آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خصوصی تحریر… ڈاکٹر طاہر رضا بخاری
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کے مزارِ اقدس کے قدموں کی طرف واقع دروازے کو’’بہشتی دروازہ کہا جاتا ہے ، جو آپ کے سالانہ عرس کے موقع پر 5تا 10 محرم الحرام کو روزانہ بوقت عشاء کھلتا اور قبل از نمازِ فجر بند ہوتا ہے۔ گزشتہ سال یعنی آپؒ کے 974ویں سالانہ عرس پر ان پانچ راتوں میں تقریباً چار لاکھ تریپن ہزار زائرین نے اس دروازے سے گزرنے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے وصال کے بعد آپ کے خلیفہ خاص اور جانشین حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء حفاظ کی ایک جماعت کے ساتھ دہلی سے پاکپتن حاضر ہوئے اور آپ کے موجودہ حجرہ مزار کی تعمیر اپنی نگرانی میں کرائی۔ حجرہ شریف کی ایک ایک اینٹ پر قرآن پاک پڑھا گیا جبکہ وقتِ تعمیر مزدور اور مستری باوضو ہو کر یہ فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ اس حجرے کی تکمیل پر حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے جن خصوصی انواروتجلیات کا نظارہ کیا اور جو فرمانِ ذیشان انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانِ فیض ترجمان سے سُنا، اُسی کی روشنی میں قدموں کی سمت کا یہ ’’بہشتی دروازہ‘‘مقام رفیع کا حامل ہوگیا، جس پر آج بھی یہ الفاظ درج ہیںترجمعہ: جو اس دروازے میں داخل ہوگا امان پا جائے گا۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر نے برصغیر میں

طریقت وشریعت کے سرخیل اور امام ہونے کے ناطے، اﷲ تعالیٰ کی واحدانیت ، نبی اکرم ﷺ کی رسالت اور اسلام کی حقانیت کی ترویج کا فریضہ جس اخلاص، تندہی اور جانفشانی سے سرانجام دیا، اس کے سبب اس خطہ کے مسلمانوں کی گردنیں فرطِ عقیدت سے ہمیشہ حضرت بابا صاحبؒ کے سامنے خم رہیں گی ۔ آپ ؒنے انسان دوستی ، محبت، رواداری اور فقر و درویشی پر مبنی جو اسلوبِ حیات اور طرزِ زیست اپنایا، اس کی روشنی میں زندگی کا سفر طے کرنا ہی دراصل بہشتی اور جنتی ہونے کا ذریعہ ہے اور اسی عزم اور ولولے کے ساتھ، آپؒ کے عقیدت مند اس بہشتی دروازے سے گزرتے ہیں اور گزرتے رہیں گے۔ اس دروازے کی قفل کشائی ابتدائی دو دنوں میں آٹھ بجے شب، جبکہ باقی تین دنوں میں نمازِ مغرب کے فوراً بعدعمل میں آتی ہے۔سجادہ نشین صاحب اپنے عقیدتمندوں کے ایک بڑے ہجوم میں رسومات کی ادائیگی کے لئے مزار شریف آتے ہیں۔ بالعموم ان کی یہ آمد ’’بوجوہ‘‘تاخیر کا شکار ہوجاتی ہے، جبکہ مزار شریف سے متصل بہشتی دروازے سے گزرنے والے زائرین سرِ شام ہی ایک طویل قطار میںدروازہ کھلنے کا انتظار کرتے ہیں،جو تقریباً 5کلومیٹر لمبی ہوتی ہے ۔قفل کشائی کی رسومات میں تاخیر بعض اوقاف حادثات کا باعث بھی بنتی ہے، جیسا کہ گزشتہ سال بھی ایک قیمتی جان کا ضیاع ہوا۔ گزشتہ تجربات کے پیشِ نظر ہر سال اس عمل کو بہتر بنانے کے لئے اوقاف، ضلعی انتظامیہ اور پولیس اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، جامع حکمت عملی اوربہترین منصوبہ بندی کرتے ہیں ، تاہم آخری تین دن کیونکہ سرکاری کنٹرول مستحکم ہوتا ہے، لہٰذا نمازِ مغرب کے فوراً بعد قفل کشائی کی رسم ادا کر دی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں زائرین بڑی سہولت کے ساتھ اس سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ چنانچہ گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے دو دن ایک لاکھ پینتیس ہزار جبکہ آخری تین دن میں تین لاکھ اٹھارہ ہزار زائرین نے اس موقع سے استفادہ کیا۔ وارفتگی اور خود سپردگی کے یہ مناظر اور عقیدت ومحبت کے یہ مظاہر دراصل اس لئے ہیں کہ برصغیر میں صوفیاء کرام نے محبت، انسان دوستی اوررواداری کا جو خوبصورت نظام مرتّب اورمدوّن کیا ،اور بالخصوص حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ نے اپنے حُسنِ عمل سے اُس کے نقش و نگار کو جس طرح اُجالا اُس کی روشنی رہتی دنیاتک انسانیت کو تابندگی اور رہنمائی عطا کرتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت بابا صاحب ؒ کو اتنا عروج، بلندی اورمقبولیت عطا کی کہ ہر وقت عقیدت مند پروانوں کی طرح آپؒ کے گرد جمع رہتے۔ رات گئے،خانقاہ کا دروازہ کھلا رہتا، اپنے پرائے، مسلم ،غیر مسلم یہاں تک کہ ہندو جوگی بھی خدمت میں حاضر ہوتے۔ بابا صاحبؒ ہر شخص کو اس کی صلاحیت، سمجھ اور ظرف کے مطابق فیض سے نوازتے،بالعموم ظہر کی نماز کے بعد حجرے کے دروازے عام مخلوق کے لئے کھلتے، سائلوں اور حاجت مندوں کا انبوہِ کثیر ہوتا۔ حضرت بابا صاحبؒ بلند آواز سے ارشاد فرماتے:" سنو! میرے پاس ایک ایک کرکے تسلی سے آئو ،تاکہ ہر ایک کو حسب ِ ضرورت توجہ دے سکوں۔ ’’مزید فرماتے‘‘:جب تک میرے حجرے کے باہر ایک بھی سائل بیٹھا ہے، مجھے عبادت میں لطف نہیں آتا‘‘شمالی ہندوستان میںآپ کی خانقاہ ’’بین المذاہب مکالمے‘‘کی اوّلین درسگاہ کے طور پر بھی تاریخ میں ہمیشہ محفوظ اور تابندہ رہے گی۔ آپؒ کے ’’جماعت خانے‘‘میں لنگر کے لئےبچھایا جانے والا دستر خوان رنگ و نسل اور طبقات کی تفریق کو مٹانے کا مؤثر ذریعہ اور خطہ کے بسنے والوں کیلئے محبت اور اخوت کا عالمگیر پیغام تھا۔آپ ؒ کے ساتھ ہندوئوں اورسکھوں کی عقیدت و محبت اپنی جگہ ایک مستقل باب ہے۔ 1973 میں حضرت بابا صاحبؒ کے آٹھ سو سالہ جشنِ ولادت پر دہلی، لکھنو اور اجمیر میں بڑی بڑی تقریبات کا اہتمام آپؒ کے فیضِ عام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں