آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 ٭پھولوں کا گلدستہ یعنی چہ؟

تقریبات میں جب مہمانوں کو گل دستہ پیش کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو اکثر نظامت کرنے والے اعلان کرتے ہیں کہ مہمان کو’’ پھولوں کاگُل دستہ ‘‘پیش کیا جائے گا۔حالانکہ گل دستہ کہنا کافی ہے کیونکہ گُل کا مطلب پھول ہی ہے ۔ گل دستہ اگر پھولوں کا نہیں ہوگا تو کیا پتھروں کا ہوگا؟ لیکن اب تو ٹی وی پر بھی کسی محفل کا حال بیان کرتے ہوئے یا ہوائی اڈے پر غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کی خبرنشر کرتے ہوئے خبریں پڑھنے والے بڑی سنجیدگی سے’’پھولوں کا گل دستہ‘‘ پیش کیے جانے کا اعلان کرتے ہیں، لیکن اسے سن کر ہمیں ہنسی آجاتی ہے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض لوگ ’’آب ِ زم زم کا پانی ‘‘ کہتے ہیں حالانکہ آب کا مطلب پانی ہی ہے ۔ یا تو آب ِ زم زم کہنا چاہیے یا زم زم کا پانی۔ اسی طرح ’’سنگ ِ مر مر کا پتھر ‘‘بھی سنا گیاہے لیکن اس میں بھی ایک لفظ اضافی ہے۔لفظ سنگ کا مطلب پتھر ہے لہٰذاسنگ ِ مر مر کہنا کافی ہے ۔ یا پھر مر مر کا پتھر کہہ سکتے ہیں ۔ ایسی ایک اور غلطی جو عام ہے وہ’’ فصلِ بہار کا موسم ‘‘ ہے۔اس ترکیب میں’’ فصل ‘‘کا مطلب موسم ہی ہے (فصل کے اور معنی بھی ہیں)۔گویا فصلِ بہار کہنا کافی ہے یاموسم ِبہار کہیے۔ بہار کا موسم بھی کہہ سکتے ہیں۔

پھولوں کا گل دستہ بولنا یا لکھنا تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے’’سونے کا طلائی تمغا‘‘یا ’’لب ِ دریا کے کنارے ‘‘۔ ظاہر ہے کہ طلائی کا مطلب ہی ہے سونے کا۔ دوسری ترکیب میں ’’ لب ‘‘کا لفظ کنارے ہی کے معنی میں آیا ہے۔ گویا صرف ’’گل دستہ ‘‘ کہنا کافی ہے۔’’پھولوں کاگل دستہ ‘‘مضحکہ خیز بات ہے۔

٭استفادہ حاصل کرنا ؟

بعض لوگوں کو بولتے سنا ہے ’’میں نے استفادہ حاصل کیا‘‘بلکہ اس طرح کہیں لکھا ہوا بھی نظر سے گزرا ہے۔ لفظ ’’استفادہ‘‘ کے معنی ہیں فائدہ اٹھانا، نفع حاصل کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ استفادہ کے لفظ میں حاصل کرنے کا مفہوم موجود ہے، اس لیے ’’استفادہ حاصل کیا ‘‘نہیں بولنا چاہیے۔ یہ کہنا کافی ہے کہ ’’میں نے استفادہ کیا‘‘۔

٭مکتب ِ فکر یا مکتبۂ فکر؟

مکتب عربی کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں درس و تدریس کا مقام، اسکول، مدرسہ۔مکتبہ بھی عربی کا لفظ ہے مگر اس کے معنی ہیں کتب خانہ یعنی لائبریری ( ہمارے ہاں کتابوں کی اشاعت و طباعت کے ادارے کو بھی مکتبہ کہا جاتا ہے)۔ لیکن اسکول کے معنی میں لفظ مکتب ہی مستعمل ہے۔اسی لیے انگریزی کی ترکیب اسکول آف تھاٹ (school of thought) کا اردو میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو اس میں مکتب کا لفظ آتا ہے یعنی مکتب ِ فکر۔ اسے مکتبۂ فکر لکھنا غلط ہے۔ اردو میں مکتب ِ فکر کی جمع بناتے ہوئے بھی بسا اوقات احتیاط نہیں کی جاتی اور اسے مکاتیب ِ فکر لکھا جاتا ہے حالانکہ’’ مکاتیب ‘‘تو مکتوب یعنی خط کی جمع ہے ۔ مکتب کی جمع مکاتِب ہے، گویا اس کے ہجے میں ’’ی‘‘ لکھنا غلط ہے۔ درست ترکیب ’’ی ‘‘ کے بغیر ہے یعنی مکاتب ِ فکراور واحد ہے مکتب ِ فکر۔ہاں البتہ خطو ط کی جمع کے مفہوم میں مکاتیب کا لفظ آسکتا ہے، جیسے علامہ اقبال کے خطوط کے ایک مجموعے کا عنوان ’’کلیات ِ مکاتیب ِ اقبال ‘‘ہے ۔ عنایت علی خاں صاحب کے ایک شعر میں مکتب ِ فکر کی ترکیب استعمال ہوئی ہے: مکتب ِ فکر ہے ،اسکول نہیں ہے صاحب قومیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

٭ناتا یا ناطہ ؟

ناتاعربی کا لفظ ہرگز نہیں ہے۔ اور طوے (ط ) عربی الفاظ ہی میں آسکتی ہے۔ ناتا خالصتاً مقامی لفظ ہے۔ اسے آپ دیسی لفظ یا ہندی یا اردو کا لفظ کہہ لیجیے۔لہٰذا اس کے املا میں ’’ط ‘‘ کا کوئی کام نہیں ۔اس کا درست املا ’’ناتا ‘‘ہے۔ اس کے مرکبات مثلاً رشتہ ناتا ، ناتا جوڑنا ،ناتاتوڑنا وغیرہ میں بھی ’’ت ‘‘ ہی لکھنا صحیح ہے۔

(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں