آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’اگر یہ کرسی پائیدار ہوتی تو تم تک کیسے پہنچتی‘‘آج پاکستان تحریک انصاف کو حکومت میں آئے ہوئے تقریباً 2ماہ ہو چکے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان صاحب کے 100روزہ پلان کی بڑی گونج تھی۔ توقع کی جا رہی تھی کہ پہلے سو دن میں تحریک انصاف کی حکومت کی سمت کا تعین ہو جائے گا مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر طبقہ حکومتی اقدامات سے پریشان نظر آتا ہے۔ بڑے سے بڑے سرمایہ دار سے لے کر تنخواہ دار تک اور ایک دکاندار سے ریڑھی بان تک، ہر شخص کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہیں۔ ملک کی معیشت سسکیاں لے رہی ہے۔ تبدیلی کا خواب دیکھنے والے سول افسران مایوس نظر آتے ہیں۔ پہلے ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ اور اب ایک ماہ پہلے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب کو ہٹانے سے سول افسران میں خاصی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ پنجاب میں افسران کو ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر تعینات کرنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ دار سرنگوں میں گھس رہے ہیں اور ایک روپے کا سرمایہ لگانے کو تیار نظر نہیں آتے۔ ہم سب کو مل کر اس صورتحال کا تدارک کرنا ہوگا وگرنہ وطن عزیز کا ناقابل تلافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں حکومت کے لئے دوماہ بعد ہی ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جائے جس میں آگے کنواں ہو اور پیچھے کھائی۔ حکومت جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے چلتی ہے، جذبات سے نہیں بلکہ برداشت سے کام لینا ہوتا ہے مگر ایسا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ سیاسیات کے طالبعلم اور جمہوریت کے داعی ہونے کے ناتے میری خواہش ہے کہ حالیہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کو تحریک انصاف اور عمران خان سے بے حد توقعات تھیں۔ میری خواہش ہے کہ عمران خان تمام توقعات پر پورا اتر سکیں۔ عوام نے عمران خان کو تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا تھا۔ انتخابات سے پہلے یہی سننے کو ملتا تھا کہ ایک موقع عمران خان کو بھی ملنا چائیے۔ آج عمران خان اس ایک موقع سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ وقت بہت کم ہے اور وعدے بہت زیادہ ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ پہلے دو ماہ میں ہی تبدیلی آ جانی چاہئے مگر سمت کا تعین ضرور ہونا چاہئے تھا جو کہ بدقسمتی سے اب تک نہیں ہوا۔ مگر پھر بھی عمران خان کو مناسب وقت اور کام کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے۔ گو کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان عثمان بزدار کو تبدیلی قرار دیتے ہیں مگر پھر بھی ابھی انتظار کرنا چاہئے لیکن دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کو بھی اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے اور ہر روز وہی غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں۔ ضرورت ہی نہیں ہے کہ نوزائیدہ حکومت اپنے آپ کو کسی نئی مشکل میں الجھائے اور اپنے لئے مزید پریشانیاں پیدا کرے۔ اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری ایک احمقانہ فیصلہ تھا۔ کسی عاقبت نااندیش مشیر نے مشورہ دیا کہ موجودہ حالات کا رخ موڑنے کا واحد حل یہی ہے کہ عوام کی توجہ کسی دوسرے بڑے مسئلے کی طرف مبذول کرا دی جائے۔ اسی حکمت کے تحت ایک کمزور کیس میں اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا گیا۔ بجائے یہ کہ عوام کی توجہ حکومتی پالیسیوں سے ہٹتی بلکہ اس گرفتاری نے حکومت کو مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری سے ایک ہی دن میں اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔ چند گھنٹوں میں سرمایہ داروں کے کئی سو ارب روپے ڈوب گئے۔ سرمایہ دار میں ایسا خوف پیدا ہوا کہ اسٹاک مارکیٹ سے تمام پیسہ نکال لیا گیا۔ ہر بزنس مین پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ گرفتاری ایک انتہائی ایکشن ہوتا ہے جس میں آپ کسی شہری کی نقل و حرکت کو محدود کرکے اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ ناقابل تردید ثبوتوں کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہونا چاہئے مگر سیاسی و معاشی اثرات کی پروا کئے بغیر ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ باقی رہی سہی کسر وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس نے پوری کر دی۔ اس پریس کانفرنس کا ہی اثر تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر چند گھنٹو ں میں 9روپے مہنگا ہو گیا۔ میری ذاتی رائے میں وزیراعظم عمران خان کو خود ایسے لہجے میں بات نہیں کرنا چاہئے تھی۔ جب ملک کا سب سے بڑا عہدیدار اس طرح بات کرتا ہے تو عام سرمایہ دار تو ویسے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو کے منہ سے یہ بات نکلنے کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، میرے بس میں ہو تو اب تک 50 لوگ گرفتار کر چکا ہوتا، کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ڈالر کی قدر کا نکلا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ صوبے کا آئی جی پریس کانفرنس کرے اور کہے کہ میں ہیلمٹ نہ پہننے پر کسی کو نہیں چھوڑوں گا، سب کو الٹا لٹکا دوں گا اور جو پولیس کے ہاتھ نہ آیا اسے گولی مارنے کا حکم جاری کروں گا۔ ایسی پریس کانفرنس سننے کے بعد موٹر سائیکل سوار تو ایک طرف گاڑیوں والے بھی سڑکوں پر نکلنا بند کر دیں گے اور سڑکوں پر سناٹا ہو گا۔ اس لئے کبھی بھی سب سے بڑا عہدیدار چاہے وہ کسی محکمے کا سربراہ ہو یا پھر ملک کا حاکم، اس لہجے میں بات نہیں کرتا کیونکہ سرمایہ کار تو اس کے چہرے پر اعتماد کرکے ملک میں آرہے ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا مداوا کرے گا لیکن جب وہی شخص کہے کہ آئی بی اور ایف آئی اے میرے ماتحت ہیں اور مجھے سب رپورٹس مل رہی ہیں۔ یہ باتیں سن کر تو اچھا بھلا شریف آدمی بھی اپنا گریبان جھانکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈالر کی قیمت کا آسمان پر جانا اسی پریس کانفرنس کا اثر ہے۔ میری کئی معاشی ماہرین سے بات ہوئی۔ اکثریت کی رائے ہے کہ آئی ایم ایف سے شرائط طے ہونے کے بعد ڈالر کے مزید مہنگا ہونے کے امکانات ہیں۔ ڈالر کی حالیہ قیمت میں اضافے کی وجہ ملک میں عدم استحکام ہے۔ آئی ایم ایف کا جھٹکا لگنا تو ابھی باقی ہے۔ اسی طریقے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے جونہی ڈی پی او پاکپتن کا کیس نمٹایا، وفاقی و صوبائی حکومت نے صلاح مشورہ کرکے چند گھنٹو ں بعد ہی آئی جی پنجاب تبدیل کر دیا حالانکہ عمران خان کے پسندیدہ ناصر درانی اپنی مرضی سے طاہر خان کو آئی جی پنجاب لائے تھے مگر اطلاعات ہیں کہ انہیں مبینہ طور پر حکم عدولی پر ہٹایا گیا ہے۔ تحقیقات ہونی چاہئیں کہ آئی جی پنجاب نے صوبائی حکومت کی کونسی حکم عدولی کی ہے کیونکہ بطور سو ل سرونٹ ان کے لئے قائد کی ہدایت موجود ہے کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں اور عوام کے خادم ہیں، آپ نے پولیٹکل ماسٹر نہیں بننا۔ اگر تو آئی جی پنجاب نے ناجائز احکامات ماننے سے انکار کیا ہے تو یہ سب کے سامنے آنا چاہئے کیونکہ طاہر خان کی عمومی شہرت بہت اچھی ہے۔ ان کے مخالف بھی ان کی ایمانداری اور شرافت کی تعریف کرتے ہیں۔ ایسے شخص کو بغیر کسی وجہ کے ہٹانا افسوسناک ہے۔ ویسے تو چیف الیکشن کمشنر نے ان کی تبدیلی کا عمل روک دیا ہے مگر اس ساری صورتحال میں ناصر درانی کا استعفیٰ ایک غیر معمولی ایکشن ہے۔ عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں ناصر درانی کا ذکر کیا تھا۔ اگر ایسا شخص دلبرداشتہ ہو کر مستعفی ہو گیا ہے تو پھر تبدیلی سب کے سامنے ہے۔ مگر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ عمران خان کو اللہ نے موقع دیا ہے تو ہمیں بھی ملک کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان سکون سے بیٹھ کر بالا معاملات کا ازسرنو جائزہ لیں تو مستقبل میں ایسی غلطیوں سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ وگرنہ سول افسران، عوام اور سیاسی جماعتوں کی بے چینی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، کیونکہ حضرت علیؓ نے ہی فرمایا تھا کہ اگر یہ کرسی پائیدار ہوتی تو تم تک کیسے پہنچتی؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں