• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد ہائیکورٹ ، وکلاءکو فٹ بال گراؤنڈ پر قبضہ ختم کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکلاءکو فٹ بال گراؤنڈ پر قبضہ ختم کرنے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دیدی ہے جبکہ سی ڈی اے حکام اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو رہائشی علاقوں میں قائم میڈیا ہاؤسز کو کمرشل ایریاز میں منتقل کر کے دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوران سماعت رہائشی علاقوں میں قائم میڈیا ہاؤسز بول نیوز اینڈ انٹرٹینمنٹ ، نیو نیوز ، اے آر وائی میڈیا کمیونیکیشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، کمیونیکیشن ریسرچ سٹریٹجیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، افغان ٹی وی ، کیپٹل ٹی وی ، ایسوسی ایٹیڈ پریس اور روزنامہ جہان پاکستان کو کمرشل ایریاز میں منتقلی کیلئے دی گئی مہلت سے 40 روز زائد گزرنے پر عدم عملدرآمد پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ یہ اقدام عدلیہ کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ فاضل جسٹس نے سی ڈی اے حکام کی جانب سے دو ہفتوں کی مہلت کی استدعا منظور کر لی۔ گزشتہ روز شہر بھر سے تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے موقع پر فٹ بال گراؤنڈ میں وکلاءچیمبرز کی تعمیر کے حوالے سے وکلاءنمائندگان پیش ہوئے اور عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ فٹ بال گراؤنڈ میں وکلاءکی جانب سے تجاوزات کا اقدام غیر آئینی ، غیر قانونی اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ کرکے تین تین منزلہ عمارتیں تعمیر کر لی گئیں ، عدالت نے بہت پہلے بھی فٹ بال گراو¿نڈ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ فاضل جسٹس نے ایک خاتون وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے بھی قبضہ کیا ہوا ہے ، آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا کیونکہ آپ نائب صدر ہیں۔ اس پر خاتون وکیل نے کہا کہ 2013 میں کیبنٹ نے باقاعدہ مجھے زمین الاٹ کی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیبنٹ کون ہوتی ہے جگہ الاٹ کرنے والی؟ صدر ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ ہماری مجبوری ہے کیونکہ ہمارے پاس جگہ کی کمی ہے ، عدالت ہماری مشکلات کا ازالہ کرے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے غیرقانونی تعمیرات کرکے کرائے پر دے رکھی ہیں۔ صدر ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ عدالت ہمیں متبادل جگہ دے تو ہم فٹ بال گراو&ٔنڈ خالی کرنے کو تیار ہیں ، دیگر صوبائی حکومت کی طرح انتظامیہ ہمیں بھی جوڈیشل کمپلیکس بنا کر دے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیا وکلاءاور عام شہریوں کیلئے الگ قانون ہے؟ صدر ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ 1980ءسے ہم نے تعمیرات کی ہوئی ہیں ، اگر وکلاءچیمبرز غیرقانونی ہیں تو عدالتیں بھی غیرقانونی ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ایف ایٹ فٹ بال گراو¿نڈ ہر حال میں خالی ہو گا۔ صدر ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ شہر میں قبضہ تو صحافیوں نے بھی کیا ہوا ہے ، سی ڈی اے پریس کلب کے خلاف کارروائی نہیں کرتاکہ ان کے خلاف خبریں لگ جائیں گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہم نے رہائشی علاقوں میں قائم مختلف میڈیا ہاؤسز کو نوٹس جاری کئے ، کچھ نے جگہ بھی خالی کر دی ہے۔ سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ہم پریس کلب کے خلاف بھی آپریشن کریں گے۔ انہوں نے عدالتی استفار پر بتایا کہ تاحال دو نجی ٹی وی چینلز کی طرف سے دفاتر رہائشی علاقوں سے منتقل نہیں کئے گئے۔ اس پر عدالت نے ڈی سی اسلام آباد کو آج (پیر کو) ہی دونوں نجی چینلز سمیت خلاف ورزی کے مرتکب تمام ٹی وی چینلز کے خلاف آپریشن کا حکم دیدیا۔ اس موقع پر اے آر وائی اور بول چینلز کے نمائندوں نے عدالت سے دو ماہ کی مہلت کی استدعا کی جو فاضل جسٹس نے مسترد کر دی۔ بعد ازاں اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے حکام کی استدعا پر عدالت نے دو ہفتوں کی مہلت دیدی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں فرق نہیں پڑتا کہ کونسا چینل آبپارہ یا راول ڈیم سے سگنل لیتاہے۔ وکلاءنمائندگان نے فٹ گراؤنڈ سے تجاوزات کے خاتمہ کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت طلب کی جو فاضل جج نے منظور کر لی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ امید ہے وکلاءاز خود اس معاملے کو حل کر لیں گے۔ دوران سماعت سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انجینئر عشرت تاج وارثی کے انتقال کے باعث فہیم بادشاہ کو ڈائریکٹر انفورسمنٹ سی ڈی اے تعینات کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ڈائریکٹر انفورسمنٹ سی ڈی اے فہیم بادشاہ سے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق تازہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ دریں اثناء سی ڈی اے نے بول ، اے آر وائی اور کیپٹل ٹی وی کے دفاتر کو ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے سیل کر دیا۔ جس پر اے آر وائی کے بیورو چیف صابر شاکر اور بول ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز سمیع ابراہیم نے فوری طور پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاءبندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے شام چھ بجے کی اور اے آر وائی اور بول ٹی وی چینل کے دفاتر ڈی سیل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔

تازہ ترین