• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز میں ابتدائی مرحلے کے بریسٹ کینسر کی تشخیص

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز میں ابتدائی مرحلے کے بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغام میں سوزی وائلز کو مضبوط اور باہمت خاتون قرار دیتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق سوزی وائلز نے بیماری کے خلاف فوری طور پر علاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابتدائی مرحلہ کیا ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے کے بریسٹ کینسر کی عموماً اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب رسولی صرف چھاتی تک محدود ہو یا قریبی لمف نوڈز تک معمولی حد تک پھیلی ہو۔

ابتدائی مرحلے میں اسٹیج زیرو، اسٹیج ون اور بعض اوقات اسٹیج ٹو شامل ہوتے ہیں، اس مرحلے میں تشخیص ہونے کی صورت میں علاج کے نتائج نسبتاً بہتر ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسٹیج ون بریسٹ کینسر میں 5 سالہ بقا کی شرح تقریباً 90 فیصد تک ہو سکتی ہے جبکہ اسٹیج فور میں یہ شرح نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔

علامات کیا ہو سکتی ہیں؟

بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات میں چھاتی یا بغل میں گلٹی، چھاتی کے سائز یا شکل میں تبدیلی، جلد میں سلوٹ یا گڑھا پڑنا، غیر معمولی اخراج، اردگرد سرخی یا خشکی شامل ہے۔

مسلسل درد

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی تاہم کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

خطرے کے عوامل

بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھانے والے عوامل میں بڑھتی عمر، خاندانی تاریخ، جینیاتی تبدیلیاں جیسے کہ بی آر سی اے ون اور بی آر سی اے ٹو، ہارمونل عوامل، موٹاپا، الکوحل کا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

بروقت تشخیص کے لیے میموگرافی سب سے مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسکریننگ کے ذریعے شرحِ اموات میں تقریباً 20 فیصد تک کمی ممکن ہے، الٹرا ساؤنڈ اور بائیوپسی بھی تشخیص کے اہم ذرائع ہیں۔

40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے باقاعدہ اسکریننگ کی سفارش کی جاتی ہے۔

علاج کے طریقے

ابتدائی مرحلے کے بریسٹ کینسر کا علاج مرض کی نوعیت کے مطابق کیا جاتا ہے جن میں سرجری (لمپیکٹومی یا ماسٹیکٹومی)، ریڈیو تھیراپی، ہارمون تھیراپی، کیمو تھراپی اور ٹارگٹڈ تھیراپی شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جَلد تشخیص ناصرف علاج کو مؤثر بناتی ہے بلکہ زیادہ سخت علاج کی ضرورت کو بھی کم کر سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید