنا:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

ہاتھ ہمارے گر کمزوری سے کانپ اٹھیںاور کھاناہم پر گر جائے توہمیں نفرت سے مت تکنا، لہجے کو بےزار نہ کرنا،بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھاتھا،جب تم کھاناہمارے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے،ہم تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتے تھے:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

کپڑوں کی تبدیلی میں دیر لگا دیں یا تھک جائیں توہمیں سُست اور کاہل کہہ کر، ہمیں مزیدبیمار نہ کرنا!بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتے تھے،اک اک دن میں دس دس بار بدلواتے تھے:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

ہمارے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں،ہمارا ہاتھ پکڑ لینا تم، تیز اپنی رفتار نہ کرنا!بھول نہ جانا، ہماری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا،ہماری بانہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

جب ہم باتیں کرتے کرتے رُک جائیں ، خود کو دھرائیں،ٹوٹا ربط پکڑ نہ پائیں،یادِ ماضی میں کھو جائیں، آسانی سے سمجھ نہ پائیں! ہمیں نرمی سے سمجھانا،ہم سے مت بے کار اُلجھنا،اُکتا کر، گھبرا کر ہمیں ڈانٹ نہ دینا،دل کے کانچ کو پتھر مار کےکرچی کرچی بانٹ نہ دینا،بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے،ایک کہانی سو سو بار سنا کرتے تھےاور ہم کتنی چاہت سے ہر بار سنایا کرتے تھےجو کچھ دھرانے کو کہتے، ہم دھرایا کرتے تھے:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

اگر نہانے میں ہم سے سُستی ہو جائے،ہمیں شرمندہ مت کرنا، یہ نہ کہنا آپ سے کتنی بُو آتی ہے! بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے اور نہانے سے چڑتے تھے،تمہیں نہلانے کی خاطر چڑیا گھر لے جانے میں تم سے وعدہ کرتے تھے،کیسے کیسے حیلوں سے تمہیں آمادہ کرتے تھے:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

اگر ہم جلدی سمجھ نہ پائیں، وقت سے کچھ پیچھے رہ جائیں،ہم پر حیرت سے مت ہنسنا، اور کوئی فقرہ نہ کسنا،ہمیں کچھ مہلت دے دینا،شاید ہم کچھ سیکھ سکیں ،بھول نہ جا،نا ہم نے برسوں محنت کر کے تمہیں کیا کیا سکھلایا تھا۔کھانا پینا، چلنا پھرنا، ملنا جلنا، لکھنا پڑھنااور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اس دنیا میں آگے بڑھنا:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

ہماری کھانسی سُن کر گر تم سوتے سوتے جاگ اٹھو توہمیں تم جھڑکی نہ دینا،یہ نہ کہنا، جانے دن بھر کیا کیا کھاتے رہتے ہیںاور راتوں کو کُھوں کھوں کر کے شور مچاتے رہتے ہیں۔ بھول نہ جانا ہم نے کتنی لمبی راتیںتمہیں اپنی گود میں لے کرٹہل ٹہل کر کاٹی ہیں:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

اگر ہم کھانا نہ کھائیں تو تم ہمیں مجبور نہ کرنا،جس شے کو جی چاہے ہمارا، اسے ہم سے دور نہ کرنا،پرہیز کی آڑ میں ہر پل ہمارا دل رنجور نہ کرناکس کا فرض ہے، ہمیں یاد رکھنااس بارے میں اک دوجے سےبحث نہ کرنا۔ آپس میں بے کار نہ لڑنا،جس کی کچھ مجبوری ہو، اس پر الزام نہ دھرنا:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

اگر ہم اک دن کہہ دیں، اب جینے کی چاہ نہیں ہے،یوںہی بوجھ بنے بیٹھے ہیں، کوئی بھی ہمراہ نہیں ہے،تم ہم پر ناراض نہ ہونا،جیون کا یہ راز سمجھنا،برسوں جیتے جیتے آخر ایسے دن بھی آ جاتے ہیں،جب جیون کی روح تو رخصت ہو جاتی ہے،سانس کی ڈوری رہ جاتی ہے،شائد کل تم جان سکو گے، اور ہمیں پہچان سکو گے،گرچہ جیون کی اس دوڑ میں، ہم نے سب کچھ ہار دیا ہےلیکن، ہمارے دامن میں جو کچھ تھا تم پر وار دیا ہے،تم کو سچا پیار دیا ہے:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

جب ہم مر جائیں تو ہمیں ہمارے پیارے رب کی جانب چپکے سے سرکا دینااور، دعا کی خاطرہاتھ اُٹھا دینا:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

ہمارے پیارے رب سے کہنا،رحم ہمارے والدین پر کر دے،جیسے انہوں نے بچپن میںہم کمزوروں پر رحم کیا تھا:رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

بھول نہ جانا، میرے بچوں، جب تک ہم میں جان تھی ،باقی خون رگوں میں دوڑ رہا تھا۔دل سینے میں دھڑک رہا تھا،خیر تمہاری مانگی ہم نے،ہمارا ہر اک سانس دعا تھا: رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا • اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا "اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے" : رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں