آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس ترقی یافتہ دور میں سائنس داں ایسی چیزیں لوگوں کے سامنے لا رہے ہیں ،جن کو جان کر لوگ حیرانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ خفیہ خانوں میں چھپائے گئے آتشیں مواد ،اسلحے اور بموں کو وائی فائی سگنلز کے ذریعے بآسانی ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔اس کی خاص با ت یہ ہے کہ اس میں لاگت بھی کم آتی ہے ۔کینیڈا میں قائم رٹگرزیونیورسٹی آف نیو برونس وِک کے انجینئروں نے ایک تحقیق پیش کی ،جس میں وائی فائی کے ذریعے سفری سوٹ کیس اور ڈبوں میں خفیہ طور چھپائے گئے آتشیں مواد کو پکڑنے کا نظام متعارف کر وایا گیا تھا ۔ماہرین کے مطابق خطر ناک مواد زیادہ تر دھات اور مائع پر مشتمل ہوتے ہیں اور ایسے مواد کو خاص طور پر تیار کیے گئے کاغذوں اور فائبر کے خانوں میں چھپایا جا تا ہے ،تا کہ مواد آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔ وائی فائی کی لہریں ان دھاتوں سے بآسانی گز ر جاتی ہیں ۔ماہرین کی جانب سے اس نظام کو ’’وائی فائی ویپن ڈٹیکشن سسٹم ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ،اس کو 15 سے زائد دھاتوں اور مادّوں پر استعما ل کیا گیا ہے ۔اس نظام نے بیگز میں چھپے خطر ناک مواس کا 99 فی صد صحیح پتا لگا یا تھا ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کو ہوائی اڈوں کے امیگریشن کائونٹرز پر نصب کیا جا ئے گا ۔اُمید ہے کہ بہت جلد لوگ اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں گے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں