آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف کی حکومت کے تحت اکنامک کوآرڈی نیشن کونسل کے پہلے ہی اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن نے گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں180فیصد اورکمرشل، انڈسٹریل اور پاور سیکٹر کے لئے30فیصد اضافے کی سمری پیش کر دی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پچھلی حکومت نے 5سال میں گیس کے نرخوں میں ایک بار بھی اضافہ نہیں کیا جس سے آئل اینڈ گیس سیکٹر خصوصاً گیس کمپنیوں کو شدید مالی نقصانات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے توانائی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کی زیر قیادت اعلیٰ حکام نے منگل کو ہونے والی ایک ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کو گیس کے نرخ بڑھانے کے علاوہ اس تلخ حقیقت سے بھی آگاہ کیا کہ اس وقت50ارب روپے کی گیس سالانہ چوری ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے گیس چوری روکنے کے لئے حکام کو جامع منصوبہ تیارکرنے کی ہدایت کی تاہم قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتیں بڑھانے کی جو تجویز دی ہے یقیناً اس کا کوئی معقول جواز ہو گا مگر گھریلو صارفین کے لئے گیس کے نرخوں میں یک لخت تین گنا اضافہ مہنگائی کے مارے ہوئے صارفین کے لئے انتہائی پریشان کن ہے، یہی بات صنعتی و تجارتی شعبے کے لئے بھی کہی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کی ساکھ بھی اس غیر معقول اضافے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ

حکومت ایران اور وسط ایشیائی ممالک سے گیس کے حصول کے معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنا کر اور اندرون ملک گیس کے مزید ذخائر تلاش کر کے صارفین کے لئے گیس کی فراہمی یقینی بنائے اور قیمتوں میں اضافہ نہ کرے۔ اگر اضافہ ناگزیر ہے تو بھی اتنا رد وبدل کرے جو عام لوگوں کی استطاعت کے مطابق ہو۔ نئی حکومت پہلے ہی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر چکی ہے گیس کے نرخ بھی بہت زیادہ بڑھا دیئے گئے تو عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور ان میں بے چینی پھیل جائے گی۔ نرخ بڑھانے سے زیادہ ضرورت گیس کی چوری روکنے کی ہے حکومت اس مسئلے پر زیادہ توجہ دے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں