آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس آف پاکستان کی اسپتال میں پی پی رہنما شرجیل میمن کے کمرے کا دورہ کرنے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔

چیف جسٹس آج کلفٹن میں واقع ضیاء الدین اسپتال پہنچے تو شرجیل میمن لگژری کمرے میں سو رہے تھے ، انہوں  نے وہاں  موجود ملازمین کو حکم دیا کہ لائٹیں آن کرو، شرجیل میمن کو اٹھائو تو وہ بغیرلاٹھی کے سہارے کمرے سے باہر نکلے۔

انہیں دیکھ کر چیف جسٹس نے کہا کہ شرجیل میمن میں چیف جسٹس پاکستان آپ کی خیریت معلوم کرنے آیا ہوں،یہ ہے آپ کی سب جیل، سب جیل اسے کہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ تومکمل صحت مند لگ رہے ہیں،انہیں یہاں سے فوری طور پر کراچی سینٹرل جیل منتقل کریں۔

شراب کی بوتلیں دیکھیں تو شرجیل میمن سے استفسارکیا کہ یہ کیا ہے ؟تو جواب ملا کہ یہ میری نہیں ہیں۔

شرجیل میمن کے کمرے میں دو بوتلیں ڈبے میں اور ایک شراب کی خالی بوتل ڈبے کے اوپر رکھی ہوئی تھی تاہم چیف جسٹس کے ساتھ موجود سپریم کورٹ کے عملے نے ایک بوتل کو سونگھ کر چیک کیا اور بتایا کہ اس میں سے تو شراب کی بو آرہی ہے۔

اس سے قبل صبح سویرے آئی جی جیل نے وی آئی پی قیدیوں کے اسپتال میں داخلے پر چیف جسٹس کو بریفنگ دی تھی۔

آئی جی جیل خانہ جات کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ شرجیل میمن ضیا ء الدین، انور مجید این آئی سی وی ڈی،عبدالغنی مجید جناح اسپتال میں داخل ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے آئی جی جیل خانہ جات سے استفسارکیا تھا کہ کیا واقعی یہ ملزمان ان ہی اسپتالوں میں موجود ہیں؟

اس پر آئی جی جیل نے چیف جسٹس کو بتایا کہ جی بالکل، یہ ملزمان ان ہی اسپتالوں میں ہیں جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ گاڑی تیار کرواور شرجیل میمن سے ملنے اسپتال پہنچے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں