آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوبزنس کی دُنیا میں اداکاری کرنے والے سب ہی فن کار کہلاتےہیں، لیکن سپر اسٹار اور ہردل عزیز شخصیت کوئی کوئی ہی بنتا ہے۔ٹیلی ویژن پر ڈراموں میں کام کرنے والے کچھ فن کار ایسے ہیں، جو اپنے خدو خال، رکھ رکھائو، نشت و برخاست، منفرد انداز اور خوش گفتار ہونے کے باعث ہردل عزیز شخصیت بن گئے ہیں۔ ایسے فن کاروں کو ناظرین اسکرین پر تو پسند کرتے ہی ہیں، عام زندگی میں بھی اُن کی عزت کرتے ہیں ۔ فلموں اور ٹیلی ویژن کے منجھے ہوئے فن کار ایوب کھوسہ کا شمار ایسے ہی فن کاروں میں ہوتا ہے۔ اُن کے چہرے پر ایک دل چُھو لینے والی مسکراہٹ ہر وقت سجی رہتی ہے، جو کسی کا بھی دل جیت لیتی ہے۔ اُن کا فنی سفر بہت طویل ہے، انہوں نے خود کو نہ صرف بہ حیثیت اداکار منوایا، بلکہ ڈراما نگاری اور ہدایت کاری کے میدان میں بھی اپنی منفرد صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے زمانہء طالب علمی کے دوران شوبزنس کی دُنیا میں قدم رکھا۔ درجنوں ڈراما سیریل، ٹیلی فلمیں اور فیچر فلموں کے مختلف کرداروں میں حقیقت کے رنگ بھرے۔ 25جون 1960کو صوبہء بلوچستان کے شہر جعفرآباد میں پیدا ہونے والے ایوب کھوسہ کو کم عمری ہی سے اداکاری کا شوق تھا۔ کوئٹہ یونی ورسٹی سے کامرس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 15برس تک ایک نجی بینک میں ملازمت بھی کی۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے بہترین اداکار اور بہترین ڈراما نگار کے ایوارڈ زبھی وصول کیے۔ اُن کے مقبول ڈراموں میں چھائوں، بھنور، ناخدا، دروازہ، دشت، پنجرہ، سّسی، کشکول، باغی، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں، وغیرہ شامل ہیں، اس وقت بھی وہ ٹی این آئی پروڈکشن کی میگا سیریل سمیت کئی ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کئی فیچر فلموں میں عمدہ کردار ادا کیے، اُن میں جیو فلمز کی مشہور زمانہ فلم ’’خدا کے لیے‘‘ سلطنت، 021، ویلکم ٹو کراچی ہجرت، رویج آف دا ورتھ لیس،یلغار وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف کمپنیز کے ٹی وی کمرشل میں بھی کام کیا۔ گزشتہ دنوں ہم نے ایوب کھوسہ سے ان کی نجی و فنی زندگی کے بارے میں بات چیت کی، جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

مجھ سے بناوٹی ایکٹنگ بالکل نہیں ہوتی، ایوب کھوسہ
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

س: ملکی سیاست میں حصہ لینے کا تجربہ کیسا رہا؟

ایوب کھوسہ: میں ایسی سیاست کا حامی ہوں، جو سیاست برائےخدمت ہو۔ نیلسن منڈیلا جیسے لوگوں نے مثالی سیاست کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو سے بہت متاثر ہوں، میں نےحال ہی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے الیکشن بھی لڑا۔اپنے حلقے کے تمام علاقوں میں گیا، لوگوں نے بہت پیار دیا۔میں سیاسی میدان میں بہت آگے جانا چاہتا ہوں، تاکہ دُکھی انسانیت کی خدمت کرسکوں۔پیپلز پارٹی کی قیادت کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے الیکشن لڑنے کا موقع دیا۔

س: اداکاری کا شوق کب ہوا؟

ایوب کھوسہ: یہ اُس زمانےکی بات ہے، جب کوئٹہ ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔اسکول کے زمانے ہی میں مجھ میں اداکاری کے پَر نکل آئے تھے۔ معروف ٹی وی پروڈیوسر عبدالکریم بلوچ نے مجھے اداکاری کی پیش کش کی۔ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے شوبز میں اپنے کیرئیر کا آغاز لیڈنگ کریکٹر سےکیا۔ وہ ایک بلوچی زبان کا ڈراما تھا۔ معروف پروڈیوسر اقبال لطیف نے اردو ڈراما ’’وہ کون ہے‘‘ میں کام کرنے کا موقع دیا۔ اس ڈرامے میں کئی نامور فن کار کام کررہے تھے۔ اس کے بعد کام کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ کاظم پاشا کے مقبول ڈرامے ’’چھائوں‘‘ میں ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا جو خرافات میں مبتلاہوتا ہے۔ وہ بہت مقبول ہوا۔

س: آپ نے اس دروان بینک کی ملازمت بھی کی، وہ کیوں چھوڑی؟

ایوب کھوسہ: وہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ میں نے اپنے فن پر بھرپور توجہ دینے کے لیے وہ ملازمت چھوڑی تھی۔

س: اداکاری کے ساتھ ڈرامے لکھنے کا شوق کیسے ہوا؟

ایوب کھوسہ: مجھے لکھنے کی طرف شاہداقبال پاشا نے لگایا۔ میں نے ان کو ایک ڈرامے کی کہانی سنائی تو انہوں نے کہا ! یہ ڈراما تم خود ہی لکھو۔ میں نے ’’جانو‘‘ کے نام سے ڈراما لکھا تو اسے بہت پسند کیا گیا، اس میں لیڈنگ رول بھی میں نے خود کیا تھا۔ اس ڈرامے میں مجھے ’’بیسٹ رائٹر‘‘ کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی ملا۔ اس سے قبل مجھے بہ حیثیت اداکار کئی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا، لیکن مجھے پہلا ایوارڈ بہ حیثیت ڈرامانگار ملا۔اس کے بعد پی ٹی وی کی جانب سے بہترین اداکاری کا ایوار ڈ بھی حاصل کیا۔ تین چار ڈراما سیریل اور لکھ چکا ہوں۔ بہت جلد اسے حتمی شکل دے کر پروڈکشن شروع کروں گا۔ آج کل ایک فلم کی کہانی بھی لکھ رہا ہوں۔

س: ڈراموں کی ہدایت کاری بھی کی؟

ایوب کھوسہ: جی ہاں!! میں نے ڈائریکشن کے شعبے میں بھی کام کیا۔ جیو کے ڈرامے ’’سوکھے پتے‘‘ کی ڈائریکشن دی۔ یہ ڈراما پاکستان اور کینیڈا میں شوٹ کیا گیا تھا،فن کاروں میں عظمی گیلانی، فرح شاہ، سنیتا مارشل، سعود،نیلما حسن اور بھارت کے معروف اداکار سریش اوبرائے بھی شامل تھے۔ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرنا مشکل لگا، کیوں کہ فن کار تعاون نہیں کرتے۔ اس کے باوجود بھی میں نے اچھا رزلٹ دیا۔

س: شوبزنس میں کن فن کاروں سے زیادہ دوستی رہی؟

ایوب کھوسہ: سب ہی اچھے دوست ہیں، کیوں کہ میں نے کوئٹہ سینٹر سے زیادہ کام کیا ہے، لہٰذا میری اداکار حسام قاضی سے گہری دوستی تھی۔ ہم تقریباً 25برس ایک ساتھ رہے۔ پروڈیوسر طارق معراج سے بھی قریبی تعلقات رہے۔ کوئٹہ سے جمال شاہ، عبدالقادر، اسماعیل شاہ و دیگر نے بھی عمدہ کام کیا۔اب میں کراچی میں رہتا ہوں ،تو کراچی کے فن کاروں سے گہری دوستی ہے۔ذیشان خان، سلیم جاوید اوربابر عباسی اچھے دوست ہیں۔ میرے دو گھر ہیں، ایک کوئٹہ میں دوسرا کراچی میں، میرا سارا کام کراچی میں ہے۔ اس لیے زیادہ وقت یہیں رہتا ہوں۔ کراچی میں مجھے بہت پیار ملتا ہے۔ لوگ ملتے ہیں تو دعائیں دیتے ہیں۔ کئی برسوں سے کراچی میں رہ رہا ہوں۔

س: اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں؟

ایوب کھوسہ: میرے والدین نے میری بہترین تربیت کی۔ 1981میں میری شادی ہوئی۔ میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ چاروں بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔ دو بیٹے سرکاری ملازمت کررہے ہیں۔ بیٹی کی شادی کردی ہے، وہ اپنے گھر خوش ہے۔ چھوٹے بیٹے نے میڈیا سائنس پڑھی ہے۔ وہ شوبزنس میں دل چسپی رکھتا ہے۔ باقی بچوں کو اداکاری کا شوق نہیں ہے۔

س: شادی پسند کی تھی یا والدین کی مرضی سے؟

ایوب کھوسہ: والدہ کی پسند سے میری شادی فرسٹ کزن سے ہوئی۔

س: کیا وجہ ہے کہ اب تک شوبز میں آپ کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا؟

ایوب کھوسہ: ہمیشہ لڑکیوں سے بہت محتاط رہتا ہوں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور نماز مجھے ہر برائی سے دُور رکھتی ہے۔

س: مطالعے کی عادت ہے؟

ایوب کھوسہ: اسکول و کالج میں ڈگریاں حاصل کرنے سے انسان پڑھا لکھا نہیں ہوجاتا، جب تک اسے مطالعے کی عادت نہیں ہوگی، وہ پڑھا لکھا نہیں کہلائے گا۔ میں عالمی ادب پڑھتا ہوں اور سیاست پر جو کتابیں شائع ہوتی ہیں، وہ بھی میرے مطالعے میں رہتی ہیں۔

س: ڈائریکٹر کی جانب سے کوئی کردارملنے کے بعد آپ کی کیا تیاریاں ہوتی ہیں۔

ایوب کھوسہ: مجھے جو بھی کردار ملتا ہے، میں وہی بن کر سوچنے لگتا ہوں۔ ہرکردار میں ڈوب کر اداکاری کرتا ہوں۔ مجھ سے بناوٹی ایکٹنگ بالکل نہیں ہوپاتی۔

س: آپ کا عام زندگی میں جو گیٹ اپ ہے، وہی ڈراموں اور فلموں میں ہوتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

ایوب کھوسہ: ناظرین نے میرے نیچرل گیٹ اپ کو قبول کرلیا ہے۔ میں نے اپنا گیٹ اپ تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی،کلین شیو بھی ہوا، مونچھوں کے بغیر بھی ڈراموں میں کام کیا، لیکن ناطرین نے مجھے میرے لمبے بالوں کے ساتھ زیادہ پسند کیا۔

س: سماجی کاموں میں حصّہ لیتے ہیں؟

ایوب کھوسہ: زلزلے کے سلسلے میں ’’جھولی پھیلائو‘‘ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔

س: بلوچستان کے حالات اب کیسے ہیں؟

ایوب کھوسہ: بلوچستان کے لوگ اپنے وطن سے پیار کرتے ہیں۔ ہمارا کلچر ہزاروں سال پرانا ہے۔ بلوچوں کی سب سے بڑی کمزوری پیار ہے۔ وہ انصاف کے طالب ہیں۔

س: کوئی ایسا ایوارڈ، جسے حاصل کرنے کی خواہش ہو؟

ایوب کھوسہ: پاکستان کا خوب صورت چہرہ دکھا کرآسکر ایوارڈ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

س: ہم نے سُنا ہے کہ آپ کھانے بہت لذیز بناتے ہیں؟

ایوب کھوسہ: یہ میرا شوق ہے،اس سلسلے میں کئی مقابلے بھی جیت چکا ہوں۔ ایک مقابلے میں10 لاکھ روپے کا انعام بھی جیتا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں