اسلام آباد ہائی کورٹ اسلام آبادجوڈیشل ڈیپارٹمنٹ رٹ پٹیشن نمبر 2839/2018 میاں محمد نواز شریف (بنام) سٹیٹ بذریعہ چیئرمین قومی احتساب بیورو وغیرہ تواریخ سماعت :10-09-2018، 11-09-2018، 12-09-2018، 13-09-2018، 17-09-2018، 18-09-2018، اور 19-09-2018پٹیشنرز کی طرف سے :خواجہ حارث احمد ، مس عائشہ حامد ، محمد امجد پرویز ، محمد زبیر خالد ، محمد اورنگزیب ، شیر افگن اسدی ، ابراہیم ہارون اور منور اقبال ڈگل ایڈووکیٹ۔مدعا علیہان کی طرف سے : سپیشل پراسیکیوٹر نیب محمد اکرم قریشی ، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب رحیم بھروانہ ، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر احمد خان ، عمران شفیق ، اصغر اعوان ، عرفان احمد بولا ، اور زین اکرم ، وکلاء سپیشل پراسیکیوٹر پراسیکیوٹرز نیب۔-------------
تفصیلی فیصلہ:
جسٹس اطہر من اللہ (جج) : یہ حکم نامہ آئینی درخواست اور رٹ پٹیشن نمبر 2841/2018 کو نمٹائے گا۔ درخواستیں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ -2 ان درخواستوں کے ذریعے درخواست گزاروں نے اس عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت احتساب عدالت کے فیصلے کی معطلی مانگی ہے۔ احتساب عدالت نے تینوں درخواست گزاران کو 6 جولائی 2018ءکو سزائیں سنائی تھیں۔ مقدمے کا مختصر خلاصہ : -3 واقعات جو تینوں درخواست گزاران کی سزا پر منتج ہوئے ، اس کی ابتداءموزیک فانسیکا کی ان دستاویزات سے ہوئی جو اپریل 2016ءمیں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس نے شائع کئے۔ موزیک فانسیکا ایک نجی قانونی فرم ہے جس کا صدر دفتر پانامہ میں ہے۔ منظر عام پر آنیوالی دستاویزات میں درخواست گزاران میں سے ایک کا ذکر ہے۔ دستاویزات میں دی گئیں تفصیلات کے مطابق برٹش ورجن آئی لینڈ میں کچھ آف شور کمپنیاں بنائی گئیں۔ ایک درخواست گزار کے حوالے سے دو آف شور کمپنیوں نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن انٹر پرائزز لمیٹڈ کا ذکر آیا۔ پارک لین لندن برطانیہ میں واقع اپارٹمنٹس نمبر 16 ، 16A ، 17 اور 17A جو کہ عام طور پر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے نام سے جانے جاتے ہیں ، مذکورہ آف شور کمپنیوں کو بالترتیب یکم جون 1993ء، 23 جولائی 1996ءاور 31 جولائی 1995ءکو منتقل ہوئے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی گئیں جو کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184(3) کے تحت سنیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے تین اراکین نے اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس مقدمے کی تفصیلی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی۔ بنچ کے دو اراکین نے درخواست نمبر 1 (نواز شریف) کو عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا۔ مذکورہ فیصلہ عمران احمد خان نیازی بنام میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان رکن قومی اسمبلی ، وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد اور 9 دیگر کے عنوان سے پی ایل ڈی 2017ء ایس سی 265 میں رپورٹ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ بادی النظر میں نیب آرڈیننس 1999 کے تحت کیس بنتا ہے جس کا ٹرائل ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے درخواست گزار نمبر 1 (نواز شریف) کو عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیدیا جس پر وہ منتخب ہوئے تھے۔ مذکورہ فیصلہ عمران احمد خان نیازی بنام میاں محمد نواز شریف کے عنوان سے پی ایل ڈی 2017ءایس سی 692 میں رپورٹ ہوا ہے۔ اس فیصلے کے بعد قومی احتساب بیورو نے مدعیان کے خلاف ریفرنس نمبر 20/2017 ، 7 ستمبر 2017ءکو دائر کیا۔ ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ مدعیان سے نیب آرڈیننس کی دفعات 9(a)(iv)(v) اور (xii) کے تحت جرم سرزد ہوا ہے جس کی سزا نیب آرڈیننس 1999ءکی دفعہ 10 میں دی گئی ہے جس کو شیڈول میں سیریل نمبر 2 اور 3 کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے۔ اس ریفرنس میں نواز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو بھی بطور ملزم شامل کیا گیا۔ دونوں بیٹوں کو قانونی تقاضے پورا کرتے ہوئے اشتہاری قرار دیدیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے درخواست گزاران کے خلاف 19 اکتوبر 2017ءکو نیب آرڈیننس کی دفعات 9(a)(iv)(v) اور (xii) کے تحت فرد جرم عائد کی جس کی سزا نیب آرڈیننس 1999ءکی دفعہ 10 میں دی گئی ہے جس کو شیڈول میں سیریل نمبر 2 اور 3 کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے۔ نیب آرڈیننس 1999ءکے شیڈول کی دفعہ 3(a) بھی فرد جرم میں شامل کی گئی۔ مذکورہ دفعہ جعلی ٹرسٹ ڈِیڈ جمع کرانے کے حوالے سے شامل کی گئی۔ ٹرسٹ ڈِیڈ 2 فروری 2006ءکو تیار ہوئی جس کا عدالتی ریکارڈ نمبر (Ex.PW.14/2) ہے۔ احتساب عدالت نے 8 نومبر 2017ءکے آرڈر میں قرار دیا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 30 میں جعلی دستاویزات یا جعلی شہادت کے حوالے سے قانون وضع کیا گیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے قرار دیا کہ جعلی دستاویزات جمع کرانے کا جرم نیب ریفرنس میں شامل نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے فرد جرم سے نیب آرڈیننس کے شیڈول کی دفعہ 3(a) حذف کر دی اور 8 نومبر 2017ءکو از سر نو فرد جرم عائد کی۔ قومی احتساب بیورو نے 22 جنوری 2018ءکو ایک سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کیا۔ درخواست گزاران نے فرد جرم سے انکار کیا۔ قومی احتساب بیورو نے اس مقدمے میں 18 گواہ پیش کئے جبکہ درخواست گزاران نے عدالت میں حلف اٹھا کر بیان دینے سے گریز کیا۔ اس کے بعد ان کے بیانات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت قلمبند کئے گئے۔ احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا۔ درخواست گزاران کو نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(iv) کے تحت بری کر دیا گیا جبکہ 9(a)(v) کے تحت سزا سنائی گئی۔ ان کو سزا ان الفاظ میں سنائی گئی۔ ”ملزم میاں محمد نواز شریف کا جرم نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v)اور شیڈول کی شق 2 کے تحت ثابت ہوتا ہے جس کی سزا نیب آرڈیننس کی دفعہ 10 اور شیڈول کی شق 2 میں دی گئی ہے۔ اس لئے ملزم میاں محمد نواز شریف کو دس سال قید با مشقت اور 8 ملین پاؤنڈز کی سزا سنائی جاتی ہے۔ ملزم کو نیب شیڈول کی دفعہ 2 کے تحت ایک سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ دونوں سزاؤں کا اطلاق ایک ساتھ ہو گا۔“”ملزمہ مریم نواز کی جانب سے پیش کیا گیا ٹرسٹ ڈِیڈ جعلی تھا۔ ملزمہ مریم نواز اپنے والد میاں محمد نواز شریف کی دولت چھپانے میں آلہ کار تھی۔ مریم نواز اس سازش میں شریک تھی اور اس نے عوامی عہدیدار اپنے والد کے جرم میں اعانت کی۔ اس لئے استغاثہ نے مریم نواز کا جرم نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v)(xii) اور نیب شیڈول کی دفعہ 2 کے تحت ثابت کر دیا ہے جس کی سزا دفعہ 10 میں دی گئی ہے۔ مریم نواز کے مذکورہ کردار کے حوالے سے اس کو 7 سال قید با مشقت اور دو ملین پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔ مریم نواز کو نیب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 9(a)(v)(xii) کے تحت ایک سال کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ دونوں سزاؤں کا اطلاق ایک ساتھ ہو گا۔“”ملزم محمد صفدر نے ٹرسٹ ڈِیڈ پر دستخط کئے۔ اس طریقے سے اس نے میاں محمد نواز شریف اور مریم صفدر کے جرم میں اعانت کا ارتکاب کیا اور سا زش میں شریک ہوا۔ مذکورہ جرم نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v)(xii) کے تحت آتا ہے جو کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 10 اور شیڈول کی شق 2 کے تحت قابل سزا ہے۔ محمد صفدر کو سیکشن 9(a)(v)(xii) کے تحت ایک سال قید کی قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے۔“-4 درخواست گزاران نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نیب آرڈیننس کی دفعہ 32 کے تحت اپیلیں دائر کیں۔ یہاں اس بات کا ذکر مناسب ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق مزید دو ریفرنسز بھی دائر کئے گئے جو کہ احتساب عدالت کے پاس زیر التواءہیں۔ دونوں ریفرنسز روزانہ کی بنیاد پر سنے جا رہے ہیں تا کہ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مدت کے اندر فیصلہ ہو سکے۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے روبرو دائر کی گئیں جس میں اس اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کی۔ درخواست گزاران نے آئینی درخواستیں ڈویژن بنچ کے روبرو ایک ساتھ دائر کیں اور ڈویژن بنچ نے 17 جولائی 2018 کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کئے۔ بعد ازاں درخواستوں کی سماعت جولائی 2018ءکے آخری ہفتے میں مقرر کی گئی۔ ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کے وکلاءکی رضامندی کے ساتھ درخواستیں 13 اگست 2018ءتک ملتوی کر دی گئیں۔ 13 اگست 2018ءکو درخواستیں سماعت کیلئے مقرر ہوئیں اور دلائل سنے گئے۔ درخواستوں کی سماعت کے دوران ہمارے علم میں آیا کہ اپیلوں کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی گئی ہے۔ ہم نے 20 اگست 2018ءکے آرڈر کے تحت یہ مناسب سمجھا کہ اپیلوں پر فیصلے کو موخر کر دیا جائے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 32 کے تحت اپیلوں پر فیصلہ کرنے کیلئے وقت کا دورانیہ مقرر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاران نے متفرق درخواست 3485/2018 دائر کی جس میں موقف اپنایا کہ اپیلوں سے قبل آئینی درخواستوں پر سماعت کی جائے۔ ہمیں ان آئینی درخواستوں کے حوالے سے یقین تھا کہ ان میں دی گئی وجوہات معقول ہیں اور ان کی قابل قبول توجیہات ہیں۔ ہم اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ اپیلوں پر حتمی فیصلے سے احتساب عدالت میں زیر التواءمقدمات پر اثر پڑے گا۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہم نے متفرق درخواست 3485/2018 دس ستمبر 2018ءکو سماعت کیلئے منظور کر لی۔ اس حوالے سے ایک شیڈول ترتیب دیا گیا تا کہ دونوں طرف کے وکلاءکو دلائل دینے کیلئے معقول وقت مل سکے۔ اس کے بعد اپیلوں کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا گیا کہ ان کو باری باری سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔ درخواست گزار نمبر 1 (نواز شریف) کے وکیل کے دلائل :-5 درخواست گزار نمبر 1 (نواز شریف) کی نمائندگی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل خواجہ حارث احمد نے کی۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں احتساب عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا قانون کی نظر میں درست نہیں۔ احتساب عدالت کے فیصلے میں پائے جانیوالے نقائص بالکل ظاہر ہیں اور قلمبند کی گئی شہادتوں کے تناظر میں بھی واضح ہیں۔ احتساب عدالت کے فیصلے کو پڑھنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ درخواست گزار نمبر 1 (نواز شریف) کو غلط سزا دی گئی۔ نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر سزا دی گئی۔ اس حوالے سے استغاثہ نے جن اجزاءکو ثابت کرنا تھا وہ اس نے نہیں کئے۔ 1993ءاور 1996ءکے درمیان ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کس قیمت پر خریدے گئے نہیں بتایا گیا۔ قیمت خرید بتائے بغیر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا وہ ملزم کے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ تھے یا نہیں۔ استغاثہ نے اپنے فرائض صحیح طریقے سے ادا نہیں کئے۔ آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے مقدمات میں استغاثہ کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں۔ استغاثہ نہ تو مذکورہ جائیدادوں کی قیمت بتا سکا نہ ہی معلوم ذرائع آمدن۔ یہ دونوں شرائط پوری کئے بغیر بارِ ثبوت ملزمان پر نہیں آتا۔ استغاثہ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قیمت کے حوالے سے ذرا سا بھی اشارہ نہیں دیا۔ ٹرائل کورٹ نے جرح کے دوران استغاثہ کے گواہ نمبر 16 (واجد ضیاء) سے جب اس بارے میں سوال کیا تو وہ اپارٹمنٹس کی قیمت کے حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔ اس کے علاوہ بھی کوئی گواہ اس حوالے سے کوئی دستاویز پیش نہیں کر سکا لہٰذا جائیداد اور معلوم ذرائع آمدن میں تقابل ناممکن ہے۔ جائیداد کی قیمت اور معلوم ذرائع آمدن کا ذکر احتساب عدالت کے فیصلے میں بھی نہیں ہے اس لئے مذکورہ فیصلے میں سنجیدہ نوعیت کے قانونی نقائص پائے جاتے ہیں۔ آمدن سے زائد اثاثہ جات کا مقدمہ ثابت کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے خالد عزیز بنام سرکار (2011 ءایس سی ایم آر 136) ، غنی الرحمن بنام نیب (پی ایل ڈی 2011ءایس سی 1144) اور پیر مظہر الحق بنام نیب (پی ایل ڈی 2005ءایس سی 63) میں کچھ معیارات مقرر کئے ہیں۔ -6 درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے درخواست گزار نمبر 1 (نواز شریف) کے اثاثہ جات اور ان کے ذمے واجب الادا رقومات کے حوالے سے ایک چارٹ پیش کیا جس کا نمبر (Ex.P.W.18/13) ہے۔ مذکورہ چارٹ پر اسی وقت اعتراض کیا گیا جس کو ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ کا حصہ بنایا۔ اعتراض یہ تھا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے اپنے بیان میں ایسی کسی دستاویز کا ذکر نہیں کیا۔ واجد ضیاءنے ایسی کوئی دستاویزات اپنے بیان کے دوران عدالت میں پیش نہیں کیں۔ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ مذکورہ دستاویز کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں اور یہ دستاویز اس نے تیار نہیں کی۔ ٹرائل کورٹ نے مذکورہ دستاویز کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا اور کہا کہ اس پر فیصلہ بعد میں دیا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی احتساب عدالت کے فیصلے میں غلطی ہے۔ درخواست گزار نمبر 1 کے خلاف نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(iv) کے تحت فرد جرم عائد کی گئی جس میں کہا گیا کہ اس نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بدعنوانی اور غیر قانونی طریقے سے حاصل کئے۔ -7 درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کے خلاف ایک بھی ایسی شہادت پیش نہیں کی گئی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اس نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بدعنوانی اور غیر قانونی طریقے سے اپنے لئے یا اپنے زیر کفالت افراد کیلئے حاصل کئے ہوں۔ اس لئے احتساب عدالت نے درخواست گزار نمبر 1 اور دیگر کو اس جرم سے بری کر دیا۔ اس تناظر میں درخواست نمبر 1 کو نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v) کے تحت سزا نہیں سنائی جا سکتی تھی۔ اس حوالے سے احتساب عدالت نے اپنے فیصلے کے پیرا گراف نمبر 8 میں سپریم کورٹ کے غنی الرحمن کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔ نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v) ایک قانونی افسانہ ہے۔ جب درخواست گزاران کو 9(a)(iv) کے تحت بری کر دیا گیا تو ان کو 9(a)(v) کے تحت سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔ فرد جرم میں کہا گیا کہ تینوں ملزمان مذکورہ جائیداد کے مالکان ہیں جبکہ احتساب عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست نمبر 1 مالک ہے اس لئے اسے دفعہ 9(a)(v) کے تحت سزا سنائی جاتی ہے۔ یہ ماحصل (فائنڈنگ) قیاس آرائی پر مبنی ہے جس کیلئے کوئی دستاویزی یا زبانی شہادت پیش نہیں کی گئی۔ کوئی ایسی شہادت پیش نہیں کی گئی جس سے درخواست نمبر 1 کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت سے تعلق ثابت ہوتا ہو۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءاور تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے دوران جرح اس بات کو تسلیم کیا کہ انہوں نے اس طرح کی کوئی شہادت حاصل نہیں کی۔ -8 درخواست گزار نمبر 1 نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو موقف اپنایا تھا کہ اس کا مذکورہ جائیدادوں کے حصول سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کسی ایسی ترسیل زر کا حصہ ہے جس سے مذکورہ جائیدادیں خریدی گئیں۔ احتساب عدالت نے محض قیاس آرائی کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ درخواست گزار نمبر 1 کے بچے اس وقت اس کے زیر کفالت تھے۔ مذکورہ نتیجہ بغیر کسی ثبوت کے محض قیاس آرائی کی بنیاد پر اخذ کیا گیا۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ درخواست گزار نمبر 1 کے بچوں کے زیر کفالت ہونے کے حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے ٹرائل کورٹ میں بیان دیا تھا کہ حسن نوا زاور حسین نواز کے لندن میں قیام کے دوران ان کے تمام اخراجات ان کے دادا میاں محمد شریف اٹھاتے تھے۔ واجد ضیاءنے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ شریف خاندان کے افراد نے اس کو بیان دیا کہ میاں محمد شریف اپنی زندگی میں اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں میں پیسے اور کاروبار میں حصے تقسیم کیا کرتے تھے۔ واجد ضیاءنے واضح طور پر تسلیم کیا کہ جے آئی ٹی کے سامنے کوئی ایسا گواہ پیش نہیں ہوا جس نے کہا ہو کہ نواز شریف کے بچے اپنے روزمرہ اخراجات اور کاروبار کیلئے اپنے والد پر انحصار کرتے تھے۔ اس اعترافی بیان کا احتساب عدالت نے کہیں ذکر نہیں کیا۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت نواز شریف کا بیان قلمبند کرتے ہوئے عدالت نے نہیں پوچھا کہ آیا ان کے بچے ان کے زیر کفالت تھے یا نہیں۔ اس کے برعکس یہ سوال کیا گیا کہ آیا وہ ان کے بے نامی دار تھے یا نہیں۔ زیر کفالت اور بے نامی دار کا ذکر نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v) میں الگ الگ کیا گیا ہے۔ بے نامی دار کی تعریف میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس میں زیر کفالت افراد بھی شامل ہیں۔ درخواست گزار نمبر 1 کو نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(a)(v) کے تحت اس مفروضے پر سزا دی گئی کہ ان کے بچے مالی طور پر ان کے زیر کفالت تھے۔ نواز شریف کی سزا میں صرف اس مفروضے کو بنیاد بنایا گیا اور ان سے بچوں کے زیر کفالت ہونے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں مانگی گئی۔ نواز شریف کے وکیل نے اس سلسلے میں عبداللطیف بروہی بنام نیب (2014ءP.Cr.L.J,334) اور محمد شاہ بنام سرکار (2010ءایس سی ایم آر 1009) کے نظائر پیش کئے۔ گواہان میں سے صرف ایک گواہ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے جرح کے دوران بیان دیا کہ نواز شریف کے بچے ان کے بے نامی دار تھے جبکہ انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا کہ اس حوالے سے کوئی گواہ ان کے سامنے پیش نہیں ہوا اور کسی گواہ نے اس دعوے کو ثابت نہیں کیا۔-9 درخواست گزار نمبر 1 کے وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں نیب آرڈیننس کے شیڈول کی دفعہ 2 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیب کی جانب سے جاری ہونیوالے نوٹسز پر کوئی ملزم معلومات دینے کا پابند نہیں اس لئے نیب کے سامنے ملزمان کا پیش نہ ہونا کوئی جرم نہیں۔ نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھاکہ اس نے طلبی نوٹسز میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ملزمان کو بتایا گیا کہ اگر وہ پیش نہیں ہوئے تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ ملزمان نے طلبی نوٹس کا جواب دیا اور اس کے بعد ملزمان اور احتساب بیورو کے درمیان کوئی خط و کتابت نہیں ہوئی۔ اس لئے طلبی نوٹس پر پیش نہ ہونا کوئی جرم نہیں۔ نیب آرڈیننس 1999ءکی دفعہ 9(b) کے تحت بار کی تشریح سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں میں ملتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں قرار دیا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 9(b) کے باوجود آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت مناسب ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جن نظائر پر انحصار کیا گیا وہ یہ ہیں; محمد سعید مہدی بنام سرکار (2002 ، ایس سی ایم آر 282) ، عبدالعزیز خان نیازی بنام سرکار (پی ایل ڈی 2003 ایس سی 668) ، اولس خان بنام چیئرمین نیب (پی ایم ڈی 2018 ءایس سی 40) ، اور پیر مکرم الحق بنام نیب (2006ءایس سی ایم آر 1225) ، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 سے متعلق قانون و قاعدے کو سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک مقدمہ بعنوان صوبہ خان بنام سرکار (2016 ایس سی ایم آر 1325) میں نمایاں کیا ہے۔ اس حوالے سے مقدمہ بعنوان عبدالرحمن بنام سرکار (2008 ایس سی ایم آر 1381) پر بھی انحصار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے متذکرہ بالا مقدمہ بعنوان صوبہ خان میں قرار دیا ہے کہ اگر کیس بنتا ہے کہ تو رہائی کو روکنا نہیں چاہئے کیونکہ اگرحتمی طور پر اپیلیں منظور ہو جاتی ہیں تو ملزمان کو ازالہ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ 10۔ درخواست گزارنمبر2اور3کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے محمد امجدپرویز نےکہاکہ؛ مرکزی ملزم یعنی درخواست گزارنمبر1کےپاس ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت کے ثبوتوں کی غیرموجودگی میں سہولت کاری کا سوال ہی نہیں اٹھتا؛ درخواست نمبر2جن کانام مریم نواز ہےان کا جرم ثابت نہیں ہوااورنہ ہی مبینہ طورپرانھیں جعلی اورجھوٹے دستاویزات جمع کرانے پر مجرم قرار دیا جاسکتاتھاکیونکہ ٹرائل کورٹ نےشیڈول آف دی آرڈیننس 1999کے سیریل نمبر3(a)کےتحت جرم کو ختم کردیاتھا؛ شق 9(a)(vکے تحت کوئی کیس نہیں بنایاگیا؛ یہ کیس استغاثہ کاتھا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس 1993 سے 1996 کے درمیان حاصل کیےگئےتھےجبکہ مدعی نمبر2اور3 مجرم قرارپائے اور انھیں دستاویزمورخہ 02.02.2006کی بنا پر سزادی گئی؛ اس بات کاثبوت ریکارڈ پر نہیں ہے کہ مدعی نمبر2 نے کسی بھی طرح سے 1993اور1996کےدرمیان ایون فیلڈ اپارٹمنٹس حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ ٹرائل کورٹ کی جانب سےمدعی نمبر1کی مدد کرنے اور اکسانے سے متعلقہ ریکارڈکیےگئےشواہدقیاس آرائی، مورخہ 02.02.2006کی ٹرسٹ ڈیڈپرمبنی ہیں؛ نتیجتاًانھیں 1999کےآرڈیننس کی شق 30کےتحت سمری ٹرائل کےبعدجعلی اور جھوٹاقراردیاجاسکتا تھا، ایسانہیں کیاگیا؛ ٹرائل کورٹ نےیہ شواہدریکارڈکیےکہ 2006میں مدعی نمبر2ایوان فیلڈ اپارٹمنٹس کےبینیفشل اُئونرتھے؛ قیاس آرائی کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں ذکرکیا کہ کچھ دستاویزات 2006سےقبل ملکیت ظاہر کرتے ہیں لیکن کسی ایسے دستاویز کاحوالہ نہیں دیا؛ ایسے کسی دستاویز کا وجود ہی نہیں؛ مبینہ واقعےکاوقت 1993سے1996کےدرمیان کاہے؛ اور ، لہذا مورخہ 02.02.2006کی ٹرسٹ ڈیڈکی بنیادپر یہ نہیں کہاجاسکتاکہ مدعی نمبر2اور3نےکسی بھی طرح سےایوان فیلڈ اپارٹمنٹس حاصل کرنےمیں مدد کی ہے؛ کچھ تحفظات اور اعتراضات اٹھائے گئے تھےلیکن ٹرائل کورٹ نےایسا فیصلہ کیے بغیرشواہد کو ریکارڈ کیاجو قانون میں پائیدارنہیں ہیں؛ٹرائل کورٹ نےرابرٹ ولیم ریڈلےکی شہادت کوبھی نہیں سراہاتھا؛ صرف ان کیسزپر انحصار کیاگیا، جن کا عنوان ہےMuhammad Nawaz v. The State” [1996 P.Cr.L.J. 1250], “Allah Din and others v. Special Judge, Anti-Terrorism Court No.1 Lahore and others” [PLD 2008 Lahore]اور “ Raja Shamshad Hussain v. Gulraiz Akhtar and others” [PLD 2007 S.C. 564] بیوروکیلئےمحترم وکیل کےتضادات: 11. بیوروکی نمائندگی انتہائی قابل اور اہل وکلاءنےکی جن میں محمد اکرم قریشی، سپیشل پراسیکیوٹرنیب جہانزیب بھوروانا، ایڈیشنل پی جی اے نیب اورڈی پی جی اےنیب صفدرمحمد مظفرخان شامل تھے۔ ان کے دلائل کاخلاصہ یہ ہےکہ؛ سی آرپی سی کی شق 561-A کے تحت پٹیشن ٹھیک نہیں مورخہ 20.08.2018کےآرڈرپرنظرثانی نہیں کی جاسکتی اور اپیل کو سننا چاہیئے؛آرڈیننس کی سق9(b) ایک غیرمستثنیٰ شق سے شروع ہوتی ہے اوراس کے علاوہ سی آرپی سی کی شیکشن 426کے تحت پابندی عائد کرتی ہے، مذکورہ اختیار واضح طورپر ختم کردیاگیا؛ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ1997 میں بھی اسی طرح کی شق شامل ہے، مدعی کے حوالے سےمیرٹس کوخراب کیاگیاہے، آئین کےآرٹیکل 199کےتحت اختیارکااستعمال کرتےہوئےحقیقت کےمتنازع سوالات نہیں اٹھائےجاسکتے۔ اپیل کافیصلہ کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری مدعی اور اس درخواست پرہے جس میں سزا کی معطلی کامطالبہ کیاگیاہو؛ وہ ملزم جو تاخیر کاذمہ دار ہےاسے اُس کے کاموں کا فائدہ نہیں ہوسکتا؛ اس کیلئے اِن کیس پر انحصار کیاگیاجنس عنوان یہ ہے “Shahbaz v. The State” [1992 SCMR 1903]؛ ٹرائل کورٹ کے پاس مخصوص حقائق کی قیاس آرائی کااختیار محفوظ ہےاور اس حوالے سے قانون شہادت آرڈرکےآرٹیکل 129،125،122کےتحت ریفرنس بنایاگیا؛ اس کیلئے اِن کیسز پر انحصار کیاگیا Mian Muhammad Nawaz Sharif and others v. The State and others [PLD 2002 Karachi 152], “Abdul Karim Nausherwani and another v. The state through Chief Ehtesab Commissioner”2015 [SCMR 397 اور “Imran Ahmad Khan Niazi v. Mian Muhammad Nawaz Sharif, Prime Minister of Pakistan/Member National Assembly, Prime Minister’s House, Islamabadاور 9دیگر[PLD 2017 S.C. 265] سپریم کورٹ کی جانب سےخالدعزیزاور غنی الرحمان کےکیس میں بنایاگیاقانون اس کیس میں بھی نمایاں ہے؛ زیرغور کیس کےحقائق اورحالات مکمل طورپرمخلتف ہیں؛ مدعیوں نےٹرائل کورٹ کےسامنےپیش ہونےسےگریزکیااوروہ اپنےدفاع میں کوئی بھی موادپیش کرنےمیں ناکام رہےوہ حلف کےتحت گواہی دینےمیں بھی ناکام رہے؛ اس کیلئے اِس مقدمےپرانحصارکیاگیا “Hashim Babar vThe State” [2010 SCMR 1697] بیورو نےیہ کہاکہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس مدعیوں کی ملکیت میں ہیں اورلہذااسےثابت کرنےکا بوجھ بھی ان پر ہی ہے تاکہ وہ یہ اپنی آمدنی کاذریعہ اورحقائق دکھاسکیں کہ اس سےمطابقت نہیں رکھتے؛ 1993 میں مدعی نمبر1کے بچوں کا کوئی ذریعہِ آمدن نہیں تھا؛ والد بچوں کا فطری گارڈین ہے؛ ملزم کی جانب سے اختیار کیاگیا موقف تھاکہ وہ اپنے دادا پرمنحصر تھے یہ قابلِ قبول نہیں ہے؛ یہ ثابت کرنا ملزم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والد پر منحصر نہیں تھے؛ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پاکستان میں واقع نہیں ہیں اور لہذا خالد عزیز کیس اور غنی الرحمان کیس الگ ہیں؛ ایوان فیلڈ اپارٹمنٹس 01.06.1993، 23.07.1996اور 31.07.1995میں بالتریتب آف شور کمپنیوں کے ذریعےخریدےگئے تھے جن کے نام نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن انٹرپرائزز ہیں؛ مذکورہ جائیداد کی خریداری اور ملکیت مدعی نمبر1کے بچوں کے پاس ہے۔12. معزز وکیل نے ’’ عمران خان احمد نیازی بمقابلہ وزیراعظم پاکستان/رکن قومی اسمبلی پرائم منسٹرہائوس اسلام آباد میاں محمد نواز شریف اور 9دیگر‘‘[PLD 2017 SC 265]پر انحصار کیا؛ یہ دلیل دی گئی کہ مذکورہ فلیٹ جو ملزم کی ملکیت میں تھے یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پرہے؛ یہ بچے مدعی نمبر1پر منحصر تھے اور ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا؛ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے مذکورہ پراپرٹی ان تک وراثت کے ذریعے پہنچی؛ PW16کابیان جن کانام واجد ضیاء ہے، ان سے طویل جراح کے باجود وہ قائم رہے؛ 1999کےآرڈیننس کی شق 19ملزم کیلئےاس بات کو لازمی قراردیتی ہے کہ وہ بیوروکی جانب سے مانگی گئی معلومات فراہم کرے؛ مدعیوں نے اور مفرورافرادنے کوئی وضاحت نہیں دی؛ تجزیاتی چارٹ مدعیوں کےٹیکس ریٹرنزکی بنیادپرتیارکیاگیا؛ مدعی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس خریدنے سے متعلق اپنا موقف تبدیل کرتے رہے؛ انھوں نے سپریم کورٹ کے سامنے حقائق غلط بیان کیے؛ Ex.P.W.16/74 اور Ex.P.W.16/75 کی بنیاد پر مدعی نمبر2جن کانام مریم صفدر ہے ان کاکردار واضح ہوگیاتھا، یہ باہمی قانونی مدد کے ذریعےجےآئی ٹی نےحاصل کیے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2012میں مدعی نمبر2ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کابینفلش ائونرتھا؛ مدعی نمبر2 بغیرکسی ذریعہ آمدن کے ایون فیلڈ ریفرنس کا بینیفشل اُئونر تھا؛ آفشور کمپنیوں کے کیس میں ملکیت کاپتہ لگانا بہت مشکل ہے؛ متعلقہ قانون میں 2006میں ترمیم کی گئی اور لہذا، پٹیشنرنمبر2نے اپنے نام پر رجسٹرڈ شئیرسرٹیفیکٹ حاصل کیا؛ مورخہ 02.02.2006کی ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی اور جھوٹی ثابت کیاجاچکاہےاور اس حوالے سے ٹرائل کورٹ نے درست طورپرPW14کی گواہی پر انحصار کیا؛ قانون کایہ اصول واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جو جرم میں مدد کرنےیااکسانے کامرتکب ہو اسے بھی وہی سزا ملے گی جومرکزی ملزم کوملےگی؛ اس کیلئے اس کیس پر انحصار کیاگیا “Wajid Ali v. Mumtaz Ali Khan” [2000 MLD 1172]۔13. معزز وکلاء جو بیوروکیلئے کام کررہے تھے انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک غیررپورٹ شدہ کیس پر انحصار کیا جو2014کی سی پی نمبر1305بعنوان“Muhammad Arshad versus Tassaduq Hussain alias Mittu andothers”ہے یہ انھوں نے اپنے اعتراضات کو سپورٹ کرنے کیلئے کیا جب ایک خاص قانون شق کو ختم کرتا ہے جیسا کہ 1999کےآرڈیننس کی شق 9(b)، تب ملزم کو ضمانت پر رہا کیاجاسکتا ہے جب وہ عدالت کو مطمئن کرنے کے قابل ہوکہ ریلیف سے انکار کرنا شدید مشکلات کےبرابرہوگا۔ 14. تمام معزز وکلاءکو اپنے دلائل کاخلاصہ جمع کرانے کاموقع دیاگیا۔ ہر وکیل نے اپناتحریری کام جمع کرایا۔15. معزز وکلاء کو سنا گیا اور ان کی مدد سے ہی ریکارڈ ترتیب دیاگیا۔16. ان پٹیشنز کے ذریعے پٹیشنرز اپنی سزائوں کی معطلی کامطالبہ کررہے ہیں جو احتساب عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے انھیں دی۔ یہ تسلیم شدہ پوزیشن ہے کہ بیورونے1999کےآرڈیننس کی شق 9(a)(iv)کےتحت جرم کیلئےپٹیشنرزکی بریت کےخلاف اپیلوں کوترجیح نہیں دی نہ ہی اس نے سزا میں اضافے کا مطالبہ کیا اس حقیقت کے باجود کہ قانون میں تجویز کردہ زیادہ سےزیادہ سزا انھیں نہیں دی گئی تھی۔ احتساب عدالت نے کم سےکم سزادینے کیلئےفیصلے میں کوئی وجوہات نہیں دیں۔ اس حوالےسےہم نےبیوروکےوکلاءسےپوچھاکہ مخصوص جرم کیلئےپٹیشنرزکی بریت کے خلاف ایون فیلڈ اپارٹمنٹ سے متعلق شق 9(a)(iv)کےتحت کیوں کسی اپیل کو ترجیح نہیں دی گئی تھی اور جواب میں انھوں نے کہاکہ مخصوص جرم کے تحت دی گئی سزا سے بیورومطمئن تھا یعنی شق 9(a)( v)۔ پٹیشنزکوبرقراررکھنےپراعتراضات: 17. بیوروکےمعزز وکلاء نے پٹینشز کو برقراررکھنے پر اعتراض اٹھائےکہ مشقت کا کوئی کیس نہیں بنایاگیا۔ انھوں نےمورخہ 28.11.2014کےسپریم کورٹ کے ایک غیررپورٹ شدہ کیس پر انحصار کیابعنوان “Muhammad Arshad versus Tassaduq Hussain alias Mittu and others” اور2014 میں ان کے دلائل کی سپورٹ میں سی سی پی نمبر1305 میں پاس ہوا کہ انتہائی مشقت ریلیف دینے کیلئے ایک شرط ہےتاکہ سی آرپی سی کی شق 426کے تحت فراہم کردہ رہنمائی کے مطابق سزا کومعطل کیاجاسکے لہذا شق 9(b) اپنی نوعیت کی ایک ہٹا دینے والی شق ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ محض عارضی تعین کی بنیاد پر سی آر پی سی کی شق 426کے تحت انتہائی مشقت کی غیرموجودگی میں ریلیف نہیں دیاجاسکتا۔ یہ ذکرکیاگیاکہ سپریم کورٹ نے مذکورہ کیس میں اوسٹرکلاز کی تشریح کی جو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ1997میں دی گئی ہے۔ مذکورہ قانون زیادہ سے زیادہ موت کی سزادیتاہےجبکہ 1999کےآرڈیننس کےکیس میں جرائم کی سزا 14سال تک سخت قید اور جرمانہ ہوسکتی ہے۔ اب سے یہ قانون 1999کےآرڈیننس کی شق 9(b) کے حوالے سے بہتر ہے۔ سپریم کورٹ نے “Khan Asfandyar Wali and others v. Federation of Pakistan through Cabinet Division, Islamabad and others” [PLD 2001 S.C. 607]، کے کیس میں 1999کاآرڈیننس اور اس کے اختیارات دیکھنے کے بعدشق 9(b) کے حوالے سے قراردیاکہ یہ ٹھیک ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے پاس آئین کے آرٹیکل 199کےتحت ضمان دینے کااختیار ہے اور مزید قراردیاکہ 1999کےآرڈیننس کی شق 9(b) ، ہائیکورٹ کےدائرہ اختیار کو نکالتے ہوئے، آئین کاایک الٹرا وائرس ہے۔ سپریم کورٹ نے مستقل طورپر مذکورہ اصولوں اور قانون کی تصدیق اور اس حوالے سے اس کیس میں ریفرنس بنایاجاسکتاہے بعنوان“Muhammad Mehdi v. The State and 2 others”[2002 SCMR 282], “Abdul Aziz Khan Niazi v. The State through Chairman, NAB, Islamabad”[PLD 2003 S.C. 668], “Olas Khan and others v. Chairman, NAB through Chairman and others” [PLD 2018 S.C. 40], “Peer Mukaram Ul Haq v. National Accountability Bureau through Chairman NAB and others” [2006 SCMR 1225], “Dr. Abdul Quddus, Deputy Director, Pakistan Agriculture Research Council PARC), Rawalpindi v. The State” [2002 YLR 3996] and “Abdul Lateef Brohi v. National Accountability Bureau through Director General “ [2014 P.crL.J.334] 2006 SMCR 1225] محمد عارف محمد حسینی بنام عمان اللہ اور دیگر [2008 SCMR 1381] پیرمکرم الحق بنام چیئر مین نیب اور دیگر میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 199کے مطابق یہ بیورو کا کیس نہیں ہے، سزا معطل کرکے ملزم کو رہا کیا جائے اور 1999 کےآرڈینینس اور Cr.pc کے سیکشن 426 سے رہنمائی لی جائے۔ ان درخواستوں کی سمعت کے سلسلے میں [2016 SCMR 1325] صوبا خان بنام سٹیٹ اور دیگر کے کیس نہایت اہم ہے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، 1999 کےآرڈینینس کے مطابق اس کیس میں سزا کی معطلی کا اختیار ہائیکورٹ کے دائرہ اختیارنہیں آتا.18. Cr.pc 426کے تحت سزامعطلی کے قانون کو سمجھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ ان کے مطالعے سے ان درخواستوں کی سماعت میں مدد ملے گی، یہ متفقہ قانون ہے کہ Cr.pc 426 کے تحت ملزم کی سزا کی معطلی کے سلسلے میں گواہ شدید ترین جرح نہیں کی جاسکتی۔ اس صورت میں عدالت سزا معطل کرسکتی ہے جبکہ ماتحت عدالت کے فیصلے میں گواہوں کی بے جا تعریف کو قانون کے خلاف قرار دے دیا جائے، اس صورت میں سزا اور فیصلہ ختم کیا جاسکتا ہے ،سپریم کورٹ[2016 SCMR 1325] صوبا خان بنام سٹیٹ اور دیگر کے حالیہ فیصلے کے مطابق Cr.pc کا سیکشن 426 جو اختیارات کے استعمال سے متعلق ہے اس کیس میں بیان کیا گیا۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے اپیل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا معطل کردی تھی، اس کیس میں قرار دیا گیا کہ اپیل کورٹ یا ہائی کورٹ نے ملزم کے مجرم ہونے یا بے گناہی کے بارے میں واضع فیصلہ نہیں کیا، تاہم سپریم کورٹ نے شخصی آزادی کی اہمیت پر زور دیا اور قرار دیا کہ سزا کی معطلی کے زریعے ریلیف نہیں دیا جاسکتا اس کیلئے ایک موثر فیصلے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس کیس میں ریلیف کی اہمیت سے نکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس معاملے میں دی گئی سزا کا کا بعد میں ازالہ نہیں کیا جاسکتا، Cr.pc سیکشن 426 کے سب سیکشن 3 کے مطابق ایسے کیس میں ملزم کی سزا کے تعین کیلئے ملزم کی معطل کی گئی سزا، یا ضمانت کی مدت ملزم کو سنائی جانیوالی سزا سے علیحدہ سمجھی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے زور دیا کہ ہائی کورٹ اس کیس میں احتیاط کرے اور ثبوت اور گواہوں کی گہری جانچ کے بعد فیصلہ کرے۔ اگر کسی کیس میں ملزم کی ضمانت ہوسکتی ہے تو ایسی صورت میں ضمانت نہ ملنا ناانصافی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں خالد جاوید گیلانی بنام سٹیٹ کیس کا بھی حوالہ دیا۔19. ان اصولوں اور قوانین کی روشنی میں سپریم کورٹ نے اعلان کیا فاضل عدالت اپنے دلائل کو صرف سزا تک محدود رکھے اور سزا کی معطلی کے فیصلے پر ہمیں مطمئن کرے۔20. نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت عظمیٰ نے خضر عزیز سپرا کیس میں اصول وضع کیا کہ نیب آرڈیننس1999ء کے سیکشن 9(a)(vi)(vii)کے تحت مجرم کو چارج کیا گیا اس کیس میں بھی نیب احتساب کورٹ کے سامنے اچھامقدمہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی اور اسی اصول کو عدالت عظمیٰ نے پیر مظہر الحق وغیرہ بنام سرکارPLD20085SC63، سید قاسم شاہ بنام سرکار2009SEMR790، محمد صدیق فاروق بنام سرکار2010SEMR198، ہاشم بنام سرکار2010 SEMR1697 اور خالد عزیز بنام سرکار2011 SEMR136میں بھی دوبارہ اسی اصول پر زور دیا۔پچھلے کیس سپریم کورٹ نے سند ھ ہائیکورٹ کے ڈویژنل بنچ کے حاکم علی زرداری بنام سرکار2007 MLD910میں بھی اسی اصول کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔اگر ہم نیب آرڈیننس کے سیکشن 9(a)(v)کو سیکشن 14(C)کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو پراسیکیوشن کو 4بنیادی اصولوں کو پورا کرنا ہوتا ہے پہلا یہ کہ ملزم کے لیے ضروری ہے کہ وہ پبلک آفس ہولڈر ہو، دوسرا یہ کہ جو جائیداد اس کے قبضے سے برآمد کی گئی اس کی ہیئت کیا ہے اور کس حد تک ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ ثابت ہونا چاہیے کہ ملزم کے ظاہری اثاثہ کیا ہیں اور یہ چیز پراسیکیوشن نے اپنی تفتیش میں ثابت کرنا ہوتی ہے اور آخری یہ کہ یہ بالکل ثابت ہونا چاہیے کہ جو انکم اس کے سورس میں ہے یہ اثاثہ جات اس سے زیادہ ہیں، عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ غنی الرحمان سپرا کیس درخواست گزار کے مقدمہ سے مطابقت نہیں کرتا اور یہ بالکل علیحدہ کیس ہے۔انہوں نے واضع طور پر بار میں کہا اور تحریری طور پر بھی بیان کیا کہ جب سے ایوان فیلڈ اپارٹمنٹس کی کا قبضہ سامنے آیا ہے پروسیکیوشن نے اپنا سارا زور1999 کے ٓرڈینینس(c)سیکشن14پر ڈال دیا ہے، فیصلے کے سرسری جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ احتساب عدالت اس بات سے آگاہ تھی کہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی طرف سے بیان کیا گیا اصول اور قوانین درخواست گزار کے کیس میں لازمی اور متاثرتھے۔ یہ ایک تسلیم شدہ موقف ہے کہ پٹیشنر جرم کے حوالے سے 1999کےآرڈیننس کی شق 9(a)(iv)کے تحت بری ہوا ہے اور 9(a)(v) کے تحت اسے سزا ہوئی تھی ۔ 1999کےآرڈیننس کی شق 14(c) پہلے سے طے شدہ قانون کے برعکس ذمہ داری الٹ دیتی ہے کہ فوجداری مقدمات میں بغیر شک وشبےکےاپنا کیس ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ کی ہوتی ہے۔ پہلی بار سق 14 کی تشریح سپریم کورٹ نے اِ س کیس میں کی’’ خان اسفند یارولی اور دیربنام وفاقِ پاکستان بذریعہ کیبنٹ ڈویژن اسلام آباداور دیگر ]‘ [PLD 2001 S.C. 60اور یہ قراردیاگیاتھا کہ استغاثہ کو ابتدائی حقائق کو ثابت کرنا ہوگا ار بعد میں یہ کہ مدعاعلیہ کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اسے غلط ثابت کرے۔ انصاف کی محفوظ فراہمی کیلئے اور گُڈ گورننس کے مفاد میں سپریم کورٹ نے شق 14(d) کے سیاق و سباق میں کہا اور قراردیاکہ استغاثہ 1999کے آرڈیننس کی شق 9(a)(iv) اور (vii)کےتحت ملزم کے خلاف پہلے اچھا کیس بنائے گااور اگر استغاثہ اچھاکیس بنانے میں احتساب عدالت کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگیاتب ثابت کرنے کابوجھ منتقل ہوجائےگا، یہ ملزم پر ہو تاکہ بعد میں جرم کو رد نہ کیاجاسکے۔ استغاثہ کو مندرجہ بالا چار اجزا کو ثابت کرنا ہے اور اس کے بعد بار اپیل کنندہ کے طرف منتقل ہوجائے گا تاکہ اپنی پوزیشن واضح کرے جیسا کہ آرڈیننس کے سیکشن 14سی کے تحت مطلوب ہے۔21۔ قابل احترام سپریم کورٹ نے غنی الرحمن بنام قومی احتساب بیورو اور دیگر (پی ایل ڈی 2011 ایس سی 1144) کیس میں فصاحت کے ساتھ قانون اور اصول کو جمع کیا جس کا تعلق بار ثبوت سے ہے اور جسے ملزم کی طرف منتقل کرنے سے قبل استغاثہ کی جانب سے اٹھایا جانا چاہیے۔ لہذا متعلقہ حصوں کو یہاں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔یہ قانون اب طے پاتا ہے کہ قومی احتساب بیورو 1999کے سیکشن 9(a)(v)کے تحت جرم کا ارتکاب استغاثہ نے ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ وقت میں ملزم کے پاس آمدن کے معلوم ذرائع کیا تھے اور ملزم کے وسائل اور جائیداد اس کی معلوم آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، اور جب استغاثہ کی جانب سے یہ ثبوت دئے جا چکے ہوں اور ضروری تفصیلات فراہم کی جاچکی ہوں تو بار ثبوت ملزم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ ان وسائل اور جائیداد کا حساب دے کیوںکہ محض مالی وسائل یا جائیداد کی ملکیت جرم نہیں لیکن ایسے مالی وسائل یا جائیداد سے متعلق قابل اطمینان حساب کا نہ ہونا اس ملکیت کو قابل اعتراض بناتا ہے اور جس کے باعث جرم گردانا جاتا ہے۔ اس کیس میں جو زیر سماعت ہے، اپیل کنندہ کے ذرائع آمدن استغاثہ کی جانب سے کبھی بھی ریکارڈ پر نہیں لائے گئے اور نہ ہی انہیں کیس کے کسی بھی مرحلے پر شمار کیا گیا لہذا فاضل ٹرائل کورٹ کے لئے ممکن نہ تھا کہ کسی نتیجے پر پہنچے، یا یہ قرار دے کہ اپیل کنندہ، یا اس کے زیر کفالت افراد یا مذکورہ بےنامدار اثاثےاپیل کنندہ کے مالی وسائل سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اس کیس کے تحقیقاتی افسر اور وہ لوگ جو فاضل عدالت کے سامنے استغاثہ کے ذمہ دار ہیں ممکنہ طور پر اپنی سرار نااہلی کی وجہ سے مطلوبہ کام کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور یہ امر قابل افسوس ہے کہ فاضل ٹرائل کورٹ اور محترم اپیلٹ کورٹ نے موجودہ کیس کے اس حساس پہلو پر دھیان دینے میں ناکام رہیں۔یہ بھی مشاہدہ کیا گیا اور قرار پایا کہ اپیل کنندہ کے قابل احترام وکیل کی اس دلیل کو ہم نے جائز پایا کہ اپیل کنندہ کے خلاف فائل کیا گیا ریفرنس اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے جو الزامات ان پر لگائے گئے ان میں کہا گیا کہ اپیل کنندہ نے بطور چئیرمین ضلعی کونسل اور صوبائی وزیر اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے متعلقہ اثاثے اور مالی وسائل جمع کئے لیکن استغاثہ نے اپیل کنندہ کی جانب سے بطور چیئرمین یا صوبائی وزیر اختیاریات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے ایک بھی ثبوت ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ کیا تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور دولت یا اثاثے جمع کرنے میں کوئی تعلق ثابت کیا جاسکے۔ استغاثہ کی جانب سے مندرجہ بالا حوالے سے پیش کئے گئے ریکارڈ میں کسی بھی ثبوت کی مکمل عدم موجودگی کی وجہ سے فاضل عدالت یہ قرار نہیں دے سکتی کہ الزام جو کہ اپیل کنندہ پر عائد کیا گیا، استغاثہ کی جانب سے ثابت ہوگیا۔22۔ مندرجہ بالا اصول اور قانون کو خاص طور پر جرم کے اس سیاق و سباق کے حوالے سے بیان کیا گیا جس کی وجہ سے اپیل کنندہ پر فرم جرم عائد کی گئی اور سزا دی گئی، یعنی آرڈیننس 1999کا سیکشن 9(a)(v)۔بیورو کے فاضل وکلا سے بار بار پوچھا گیا کہ جرم کے حوالے سے مندرجہ بالا بیان کئے گئے اصول اور قوانین سیکشن 9(a)(v) اور 14(c)پر نظر ثانی کی گئی یا انہیں منسوخ کیا گیا۔ وکلا نے نفی میں جواب دیا تاہم ان کا موقف تھا کہ اس کیس میں نہ ہی اس سیکشن کی طرف دھیان گیا بلکہ یہ قابل شناخت تھا۔ ہم اس موقف کو سمجھ نہ سکے کیونکہ جرم کے حوالے سے مندرجہ بالا اصول اور قانون سیکشن 9(a)(v) اور 14(c)کے تحت واجب ہے اور احتساب عدالت کی طرف سے یہ اعتراف بھی فیصلے میں عیاں ہے۔ جیسا کے بعد میں تذکرہ کیا جائے گا، بیورو کے فاضل وکلا کی جانب سے یہ موقف احتساب عدالت کی تحقیقاتی افسر عمران ڈوگر، جو کہ بطور گواہ 18پیش ہوئے اور جن بر وکیل صفائی کی جانب سے اعتراض دائر کیا گیا، کی جانب سے ثبوت کے طور پر پیش کردہ ایک دستاویز پر انحصار کے بعد اختیار کیا گیا۔آیا مندرجہ بالا بیان کردہ اصول کی روشنی میں سزا کی معطلی کا کیس بنتا ہے، 23۔ آخر میں ہم فیصلے پر دھیان دیتے ہیں تاکہ غور کر سکیں کہ بادی نظر میں یہ فیصلہ بظاہر کسی قانونی کمی یا کمزوری کا شکار ہوا جس کے نتیجے میں مندرجہ بالا بیان کئے گئے اصول اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ایک عارضی رائے قائم کی گئی تاکہ اس نتیجے پر پہنچا جا سکے کہ آیا اپیل کنندہ کی سزا کی معطلی کا کیس بنتا ہے۔ فیصلے کو سادہ طور پر پڑھنےسے ظاہر ہے کہ، منجملہ اور چیزوں کے، ایک مخصوص الزام عائد کیا گیا اور اپیل کنندہ گان کا آرڈیننس 1999کے سیکشن 9(a)(iv)کے تحت ٹرائل کیا گیا۔ اپیل کنندہ گان پر جرم کے تحت الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو کرپشن، بدیانتی اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیا۔ فاضل احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ نے آرڈیننس 1999کے سیکشن 9(a)(iv)کے تحت کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا، لہذا ملزم کو اس سیکشن کے تحت بری کیا جاتا ہے۔ بیورو نے اپنی دانش میں مذکورہ بریت کو چیلنج نہیں کیا۔ اس رائے پر کوئی اعتراض نہیں کہ سیکشن 9(a)(v)کے تحت آنیوالا جرم منفرد ہوتا ہے۔ تاہم اپیل کنندہ نمر ایک کے وکیل صفائی کی جانب سے اٹھائی جانیوالی دلیل میں وزن ہے کہ خاص طور پر سیکشن 9(a)(iv)کے تحت الزام عائد کرتے ہوئے معزز احتساب عدالت کو غور کرنا چاہیے تھا کہ آیا اسی ثبوت کی بنیاد پر اور اسی جائیداد سے متعلق سیکشن 9(a)(v)کے تحت قانون کے افسانے کے ذریعے محض یہ گمان کر کہ سزا دی جاسکتی ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کرپشن اور بدعنوانی کے ذریعے حاصل کئے گئے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اولین تاثر کا سوال ہے اور فاضل احتساب عدالت کو قابل احترام سپرم کورٹ کی جانب سے واضح کئے گئے اس قانون پر غور کرنا چاہیے تھا جو غنی الرحمن سپرا کیس کے پیراگراف نمبر 8میں بیان کیا گیا۔ بیورو کے معزز وکیل اس امر کو ثابت نہ کرسکے کہ مذکورہ سوال اور قانون جو سپریم کورٹ کی طرف سے بیان کئے گئے، ان پر فاضل ٹرائل کورٹ نے غور کیا۔ 24۔ فاضل احتساب عدالت نے فیصلے میں درست طور پر قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے طے کئے قانون کی روشنی میں استغاثہ پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اپنی زمہ داری پوری کرتے ہوئے جرم کے چار اجزا سیکشن 9(a)(v)کے تحت ثابت کرے قبل اس کے کہ بار ثبوت ملزم پر ڈالا جائے۔ فاضل احتساب عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ نمبر ایک نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس 1993سے 1996کے درمیان حاصل کئے لہذا انہیں آرڈیننس 1999کا سیکشن 9(a)(v)کے تحت قرار دئے گئے جرم میں سزا دی۔ بیورو کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس، معزز ٹرائل کورٹ کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور خود فیصلہ اپیل کنندہ نمبر ایک کی اصل آمدن، ذرائع آمدن اور وسائل کی تفصیل کی طرف حوالہ نہیں دیتے تاکہ ان sy ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قیمت لگائی کر یہ الزام ثابت کیا جائے کہ ملزم نے معلوم ذرائع آمدن سے ہٹ کر انہیں حاصل کیا۔ اس حوالے سے رہنمائی سپریم کورٹ کی جانب سے غنی الرحمن سپرا کیس میں بیان کئے گئے قانون سے حاصل کی گئی۔اس سیاق و سباق میں فیصلے میں جس دستاویز کا حوالہ دیا گیا ہے وہ درخواست گزار نمبر 1 جیسے کہ ایکس 18/13 سے متعلق اثاثوں اور قرضوں کے چارٹ کا تجزیہ ہے۔ مذکورہ دستاویز کو نیب کے تفتیشی افسر مسٹر عمران کی جانب سے ثبوت کے طور پرپیش کیا گیاجو پی ڈبلیو-18 کے طور پر پیش ہوئے۔ اٹھائے گئے اعتراض پر اس وقت فیصلہ نہیں کیا گیا اور فیصلہ کے پیج نمبر 59 پر ویسی ہی بات نقل کی گئی جس کے مطابق ’’اعتراض کے تحت پہلی بات یہ ہے کہ یہ دستاویز اس گواہ کے ذریعے تیار نہیں کی گئی، دوسری بات یہ ہے کہ مسٹر واجد ضیاء پی ڈبلیو-16 کے طور پر جے آئی ٹی کے سربراہ کی حیثیت میں پیش ہوئے اور انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ دستاویز جے آئی ٹی نے تیار کی، ناہی انہوں نے اس دستاویز کی نمائش کی اور ناہی اپنے بیان حلفی کے دوران اس دستاویز کو پیش کیا اور اسلئے یہ دستاویز اس گواہ کے بیان میں قابل قبول نہیں‘‘۔ 25۔ تاہم فاضل ٹرائل کورٹ نے قلمبند کیا ’گفتگو میں دی گئی دلیل مسترد کردی گئی‘۔ اس سے قبل ہمارے سامنے اس بات کی تردید نہیں کی گئی کہ اس اہم دستاویز کو پیش کرنے والے گواہ نے جرح کے دوران یہ تسلیم کیا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں، ناہی اسے یہ معلوم ہے کہ اس دستاویز کو کب تیار کیا گیا اور کس نے کیا۔ ہم نے احتیاط سے اس فیصلہ کا جائزہ لیا لیکن دستاویز ایکس پی ڈبلیو 18/13 کو قابل قبول کی حیثیت میں رکھنے کیلئے فاضل احتساب عدالت کی جانب سے قلمبند دلیل نہیں ڈھونڈ پائے۔ قلمبند ثبوت پر غور کرنے کیلئے اس دستاویز کی شہادتی قدر و قیمت کا تعین ضروری تھا خصوصاً پی ڈبلیو 16 اور پی ڈبلیو 18 کی گواہی۔ ایک اور اہم سوال بھی ہے جسے درخواست گزار نمبر 1 کیلئے فاضل وکیل نے مختصراً اٹھایا کہ جب ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو مبینہ طور پر حاصل کیا گیا تو اس وقت ان کی قدرو قیمت کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ فیصلے میں اس پہلو کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ بیورو کیلئے فاضل وکلاء کو ہم نے کہا کہ ہمیں فیصلے میں متعلقہ حصہ دکھائیں یا کوئی بھی پیش کیا گیا ثبوت جو اپارٹمنٹس کی قدر و قیمت کی عکاسی کررہا ہو جب انہیں مبینہ طور پر حاصل کیا گیا جیسے کہ 1993 اور 1996 کے درمیان تاکہ قبل ازیں غنی الرحمان کے مقدمے میں معزز سپریم کورٹ کے ذریعے واضع کی گئی لازمی شرائط کو پورا کرے۔ ریکارڈ میں سے کوئی دستاویز یا فیصلے کا حوالہ دینے کی بجائے انہوں نے کہا کہ ان اپارٹمنٹس کی قدر و قیمت کو گوگل کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ فاضل وکلاء سے اس جواب کی توقع نہیں تھی جو قابل رشک پروفیشنل تجربہ اور قابلیت رکھتے ہیں کیونکہ ٹرائل کے فیصلے کے بعد ریکارڈ پر لائی گئی دستاویز کے علاوہ کوئی بھی دستاویز پر غور نہیں کیا جاسکتا یا اپیلٹ کورٹ مزید ثبوت ضابطہ فوجداری کی سیکشن 428 کے تحت لیتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ معزز سپریم کورٹ کی جانب سے قبل ازیں خالد عزیز اور غنی الرحمان کے مقدموں میں جن اصولوں اور قانون کی تشریح کی گئی وہ متاثر کن نہ تھے اور قابل امتیاز تھے۔ تاہم ان کے قابل مدد ہونے کے باوجود وہ اس حوالے سے کوئی معقول وضاحت نہیں دے سکے جبکہ درخواست گزار نمبر 1 کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس حاصل کرنے پر گرفتار کرلیا گیا اور 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن 9 اے سی کے تحت معین کئے گئے جرم کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اپیلوں کی سماعت پر ثبوت کے اندازے کے بعد 1999کے آرڈیننس سیکشن (v)(9کے تحت اس کے اجزا ہیں یا نہیں ،بلاشبہ اس کیلئے ثبوت کی گہری جانچ پڑتال کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس مرحلے پر کہ جب خود کو فرضی طور پر ثبوت میں ،اولین صورت ،اور اس کا خیال کہ یہ ہمیں نہیں دکھایا جاتا کہ اجزا خالد عزیز،سپرا اور غنی الرحمان ،سپرا کے کیسز میں سپریم کورٹ کی جانب سےقوانین او ر اصولوں کے مطابق ہیں ۔اس نکتے کا تعلق ثبوتوں کی گہرائی سے ہے جو کہ اپیلوں کی سماعت کے موقع پر ہوگا ۔یہ بنیاد اس اہم مرحلے پر ہوگی اور اولین صورت بنانے کیلئے ہے کہ فرد جرم قابل شواہد نہ ہوجائے ،26۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مذکورہ پٹیشن نمبر 1کی کونسل کیلئے دعویٰ بھی ہے کہ فیصلے کو پڑھنا اولین ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کا تعلق 1993تا 1996 کے درمیان ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے ملکیت سے ہے ،جیسا کہ بچے اس وقت میں زیر کفالت تھے ،مذکورہ وکیل کے مطابق یہ فائنڈنگزجو کہ مفروضے کی بنیاد پر ہے شہادت کا غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ ہے ۔بیورو کے وکیل نے کہا کہ اس کیس میں قواعد ایک خاص انداز سے بتائے گئے اوراس سے یقینی طور پر محفوظ انتظامی کرمنل جسٹس کے اطلاق نہیں ہوتا ۔اس لیے اس سے زیادہ کہ شک کا فائدہ بھی نہیں پہنچے گا ،تاہم وہ آرڈیننس 1999 کے تحت کرمنل جرم میں معقول وضاحت بھی نہیں دے سکے ۔سیریل نمبر 2 کے تحت پٹیشنر کا اعتماد ان ثبوتوں کی حمایت کرسکے گا ۔سزا کیلئے نوٹسز طلبی ریکارڈ کیے گئے انہیں پٹیشنرز کے نوٹسز میں نہیں ڈالا گیا جو کہ عدم تعمیل کیلئے پینل نتیجے کیلئے ہوگا ۔پٹیشنرز نے تسلیم کرتے ہوئے طلبی کے نوٹسزکا جواب دیا اور مذکورہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ فیصلے میںوجہ نہیں ہے جس سے اس معاملے میں ثبوتوں کی جانچ ہونی ہے ۔ 27۔ درخواست گزارنمبر۔ دو کے حوالے سے، اسے درخواست گزار نمبر۔ ایک کی اعانت مجرمانہ کے تحت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت چھپانے پر سزا دی گئی۔ انہیں دو فروری 2002کی ایک دستاویز بعنوان وقف نامہ کی بنیاد پر دفعہ۔ (a)9کی شق (Xii)کے تحت سزا سنائی گئی۔ معزز احتساب عدالت نے مذکورہ دستاویز کو جعلی قرار دیا۔ تاہم انہیں (خاتون کو) آرڈیننس 1999 کے شیڈول (a)9کے تحت سزا نہیں دی گئی۔ مذکورہ جرم کو 8 نومبر 2017کو فرد جرم سے خارج کردیا گیا۔ جس کے بعد نیا الزام عائد کیا گیا۔ مذکورہ تاریخ کو درخواست گزار۔ دو کے وکیل نے یہ درست کہا کہ احتساب عدالت جعلی اور جھوٹی گواہی پیش کرنے پر آرڈیننس 1999کی دفعہ۔30کے تحت کارروائی کرسکتی ہے۔ یہ استغاثہ کا کیس ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس درخواست گزار نمبر۔ایک نے 1993تا 1996کے درمیان حاصل کئے۔ یہ بھی استغاثہ کا کیس ہے کہ درخواست گزار نمبر۔ دو درخواست گزار نمبر۔ ایک کےزیر کفالت ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلے میں ایسی کسی شہادت کا حوالہ نہیں دیا گیا کہ درخواست گزار نمبر۔ دو نے درخواست گزار نمبر۔ ایک کی اعانت مجرمانہ کی ہو جب ایون فیلڈ اپارٹمنٹس 1993 اور 1996کے درمیان حاصل کئے گئے۔ وقف نامہ کو اسی وقت زیر غور لایا جائے گا جب اپیلوں کی سماعت ہوگی۔ درخواست گزار نمبر۔3کو وقف نامے میں گواہ ہونے پرسزا سنائی گئی۔ مزید یہ کہ دونوں پٹیشنرز کو سزائوں کا انحصار درخواست گزار نمبر۔ ایک کی سزا برقرار رہنے پر منحصر ہے۔ 28۔ مذکورہ بالا کی روشنی میں جو چشم کشا نقائض اور کمزوریاں فیصلے میں سامنے آئی ہیں، ہمارا ابتدائی موقف یہ ہے کہ سنائی گئی درخواست گزاروں کو سزائیں پائیدار نہیں ہوسکتیں۔ یہ ایک عارضی موقف ہے جو فیصلے کی کمزوریوں اور نقائض تک محدود ہے۔ جو فیصلے اور شہادتوں کے ابتدائی جائزے سے سامنے آئیں۔ جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ۔426کے تحت سزا کی معطلی پر غور میں ہم نے کوئی حتمی فائنڈنگز اور اپنے مشاہدے کا کوئی تجزیہ نہیں دیا۔ تجویز کردہ وقت میں اپیلوں کا فیصلہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی مقررہ وقت پیش نظر ہے۔ ہم ان اصولوںپر چلیں گے جو معزز عدالت عظمیٰ نے صوبہ خان بنام ریاست کیس میں طے کئے۔ لہٰذا 19ستمبر 2018کو جاری مختصر حکم نامے کے لحاظ سے درخواستوں کی اجازت دی گئی۔29۔نیب کے وکلاء نے اپنے دلائل میں عمران احمد خان نیازی بنام محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان کیس پر انحصار کیا۔ یہ انحصار سپریم کورٹ کے واضح مشاہدات کے عین مطابق نہیں لگتا۔ جو میاں محمد نواز شریف و دیگر بنام عمران احمد خان نیازی و دیگر کیس میں دیئے گئے۔ یہ دلیل کہ ہدایت جے آئی ٹی کی جانب سے جمع مواد کی واضح منظوری پر لاگو ہوتی ہے۔ جس کا استدلال پذیر ہونا ابھی باقی ہے۔ کسی بھی کیس میں ٹرائل کورٹ کو جے آئی ٹی کے جمع کردہ مواد سمیت شہادتوں کو اٹھانے کی آزادی ہوتی ہے۔ جو ٹرائل کورٹ کو پابند نہیں کرتے۔ یہ دلیل کہ ٹرائل کورٹ کو 6ماہ میں ریفرنس کا فیصلہ کرنے کی پابندی منصفانہ ٹرائل کے منافی نہیں ہے۔30۔ مذکورہ بالا مختصر فیصلے پر ہمارے تفصیلی دلائل ہیں۔ تفصیلی وجوہ ریکارڈ کرنے کے لئے درپیش پٹیشن میاں نواز شریف بنام نیب، مریم نواز شریف بنام نیب اور کیپٹن (ر) صفدر بنام نیب کو اجازت دی گئی۔ احتساب عدالت نمبر۔ ایک اسلام آباد نے جو سزائیں سنائیں، انہیں دائر اپیلوں کے حتمی فیصلے تک معطل کیا جاتا ہے۔ درخواستوں کو 5لاکھ روپے فی کس ضمانتوں پر رہا کردیا جائے۔ جبکہ اتنی ہی مالیت کے ضامن بانڈز ڈپٹی رجسٹرار (جوڈیشنل) کے پاس جمع کرائے جائیں۔