آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روہڑی کا پہاڑی سلسلہ آثار قدیمہ کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ روہڑی اور سکھر کی پہاڑیاں مختلف ادوار میں تاریخی و ثقافتی ورثے کا مرکز رہی ہیں۔ اس کے گرد و نواح میں اب بھی تاریخی آثار، عمارات موجود ہیں، جن میں عہدِ مغلیہ کی عمارت یکثر نمایاں ہیں۔ایسے ہی آثار میں سے ایک روہڑی کی ’’اورنگزیب مسجد‘‘ بھی ہے۔مگر بد قسمتی سے اس پر زیادہ تحقیق یا مطالعہ نہیں کیا گیا۔

روہڑی شہر کے جنوب اور ریلوے اسٹیشن کے مشرق میں ریلوے لائن اور قومی شاہراہ کے بیچوں بیچ ایک زبوں حالی و خستہ مٹی کا قلعہ سا بنا ہوا ہے، جو کوٹ میر یعقوب علی شاہ کے نام سے موسوم ہے، وہ بکھر کے مغل نواب تھے۔ اس کچّے قلعے کے اندر ریلوے لائن کی جانب ایک پہاڑی ٹیلے پر بہت ہی بڑی اور شان دار کچی عمارت کھڑی ہے، جو ریلوے لائن اور قومی شاہراہ پر سے گزرتے ہوئے بہ خوبی دیکھی جاسکتی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں اس عمارت کو’’ مسجد اورنگزیب یامیر یعقوب والی مسجد ‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دُہرے نام کا سبب یہ ہے کہ مسجد ،اورنگزیب عالمگیر کی ہدایت و احکامات پر بکھر میں مقیم ان کے نواب میر یعقوب علی شاہ نے تعمیر کروائی تھی۔

بکھر قلعے کی فتح کو یادگار بنانےکے لیے اورنگزیب عالمگیر نے ایک عظیم الشان جامع مسجد کی تعمیر کے احکامات دئیے، جن پرنواب بکھر میر یعقوب علی شاہ رضوی نے فوری طور پرعمل درآمد شروع کر وادیا۔کہا جاتا ہے کہ 677ھ میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی تھی۔ یعنی ٹھٹھہ والی مسجد شاہجہانی کی تعمیر سے ٹھیک چوتھائی صدی بعد ۔اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی مسجد کے آثاراپنی وسعت ، اراضی اور کوٹ نما چہار دیواری کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوئے ہیں۔ بہ قول ہنری کزنس’’ یہ کھنڈرات اب اتنے خستہ حال ہوچکے ہیں کہ نگہداشت یا تحفظ وغیرہ کے قابل نہیں رہے، لیکن ان کھنڈرات کو موجودہ شکل و حالت میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے، یا کم از کم ان کو مزید خستہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ‘‘موجودہ ڈھانچے کی بنیاد پر اس عمارت کا ماڈل(لکڑی یا میٹل کا) بھی بنایا جاسکتا ہے۔ زیادہ کشادہ چار دیواری اور احاطے والی اس عمارت کا رقبہ 150x100 فیٹ ہے، جو کم و بیش ٹھٹھہ والی شاہجہانی مسجد کے برابر ہے، جس کا رقبہ 169x97فیٹ ہے۔ یہ پوری عمارت کچی اینٹوں کی چنائی سے تعمیر کی گئی ہے، جو بناوٹ کے لحاظ سے یکتا و بے نظیر ہیں۔ ایسی اینٹیں سندھ میں کہیں بھی کسی عمارت میں نہیں پائی گئیں ۔ ہر اینٹ کا سائز2x2فیٹ اورموٹائی صرف ایک انچ ہے۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے اوپر والی محراب کی ساخت میں البتہ پکی اینٹیں استعمال کی گئیں ہیں۔پکی اینٹوں کی ساخت اور سائز وہی ہے، دورِ مغلیہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ مغرب میں نماز کے لیے ڈھکی ہوئی عمارت دو حصوں میں منقسم ہے۔ اندرونی مغربی حصہ یکساں رقبے والے کمروں میں تقسیم شدہ ہے، جن میں سے وسطی کمرے میں محراب و منبر بنے ہوئے ہیں۔ یہ کمرے کی حد تک چوکورہیں، ان کے اوپر تین بڑے گنبدوں کے شکستہ آثار اب بھی نظر آتے ہیں۔ گنبدوں کے نیچے محرابیں ایک دوسرے سے ایسے کراس کرتی ہیں کہ شہد کے چھتے کاسا منظر لگتا ہے۔ گنبدوں والے کمروں سے آگے والاڈھکا ہوا حصے میں ایک چھت والا دالان نظر آتا ہے، جس کے مشرق میں وسیع اور کھلا صحن واقع ہے۔ اس دالان کی دونوں جانب کونوں پر یعنی شمال اور جنوب میں دو بڑے میناروں کا خستہ حال اور شکستہ ڈھانچہ اب بھی دیکھا جا سکتاہے۔ ان کی لمبائی گردش حالات کی وجہ سے30-35فیٹ تک باقی رہ گئی ہے۔ صحن کے بیرونی دروازے والی عمارت سے لے کر اندرونی دالان والے میناروں تک دونوں جانب چھوٹے حجروں کی قطار ہے، جن کی چھت پر چھوٹے چھوٹے گنبد سایہ کنعاں ہوتے تھے، مگراب صرف ان کےآثار باقی ہیں۔ یہ حجرے شاید مسجد کے ساتھ ملحق مدرسے کے طالبوں کے لیےاقامت گاہ کا کام دیتے ہوں گے۔ حجروں کی قطاروں، ڈھکے ہوئے حصے اور بیرونی داخلی عمارت کے حلقے میں ایک کشادہ اور وسیع مستطیل شکل کا صحن ہے۔ جس کے بیچوں بیچ کبھی ایک بڑا حوض ہوتا تھا۔ درمیان میں ایک کمرہ ہے، جس کا مشرقی دروازہ باہر کی جانب کھلتا اور مغربی دروازہ مسجد کے صحن کی طرف کھلتاہے،اس کمرے کے اوپر بھی بڑا گنبد ہوتا تھا۔ جس کے کچھ حصے اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں، اس بیرونی گزرگاہ والے اہم ہال کے دونوں طرف ایک چھوٹاکمراہے، جس کے اوپر بھی کبھی دو گنبد بنے تھے۔ ان تینوں گنبدوں کی ساخت اور طرزِ تعمیر بھی وہی ہے جو اندرونی عبادت والے کمروں کے گنبدوں کی ہے۔اس بیرونی داخلی عمارت کے دونوں کناروں پر یعنی شمال اور جنوب میں دو مینار اس اور ساخت کے ہیں، جو اندر والے دالان کے ساتھ والے میناروں کی ہے۔ آج بھی انہیں دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ مینار جب اپنی اصلی حالت میں ہوںگے، تو کتنے پُر کشش اورشان دارہوں گے۔ یہ مینار ہی مسجداورنگزیب کو تعمیر کے لحاظ سے شاہجانی مسجد ٹھٹھہ سے نمایاں اور منفرد بناتے ہیں۔ ان میں سے بیرونی گزرگاہ والے میناروں کی سیڑھیاں اب بھی اسی حالت میں ہیں کہ ان پر چڑھا جاسکتا ہے۔

روہڑی کی سرزمین پر موجود آثار و شواہد بتاتے ہیں کہ اس مسجد کی بنیاد پتھر سے رکھی گئی تھی، بعد ازاں چنائی پکی اینٹوں سے (تقریباً ایک فیٹ) کی گئ اور باقی ساری عمارت کچی اینٹوں کی چنائی سے تعمیر ہوئی ۔ اندرون خانہ دیواروںکو کاشی کی اینٹوںسےسجایا گیا ہے۔ نماز کے کمروں اور بیرونی داخلے والے کمروں میں اب بھی کہیں کہیں کاشی کی نیلے رنگ کی اینٹیں دور سے چمکتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ باقی اکثر دیواریں اس آرائش کے زمانے کی ستم ظریفی اور اپنوں کی بے توجہی کی وجہ سے محروم ہوگئی ہیں۔ مرکزی محراب کے اوپر والی کاشی کی گرل اب بھی سلامت ہے۔ مسجد کی دیواروں پر جپسم اور چونے کا پلستر کیا گیا ہے، جو اب صرف ایک دو جگہ ہی نظر آتا ہے، باقی سارا ختم ہو چکا ہے۔ یہ عظیم ثقافتی ورثہ مسلسل بے توجہی کا شکار رہا۔مقتدر حلقوں سے تو کوئی کیا ہی شکایت کرے، جب مقامی لوگ ہی اس جگہ کی اینٹیں نکال کر لے گئے اور اپنے مکانات اور آباؤ اجداد کی قبروں پر لگا دئیے۔ بہر حال آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ اورنگزیب مسجد اس نہج تک کیسے پہنچی۔ اگر اس آثارِقدیمہ کو محفوظ بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے ، تو اپنے وجود کا یہ خاموش ثبوت خود زمیںبوس ہوجائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں